ہم گزشتہ قسط میں یہاں تک پہونچے تھے کہ دنیا کے مہذب ملکوں میں گھر وہ محفوظ جگہ ہے جہاں آپ اسلام کو اپنی زندگی میں پوری طرح نافذ کرسکتے ہیں ،یہاں کوئی رخنہ نہیں ڈالے گا ۔اب آگے بڑھتے ہیں۔ اس لیے یہاں ہونچ کر آپ کے اسلام سے فرار کا کوئی جواز نہیں ہے۔ لہذا جیسے کہ پانی مل جانے کے بعد طبی مجبوری نہ ہو تو تیمم کی اجازت ختم ہو جاتی ہے۔اسی طرح گھر میں اسلام نافذ نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ ہم اس مجبوری کی وجہ سے نہیں کرسکے؟ اس وقت کا سوچئے کہ جب آپ اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے ہونگے تو اس کو کیا جواب دیں گےاور آپ کے پاس کیا معقول عذر ہوگا۔
اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ آپ خود نمازی بن جا ئیں کیونکہ اس دن پہلا سوال یہ ہی ہوگا۔ اور اسلام کے تمام فرقے اس حدیث پر متفق ہیں کہ “ مسلمان اورغیر مسلم میں فرق یہ ہے کہ مسلمان نماز پڑھتا ہے جبکہ غیرمسلم نماز نہیں پڑھتا “ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے نماز پر اتنا زور کیوں دیا ؟پہلا جواب تو یہ ہے کہ کسی غلام کو حق ہی نہیں ہے کہ وہ آقا سے کسی حکم کی وجہ پوچھے؟ چونکہ آپ نے اسلام قبول کرلیا ہے؟ اب آپ آزاد نہیں رہے ! مگر آقا وہ ہے جو مالک اور خالق بھی ہے، عزیز بھی ہے ، حکیم بھی اور علیم بھی ہے۔ جیسے جیسے علم ترقی کرتا جارہا ہے ۔اسلام کے بہت سے پوشیدہ پہلو کھلتے جارہے ہیں۔جو اس نے اشیاءکے نام پہلے حضرت آدم کو بطور بدیع السموات والارض عطافر مائے تھےجن کی بنا پر حضرت آدم (ع) فرشتوں پر سبقت لے گئے۔ با ت یہ ہے کہ بدیع عربی میں موجد کو کہتے ہیں اور موجد کامفہوم یہ ہے کہ وہ ا یسی چیز ایجاد کرے جس کا دنیا میں پہلے سے نہ تصور ہو نہ وجود ہو۔ اس لیے وہ بظاہر تو نام تھے لیکن باطن میں وہ پوری تفصیل بھی تھی جو کوئی بھی موجد اپنی ایجادات کے بارے میں بتا تا ہے۔اسی طرح اس نے بطور فاطرالسماواتِ والارض جب اپنا دین مکمل کیا تو حضور (ص) کو بھیجا اور وہ سب کچھ بذریعہ وحی بتادیا جودنیا میں رہتی دنیا تک ہونا ہے۔ جو کہ حدیث اور قر آن دونوں سے ثابت ہے کہ جو کچھ حضور (ص) پر نازل ہوتا تھا اس کی تفسیر بھی حضور (ص) کو بتادیجاتی تھی۔لیکن قیامت کے وقت کا علم نہ حضور (ص) کوعطا ہوااور نہ ہی کسی اورکو، ورنہ دنیا میں بے عملی پھیل جاتی اور اس سے بہت سی خرابیاں پیدا ہوتیں ۔ اسی لیے اس نے اپنی تمام تخلیق کو ضرور یات کے مطابق علم عطا فرمادیا۔ مگرنہ ضرورت سے زیادہ نہ اس سے کم؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں زمانو ں میں فرق کیا ہے؟
چونکہ اللہ کو انسان کو خلیفہ بنانا تھا اور تمام مخلوق پر اس کوفضیلت دینا تھی تو اس کواپنے ہاتھ سے بنایا ، جبکہ اور ہر چیز صرف لفظ “ کن“ سےبنائی۔ اس کے بعد ایک طریقہ مقرر کردیا اور خود اس طریقہ کار کا پابند ہوگیاجو اس نے اپنے ہاتھوں اور اپنی مرضی سے بنایا وہ اس آیت سے ظاہر ہے کہ “ میں اپنی سنت تبدیل نہیں کرتا “ یا جیسے کہ “ یک جگہ فرمایا کہ میں نے رحم اپنے اوپر لازم کرلیا ہے “ اب میری بات پوری طرح آپ پر واضح ہوگئی ہوگی کہ میں کیا سمجھانا چاہتا تھا۔ لہذا ہر چیز اس کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق پیدا ہورہی ہے اور فنا ہو رہی جو کہ ہر ایک کی تقدیر کے طور پر اس نے قلم کو لکھوا کر لوح محفوظ پر رکھوادیا ہے اور وہ ہر چیز پر نگراں ہے۔ کوئی بھی اس کے نظام میں دخیل ہونا تو بڑی بات ہے پر نہیں مارسکتا۔ اسی لیے جب ہم “ لا الہ“ کہتے ہیں تو سوائے اللہ کے تمام ان دوسرے الہاؤ ں کی نفی کردیتے ہیں جو مشرکین نے گڑھ رکھے تھے۔ اس لیے اس نے شرک کو ناقابل ِ معافی گناہ قرار دیدیا ۔ کہ مجھے مانوں اور کسی کو نہیں مانوں کہ اس کے نظام میں نہ تو کوئی رخنہ ڈال سکتا کہ وہ “عزیز“ ہے۔نہ اس کا کوئی راستہ روک سکتا ہے ۔ نہ اس کے حکم سے سر تابی کر سکتا ہے۔ جبکہ وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے اور ہر تخلیق ہر بات میں اس کی محتاج ہے۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کا نظام بخوبی چلے تاکہ دنیا میں کسی پر ظلم نہ ہو۔فتنہ پروری کو اس لیے اس نے قتل سے بڑا جرم قرار دیا ہے۔ تمام مخلوق کے حقوق اور خصوصی طور پر بندوں کے حقوق کی سب سے زیادہ اہمیت رکھی اور یہ کہہ کر ان کی اہمیت اور بڑھادی کے ان سے برائی کی یا کسی طرح کاحق مارا تو میں معاف نہیں کرونگا وہ وہی معاف کریں گے جبکہ میں اپنے گناہ توبہ کرنے پر معاف کر سکتا ہوں۔ اگر کوئی بغیر معاف کرائے مرگیا تو قیامت دن اس کی نیکیاں ان کے کھاتے میں ڈالدی جائیں گی۔ اور وہ خالی ہاتھ رہ جا ئے گا۔
شیطان انسان کو برائی کرنے پر اکساتا ہے۔ مگر نماز کی تعریف یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی برائیوں سے روکتی ہے۔ کیوں اس لیے کہ وہ خوف خدا پیدا کرتی ہے نتیجہ کے طور پر اس میں برے اور بھلے کی تمیز پیدا ہو جاتی ہے ۔پھروہ اپنی مرضی کے خلاف کام کر نے کا عادی ہو جاتا۔ مثلاً وہ سونا چاہتا ہے، نماز اس کو بیدار رکھتی ہے۔ یہاں اس میں صبر اور دوسروں کے لیے ایثار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ جو اسے مالی اور جانی قر بانیوں تک لے جاتا ہے۔ پھر اسے اللہ کی راہ میں کوئی چیز بھی قرباں کرنا گران نہیں گزرتا۔ لہذا نماز حقوق العباد ادا کرانے کی عادت ڈالنے کے پہلی تربیت گاہ یا ٹریننگ سنیٹرہے۔ چونکہ اسلام میں ہر خیر اپنے قریب ترین لوگوں سے شروع کرنے کاحکم ہے۔ اس لیے پہلے خود نمازی بن جائیں پھر گھر والوں کو تلقین کریں۔ تب وہ آسانی سے آپ کی بات مان لیں گے۔ یہ ہی حضور( ص)کا طریقہ کار تھا کہ پہلے خود عمل کرتے تھے پھر دوسروں کو تلقین فرماتے تھے۔ باقی آئندہ

SHARE

LEAVE A REPLY