لندن . سید کوثر کاظمی ۔ 13 جولائی 1931 ڈوگرہ راج کے ہاتھوں 22 کشمیری نوجوانوں کی شہادت کی یاد میں بھارتی سفارت خانے کے باہر کشمیر کمپین برطانیہ نے شمعیں روشن کرنے کا اہتمام کیاجس میں پاکستانی اور کشمیری کیمونٹی کی بڑی تعداد شریک  ہوئی اور عہد کیا گیا کہ کشمیر کی آزادی تک جدوجہد جاری رہے گی

راہنما کشمیر کیمپین برطانیہ صحاف کشمیری نے بتایا کہ ایک آذان مکمل کرتے ہوۓ 22 کشمیری نوجوانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا اور وہیں سے تحریک آزادی کشمیر کا آغاز ہوا

دوسری طرف کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یو م شہدائے کشمیر اس عزم کی تجدید کے ساتھ منا یا کہ وہ اپنے ناقابل تنسیخ حق ،حق خود ارادیت کے حصول تک شہداء کے مشن کو جاری رکھیں گے ۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال ہے ۔ نقشبند صاحب سرینگر ،جہاں 1931کے شہداء دفن ہیں ،کی طرف مارچ کیاجائے گا جس کی کال سید علی گیلانی،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی ہے

۔ 13جولائی 1931کوڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج نے سرینگر سینٹرل جیل کے باہر یکے بعد دیگرے 22کشمیریوں کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ہزاروں لوگ عبدالقدیر نامی ایک شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر جیل کے احاطے میں جمع ہو ئے تھے۔ عبدالقدیر نے کشمیریوں کو ڈوگرہ راج کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کیلئے کہاتھا ۔

دریں اثنا کٹھ پتلی انتظامیہ نے نقشبند صاحب کی طرف مارچ اوربھارتی فوجیوں کے ہاتھوں گزشتہ روز ضلع بڈگام میں تین کشمیری نوجوانوں کی شہادت پر احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے سرینگر اور بڈگام کے علاقوں میںکرفیو نافذ کر دیا ہے۔ فوجیوں نے جاوید شیخ، دائود احمدا ور عاقب گل نامی نوجوانوں کو ضلع کے علاقے ریڈبگ میں محاصرے اور تلاشی کی ایک پر تشدد کارروائی کے دوران شہید کیاتھا۔انتظامیہ نے سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد یاسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، محمد اشرف صحرائی اور دیگر حریت رہنمائوں کو مارچ کی قیادت سے روکنے کیلئے گھروں ، تھانوں اور جیلوں میں نظر بند کر دیا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY