ریمنڈ ڈیوس جس نے ہمارے دو جوانوں کو سرِ عام روندا ۔اُس نے کتاب لکھی جس میں اُن ہستیوں کا زکر کیا جنہوں نے اُسے رہائی دلائی جو اُسکی پھانسی کو ختم کرنے کے حصے دار بنے ۔کیونکہ ہمارے ملک میں قتلِ عمد کی سزا پھانسی ہے ۔لیکن افسوس یہ سزا امریکیوں کے سامنے اآتے ہی تبدیل کر دی جاتی ہے دیت میں ۔ا یہ قانون ہمارا اُسے کون بتاتا ہے ہم یہ سوال بھی کرنا چاہتے ہیں ا؟ ہم یہ بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہمارے یہ مذہبی احکام جن کا اُسے کیا اُس کی ساری قوم کو دور دور پتہ نہیں ہوگا کون اُس کے کان میں بتاتا ہے کہ خوں بہا دے دے ،اور جا عیش کر مگر ہمارا خیال رکھنا ؟؟؟؟ وہ بھی حٰران پریشان ہماری حبُالوطنی کی داد دیتا ہوگا کہ واہ واہ کیا حاکم ہیں اور کیا قوم ہے کہ اپنے جوانوں کے خون کا سودا غیر ملکی سے کرتی ہے ۔ہم ان معاملات کو زیادہ نہیں جانتے مگر ایک پاکستانی کی حیثیت سے ہم اُن تمام اپنے ہم وطنوں سے سوال کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے ریمنڈ کو پیسے دے کر چھڑوایا اور جہاز میں بٹھا کر آزادی کا پروانہ دے کر جس پر وہ اپنی کتاب میں خود حیرت کا اظہار کر رہا ہے ، اُسے اُس کی سرزمین پر بھیجوایا

کیا وہ عافیہ صدیقی کو بھی اسی طرح واپس نہیں لا سکتے؟؟ وہاں کے لوگوں کو وہاں کی عدالتوں کو وہاں کے جیل حکام کوان کے کسی قانون کے مطابق پیسہ دے کر؟؟ کہ وہ قوم کی بیٹی ہے جو سالوں سے وہاں جیل میں ہے جسے اب شاید یہ ہی امریکہ کے ہمدرد بھول بھی چکے ہیں ۔افسوس ہمارے کیسے کیسے چہرے ہمارے سامنے آتے ہیں جس کا جتنا چاہے ہمیں شرمندہ کرے کہ ہماری قومی حمئیت اور ہماری قومی محبت کو ان جیسے ناموں نے تہہِ تیغ کر دیا ہے اور کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ۔ یہاں ہم اپنا ایک شعر لکھنا چاہتے ہیں جو ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے ۔خوشبوئیں ڈال ڈال جسموں پر خود سمجھیں ہیں عطر جیسا بھی ۔۔۔۔۔۔ کتنی بَد بُو چُھپی ہے ذہنوں میں کیا کبھی سوچتا ہے کوئی بھی ؟

ہمیں افسوس ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کیا اور بھی کوئی ہمارے ان بڑوں ،سرمایہ کاروں ،کرپشن کرنے والوں ،۔ملک کو لوٹنےاور کھُل کھیلنے والوں کے بارے میں اور بھی راز کھول دے گا تو ہمارے کان پر جوں بھی نہیں رینگے گی ۔اور کسی ملک کے بارے میں کسی کتاب میں اُن کے لوگوں کے بارے میں ایسی باتیں آجاتیں تو پوری قوم نکل پڑتی اُنہیں مزا بتانے کو مگر ہماری قوم بہت برداشت والی ہے وہ کسی بھی ملکی ۔یا قومی محاز کے لئے آواز اُٹھانا شاید پسند نہیں کرتی اُن لوگوں کے انتظار میں رہتی ہے جو کسی نہ کسی فائدے کے لئے اُنہیں استعمال کرے وگرنہ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ریمنڈ ڈیوس کو کس نے نکال لیا ۔کس طرح اُس خاندان کے لوگوں کو ملک سے باہر رہائش کا پروانہ ملا یا وہ سارا خاندان کہاں ہے ۔یقینا“ امریکہ کا نام ہی نام کے ساتھ لگ جائے تو ہمارے سروں پر ھُما بیٹھ جاتا ہے ۔ پھر ہمیں نہ بیٹے کا خون یاد رہتا ہے نہ بھائی کی لاش ۔نہ شوہر کا چہرہ یاد رہتا ہے نہ باپ کا سایہ ۔اس کتاب میں درج باتیں سننے کے بعد ہمیں تو ایسا ہی لگا ۔اور ہم یہ سوچنے پر بھی مجبور ہوئے کہ ہم اخلاق کی کن حدوں پر کھڑے ہیں شاید وہاں جہاں ہوا کا ایک ہلکا ساجھونکا بھی ہمیں نیچے گڑھے میں گرا نے کو کافی ہوگا ۔

لیکن اب حالات بدل رہے ہیں لوگ اپنا اچھا برا سمجھ بھی رہے ہیں اور سوچ بھی رہے ہیں ،ہمیں امید ہے بلکہ یقین ہے کہ اب کوئی ریمنڈ ڈیوس ہمارے جوان کو مار کر یا ہمارے خلاف کوئی بھی کام کر کے جا نہیں سکے گا ۔۔کیونکہ ہمارے خوف جو ہمارے بڑوں نے ہم پر مسلط کئے تھے اب ختم ہو جائینگے۔ اور اگر اب نہیں تو پھر شاید کبھی بھی نہیں ۔موقعے بار بار نہیں آتے قومیں وہ ہی بنتی ہیں جو صحیح وقت پر اپنا تجزیہ کرتی اور اپنے لئے راہیں بناتی ہیں ۔خود کو تبدیل کرنے کے لئے ۔ حالات نہیں بنتے حالات بنانے پڑتے ہیں وقت سے فائدہ اُٹھانا پڑتا ہے ۔ورنہ سونے والوں کو اور اتنی گہری نیند سونے والوں کو اُٹھانا کسی کے بَس کی بات نہیں ۔لیکن ہمیں لگتا ہے کہ ہماری قوم جاگ جائیگی ۔ وہ اب اپنے لئے راہیں خود بنائیگی ۔بہت کھیل لئے اِن جاگیر داروں وڈیروں اور کرپشن اور بے ایمانی کرنے والوں ہاتھوں میں ،اب اپنے ہاتھ کھولو کہ تقدیر تمہاری مُٹھی میں ہے ۔نکل کھڑے ہوان تمام برائیوں کے خلاف اور اپنے ملک کو ان بیرونی اور اندرونی لُٹیروں سے پاک کرو ۔

ہم تو کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ایک قانون بنا نا چاہئے کہ کہ کوئی بھی پبلک ہولڈر اپنی کوئی جائیداد کسی بھی بیرونی ملک میں نہیں بنا سکتا اور اگر اُس کی کوئی جائیداد ملک سے باہر ہے تو وہ الیکشن جیتتے ہی اُسے فروخت کر کے ملک میں پیسہ لائیگا اور یہاں رکھے گا ۔ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ پھر الیکشن میں صرف ملک سے وطن سے محبت کرنے والے ہی رہ جائینگے اور ہم سب ہی تبدیلی دیکھینگے ایک ایسی تبدیلی جس کے ہم سب ابھی تک خواب دیکھ رہے تھے ۔
ہماری دعا ہے کہ ہمارے خوابوں کی تعبیر ہمیں ملے انشاء اللہ

SHARE

LEAVE A REPLY