پاکستاں کے صدر ِ محترم بڑے بھولے بھالے آدمی ہیں، مگر ہیں روشن ضمیر؟ یہ ضمیر بھی عجیب چیز ہے کہ نمک کی کان کی طرح جو اس میں گر جائے وہی بن جاتا ہے۔ اسے نفس سے بھی تشبیہ دیتے ہیں! اگر نفس کے ساتھ “امارہ“ لگادیں تو انسان ساری برائیوں کا سر چشمہ بن جاتا ہے؟ اگر میانہ روی اختیار کرے تو یہ انسان کی غلطیوں پر اسے ملامت کرتا رہتا ہے لہذا “نفسِ لوامہ“ کہلاتا ہے اور اس کی ملامت پر انسان کان دھرے تو وہ اللہ سے ڈرنے لگتا ہے۔ تو وہی “نفسِ مطمعنہ“ کہلاتا ہے۔ اور اس کا ضمیرروشن ہوجاتاہے۔ ہم یہا ں جو واقعہ سنانے جا رہے ہیں وہ اس آخری قسم پر دلالت کرتا ہے ۔ یہ اس کی دین ہے کہ جسے چاہے ہدایت دے کہ انہوں نے آج سے ڈیرھ سال پہلے یہ فرمایا کہ“ یہ پناما نہ جانے کس کس کے پردے چاک کریگا“ اور اب جاکر وہ بات سو فیصد نہ سہی تو کچھ فیصد تو ضرور سچ ثابت ہو گئی اور اس طرح ان کی روشن ضمیری مسلمہ ہو گئی ۔اکثر لوگوں نے اس وقت اس کے حوالے دیئے کہ صدرِ محترم نے یہ کیافرما دیا اور اس کا ضمیر صرف ونحو کے حساب سے کس کی طرف تھا؟ مگر اب وہ معمہ ، معمہ نہیں رہا۔ آج ہر ایک جان رہا ہے۔ مگر جاننے کے باوجود بھی اس کا ضمیر جن کی طرف ہے وہ اسے ماننے کو تیار نہیں ہیں۔

ہم نے پا کستان کے ا بتدائی دور1956 ءمیں ایک وزیر اعظم کو خود سے جا تے ہوئے دیکھا جن نام چودھری محمد علی مرحوم تھا ۔اسوقت دار الحکومت کراچی میں ہواکرتا تھا اور انہوں نے دوکام ایسے کیے تھے کہ ان پر قوم کو ناز کرنا چاہیئے تھا۔ پہلا تو یہ تھا کہ انہوں نے 1956 میں قوم کو اسلامی آئین بناکر دیدیا ،جو ان سے پہلے دستور ساز اسمبلی بناتے بناتے جب بوڑھی ہوگئی تو اس وقت کے گورنر جنرل نے جوخود اپاہج تھے اسے فارغ کردیا ۔ دوسرا یہ تھا کہ غیر تسلیم شدہ علاقے کے مہاجروں کی ہمدردی میں دبلے تو سب ہوئے اور زبانی جمع خرچ سے لوگ ان میں ہر دل عزیز بھی بہت ہو گئے، لیکن سب نے اپنا الو سیدھا کیا اور کرتے رہے مگر کسی نے ان کے لیے کچھ کر کے نہیں دیا انہوں نے “ نا ن اگریڈ ایریا ریہیبلیٹیشن اینڈ کم پنسیشن ایکٹ 1956 بنا کر دیدیا کہ لو اب تم بھی کلیم کرسکتے ہو؟ ان کے پاس پاکستانی روایات کے مطابق وزارت عظمیٰ کے ساتھ مسلم لیگ کی صدارت بھی کے پاس ہونا چاہیئے تھی ان کی ا س پر سردار عبد الرب نشتر مرحوم سے ٹھن گئی۔
اُنہیں مہاجروں نے ان کے بنگلے پر جاکر نشتر صاحب کے حق میں احتجاج کیا تو انہوں نے احاطے کی دیوار کے ساتھ کرسی پرکھڑے ہوکر جھانک کر دیکھا اور اپنے خلاف احتجاج کرتے ہو ئے وہی لوگ نظر آئے جن کے لیے انہوں نے یہ ایکٹ بنایا تھا۔ تو انہوں خطاب بھی کیا، شاید انہوں نے یہ ہی کہا ہو گا کہ“ اچھا تم بھی“۔ اور وہیں کھڑے کھڑے استعفیٰ کا اعلان کر اور اپنا بریف کیس لیکر کوٹھی سے باہرچلے گیئے کہ چلو! میں نے اپنے کیے کا بدلہ پالیا۔

اس کے بعد پھر کوئی وزیرا عظم خود سے نہیں گیا جب تک کہ اس کو ڈولی ڈنڈا نہ کیا گیا ہو۔ البتہ اس کے بعد ایک صدر کو جا تے دیکھا جو اس واقعہ سے متاثر ہوکراحتیاط ًدار الحکومت ہی کراچی سے اسلام بعد لے گیئے تھے کہ وہ مہاجروں کی پہونچ سے باہر ہوگا۔ ان کے خلاف پہیہ جام تحریک کراچی سے ہی شروع ہوئی وہ ڈٹے رہے۔ لیکن جب انہوں نے اپنے ہی پوتے کو کھیل کھیل میں دادا حضور کا نام بڑی عزت سے لیتے دیکھا کہ ۔۔۔ کتا ہائے ہائے؟ تو وہ استعفیٰ دے کر چلے گئے ۔ کہ میں ایسی قوم کی قیادت نہیں کرتا؟ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ تھی “ کہ اس زمانے کے لوگ حیاءوالے تھے “ ہر چھوٹی سی بات کا اثر دل پر لے جاتے تھے۔ اب ہر بات ان کے کان پر سے گزر جاتی ہے۔ اورا ن کے حواری کہتے رہتے ہیں کہ سب جھوٹ ہے۔ ہمیں اس پر ظریف جبلپوری مرحوم کا ایک قطع یاد آگیا جو انہوں نے غندہ ایکٹ پر 1948 ءمیں کہاتھا۔ہوا یہ کہ بس اسٹینڈ پر صبح ،صبح انتظار میں لڑکے بھی کھڑے ہوتے اور لڑکیاں بھی کھڑی ہوتیں تھیں مگربرقعہ اوڑھے ہوئے کیونکہ اسوقت تک شرفا کی اکثریت جوکہ سفید پوشوں پر مشتمل تھی برقعہ استعمال کرتی تھی۔ رہے خواص اور عوام وہ نہ پہلے پردہ کرتے تھے نہ بعد میں۔ اپوا بن تو گئی تھی مگر نو زائیدہ تھی ابھی تک خواتین میں پوری طرح بیداری نہیں پیدا کرسکی تھی ہنوز کوششیں جاری تھیں اگر پردہ نہ حائل ہوتا تو وہ آج کی طرح اپنے نوک دار سینڈل سے خود ہی نبٹ لیتیں؟ ماضی کی مس پنڈت شیلا پنتھ المعروف بہ “ رعنا“ لیاقت علی خان اس وقت کے وزیر اعظم کی بیگم اور “ا پوا “کی صدر تھیں ۔لڑکوں نے وہاں کھڑے ہوکر لڑکیوں پر آوازیں کسنا شرع کردیں، تب ان کی سر کوبی کے لیئے پاکستان کی پہلی حکومت حرکت میں آئی اور غندہ ایکٹ نافذ ہوا۔اس وقت ظریف مرحوم نے قوم کو یہ قطع عطافرمایا جو بہت مشہور ہوا۔ع

چچی لیلیٰ کی گر خفا ہو جاتی
ساری وحشت قیس کی ہوا ہوجاتی
اس زمانے کہ لوگ تھے حیا والے
بیٹا اس دور میں ہوتے توسزا ہو جاتی

اب نہ کوئی شرماتا ہے نہ استعفٰی دیتا ہے۔ ورنہ یہ صورت ِ حال نہ ہوتی کہ جی آئی ٹی کی رپورٹ کے خیر سے دس والیوم میں سے نوکو عوام کے ملاحظہ کے لیے عدالت نے عام کردیا ہے۔ مگر متعلقہ لوگ بجائے شرمانے کہ کہہ رہے ہیں کہ سب جھوٹ ہے اور ان کے حواری ان کے ساتھ ان سےبھی بلند آواز میں گارہے ہیں سب جھوٹ ہے سب جھوٹ ہے ۔جبکہ عدالت جو کھال میں سے بال تک نکا ل لیتی ہے۔ وہ ابھی مہربہ لب ہے جب فیصلہ دے گی تو پتہ چلے گا کہ اونٹ کس کر وٹ بیٹھ رہاہے۔آپ بھی انتظار کیجئے ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ کہ دیکھئے کن کن پردہ نشینوں کے مزید اسم َ گرامی آتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ آگے چل کر عدلیہ حکمرانو ں کا یہ مطالبہ بھی مان لے گی کہ احتساب ہو تو سب کا ہو کیونکہ انصاف کا تقاضہ بھی یہ ہی ہے۔ اگر ایسا ہوگیا تو توپاکستان واقعی پاک ہوجائے گا۔ اور اٹھارا کروڑ عوام قیامت تک پاک کرنے والوں یاد رکھیں گے۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو(آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY