ناصر مہدی سر شام اپنے صحن میں لگے گل موھر کے درخت کے نیچے تصویرمکمل کرنے میں اتنے منہمک تھے کہ انھیں صدر دروازے پر لگی گھنٹی بجنے کی آواز تک نا سنائی دی ۔۔۔۔
ناصر پھر تصویر میں کھویا ہوگا میں خود ہی اندر داخل ہوجاتا ہوں محسن صدیقی بڑبڑاتے ہوئے سیدھے صحن میں داخل ہوگئے ۔۔۔۔۔
بھئی اتنا بھی کھوجانا اچھا نہیں کہ گھنٹی کی آواز پر دھیان تک نا دیا جائے
محسن صدیقی آپ کو گھنٹی بجانے کی کیا ضرورت پیش آپڑی برسوں سے اس گھر میں میں اکیلا ہی رہتا ہوں تم تو جانتے ہی ہو ۔۔۔۔۔
ویسے یہ تصویر جو تم نے کینوس پر اسکیچ کی ہے کسی شاہکار تصویر سے کم نہیں محسن نے ناصر کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ناصر مہدی ۔۔۔۔۔ “مت پوچھو اس تصویر کو اسکیچ کرتے ہوئے میں کس کرب سے گزرا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔
اس عکس کو رنگوں کے ساتھ بکھیرتے وقت سارے بھولے ہوئے غم یاد آنےلگے ۔۔۔
صدیقی ۔۔۔۔ ” میں تمھارے احوال سے واقف ہوں ۔۔۔۔ اپنے محسوسات کو مجھ سے شئیر کرو پلیز” ۔۔۔۔۔۔
ناصر……. میرے محسوسات کا مت پوچھو ایسا لگتا تھا کہ جیسے جیسے اس کے نقش ابھر رہے تھے میرے وجود کے ایک ایک انگ سے کرب و زیست کے تیر نکل رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
اوراسکی تمام رہ گزر کے نشاں روشن ہوچلے تھے ایسا لگ رہا تھا اس کے قدم میری منزل کی طرف دوبارہ رواں ھیں اور چند ساعتوں بعد ھی وہ میرے وجود کے کسی کونے میں پناہ تلاش کرلے گی ۔۔۔۔۔۔
رقص مه تیز تر تھی اور ساز دل کی بات ہی مت پوچھو ۔۔۔۔۔۔
محسن صدیقی ناصر مہدی کے بچپن کے دوست تھے جو اکثر شام کو مہدی کے پاس آکر وقت گزارتے تھے ۔ دونوں دوست ساٹھ برسوں کو پھلانگ کراپنی زندگی کے اکسٹھویں سال میں داخل ہوچکے تھے ۔
گل موھر کی وسیع و عریض ٹہنیاں اور ان پر ڈولتے سرخ، نارنجی اور پیلے پھول تصویر کے عکس پر رقص کا سماں پیش کررہے تھے ۔ شام کا ڈوبتا سورج اپنی نارنجی سرخی سے ماحول کو اپنی رومانوی گرفت میں لے چکا تھا ۔۔۔۔ ناصر مہدی کی سفید قلمیں بکھرے بال اور سگریٹ پینے کے انداز نے اسے ایک ایسے تصوراتی مصور کا روپ دیدیا تھا جو تصویر کی گہرائی سے نا نکلنے کا عہد کرچکا ہو ۔۔۔۔۔۔
کراچی میں جون اور جولائی کے مہینے ابر پھوار اور تیز ہواوں کی بدولت بڑا رومانوی موسم رکھتے ہیں سنو میری مانو تو تم اس تصویر کو نمائش کے لیئے پیش کردو صدیقی نے استہفامی انداز میں ناصر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
جولائی کے پہلے ہفتے میں تصویری نمائش اپنے شباب پر ہوگی ۔۔۔ صدیقی کافی کی چسکی لیتے ہوئے ناصر مہدی سے مخاطب ہوئے ۔۔۔۔۔ ناصر نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔
دیکھو ناصر تمھاری بنائی ہوئی تصویر کا ایک ایک پہلو ایک ایک نقش بلکہ یہ مکمل پیکر اپنی معنویت کے اعتبار سے بہت کچھ دیکھنے والوں پر منکشف کررہا ہے ۔ ۔۔۔۔۔
صدیقی تم نے درست اندازہ لگایا ہے ۔۔۔۔ میں نے اس میں محبت کے تمام رنگ بھر دیئے ھیں ۔۔۔۔۔ مگر اگر کسی کو یہ تصویر پسند آگئی اور اس نے اسے خریدنے کی فرمائش کردی تو میں یہ تصویر ہرگز فروخت نہیں کرونگا ۔۔۔۔۔
کیوں ؟ صدیقی نے تزبزب سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں محبت کو بیچ نہیں سکتا ۔۔۔۔ ناصر نے رندھی ہوئی آواز میں کہا ۔۔۔۔۔

جولائی کے پہلے ہفتے میں نمائش اپنے عروج پر تھی ۔ اور دیکھنے والوں کا ایک جم غفیر تھا جو جوق در جوق شہر کی سب سے بڑی تصویری نمائش میں حاضری دے رہا تھا ۔ ناصر مہدی کی انگلیوں سے تراشی خوبصورت رنگوں اور نقوش میں ڈھلی تصویر آہستہ آہستہ مجمع کی سب سے دلچسپ تصویر بن چکی تھی ۔ جس میں سب سے بڑی تعداد نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کی تھی ۔ فن مصوری کے اس شہ پارے کو دیکھنے والوں کا ہجوم گھیرے کھڑا تھا ۔ دفعتا لڑکیوں کے ایک گروپ نے اپنی ساتھی لڑکی شگفتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ” دیکھو شگفتہ یہ تصویر” زرا غور سے تو دیکھو ۔۔۔۔۔ تمھاری امی میں کتنا مل رہی ھے ۔۔۔ شگفتہ نے غور سے تصویر کو دیکھا اور مسکرادی واقعی یہ تصویر میری امی میں بہت مل رہی ہے ۔۔۔۔۔
اسی اثنا شگفتہ اور اس کی ساتھی ناصر مہدی سے آٹو گراف اور ان کے رابطہ کے نمبر لے چکیں تھیں ۔ ناصر مہدی ٹِکْٹِکی لگائے شگفتہ کو دیکھے جارہے تھے ۔ لیکن منہ سے کچھ نا بولے ۔
نمائش دیکھنے کا وقت ختم ہوچکا تھا شائقین فن اپنے اپنے گھروں کو جاچکے تھے ۔۔۔ ناصر مہدی بیچین تھے رات تاخیر سے گھر پہنچے اور کھانا کھاتے ہی سوگئے ۔۔۔۔

امی شام نمائش کی سب سے عمدہ تصویر جس میں آپ کی جھلک نمایاں تھی سب کی توجہ کا مرکز تھی ۔۔۔ شگفتہ نے صبح سویرے ناشتے کی میز پر اپنی امی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ شگفتہ کی ماں مہوش نے بیٹی کی بات کو ھنسی میں ٹالتے ہوئے کہا ہونہہ مجھ جیسی پتہ نہیں کتنی عورتیں ہونگی اس شہر میں جو میری جیسی صورت رکھتی ھیں ۔۔۔۔۔۔
اچھا ٹہریں آپکو یقین نہیں آئیگا میں آپ کو اس تصویر کے ویڈیو کلپس دیکھاتی ہوں جو میں نے نمائش کے دوران بنائے ھیں ۔ شگفتہ نے اپنے کیمرے کو آن کیا اور ویڈیو اپنی ماں کو دیکھانے لگی ۔۔۔۔ مہوش دم بخود اس تصویر کو دیکھ رہی تھی جس میں اسے ناصر مہدی کا عکس اور کرب نمایاں نظر آرہا تھا ۔ مہوش کی آنکھیں آبدیدہ ہوچکیں تھی اور وہ رقت آمیز لہجے میں شگفتہ سے مخاطب ہوئیں کیا تمھارے پاس اس نماش کا پتہ ہے کہاں یہ نمائش لگی ہے ۔ نمائش کے پتے کی بات چھوڑیں ہم نے اس مصور سے انکا پتا اور فون نمبر لے لیا ہے یہ دیکھیں اس نے پرس میں سے ڈائری نکالی اور اپنی امی کو دکھانے لگی ۔۔۔۔۔۔

مون سون کی بارشوں کی جھڑی لگ چکی تھی ۔ تمام شہر اور اسکا سبزہ دھلا دھلا اور نکھرا نکھرا سا گیا تھا ۔ گل موھر اپنی قیامت خیز خوبصورتی لیئے ناصر کے آنگن میں اپنے حسن کے جلووں سے ہر چشم کو خیرہ کیئے دے رہا تھا ۔ یکا یک دروازے کی گھنٹی بجنے لگی ناصر بے وقت گھنٹی کی آواز پر چونک سے گئے کہ یہ وقت محسن صدیقی کے آنے کا تو نہیں ۔ستے ہوئے چہرے سفید قلموں کرتے پائجامے میں ملبوس ناصر دروازے پر پہنچ کر ٹھٹھک کر رہ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۵۵ برس کی مہوش مانوس حالات میں ناصر کے چہرے پر اپنی خوبصورت آنکھوں کو گاڑھ چکی تھی ۔۔۔۔ اسی اثنا تیز ہوا کے جھونکے سے گل موہر لہرایا اور سینکڑوں پھول ناصر اور مہوش پر برسا گیا ۔۔۔۔ ناصر کا پورا صحن رنگین پھولوں کی خوشبو سے مہک چکا تھا اور آنگن میں جابجا پھول بکھرے پڑے تھے ۔۔۔۔۔
بیس برس کی طویل جدائی کے بعد ناصر اور مہوش کی یہ پہلی ملاقات تھی ۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں بدلہ ناصر یہ صحن، تمھارا گھر، تمھارے نقوش، بس چہرہ پہلے سے زیادہ ست گیا ہے قلمیں سفید ہوگئی ھیں اور جسم دبلا ۔۔۔۔ مہوش کھوئے ہوئے ناصر کی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔۔
ہونہہ ۔۔۔ ناصر آہستگی سے بولے ۔۔۔۔ شائید سرد، سخت گرم اور گیلے موسم بھی بہت سے بیت چکے ہیں جنکا آپ کو احساس نہیں ہے ۔ میرا احساس تم ہو ان تمام رتوں میں مہوش نے ناصر کے بال سنوارتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔ میری تنہائیوں میں فلیمبوائنٹ کے نرم رنگیں پھول اور اس کی سبز پتیاں محبت میں ڈھل کر میرے دل میں بسے تمھارے محبت کے جزبوں کے شاخچوں پر روز اترتے تھےجو مجھے موسموں کی سختیوں سے بچانے کے لیئے میرے اٹھنے سے پہلے جاگ اٹھتے تھے اور میرے چاروں اطراف خوشبووں کو اپنی بانہوں میں سمیٹ کر لے آتے تھے ۔ ان کی خمار آلود مہک مجھے آج تک تمھارے حصار میں لئے رکھتی ہے ۔۔۔۔
میرے گھر کی دیواروں اور دریچوں کی سانسوں سے اب بھی تمھاری خوشبو کی لپٹیں آتی رہتی ہیں جہاں ایک دن تمھاری ان گنت دلفریب ساعتیں مجھ سے دامن چھڑا کر میری آنکھوں میں جگمگانے لگی تھیں ۔ میرا وہ کمرہ جہاں میں مصوری کرتا ہوں اب بھی تمھارے لمس سے بھرا پڑا ہے ۔

مجھے یقین تھا کہ ایک دن تم ضرور سردیوں کی سنہری دھوپ بن کر آو گے تو میں گل موھر کی سبز پتیوں کی طرح موسم بہار کا منتظر ہونگا ۔ اور اپنی آنکھوں کی تمام نمی تمھاری تمازت کو سونپ دونگا ۔۔۔ میں تمھارے لئے ڈھیر سارے گل موھر کے پھول چنوں گا تاکہ تم اسکے دھنک رنگ اور خوشبو کا رقص دیکھ سکو ۔۔۔۔ دیکھو تمھارے آنے سے کتنے پھول جھڑے ھیں گل موھر کے یہ اس بات کی تائید ہے کہ گل موھر بھی تمھارے انتظار اور فراق کی گھڑیوں میں میرےساتھ تھا ۔

میں جانتی ہوں ۔۔۔۔ تمھارے فراق میں میرے ٹیوب روز بھی گھل گھل گئے ھیں ۔۔۔ موسم برکھا میں ٹیوب روز اکثر کم یاب ہوتے ہیں میں سوچتی تھی اگرتم آئے اور مجھے ٹیوب روز کہیں سے نا ملے تو میں خود ٹیوب روز پھولوں میں ڈھل جاوں گی تمھارے استقبال کے لیئے ۔۔۔۔۔ میری محبت اور وفا تم سے بڑھ کر ہے مجھے جیسے ہی تمھارا علم ہوا میں ھوا کے دوش پر تمھاری دھلیز پر تھی مگر تم نے مجھے ڈھونڈھنے کی کوشش نا کی یہ کہ کر مہوش آبدیدہ ہوچکی تھی ۔۔۔۔۔۔ میں عورت کی وفا پر یقین نہیں کرسکتا ناصر مہوش کی طرف متوجہ تھے ۔۔۔۔۔ کیسے کہدوں کہ تم مجھ سے اب بھی محبت کرتی ہو جبکہ تم شگفتہ کی ماں ہو جو پچھلے دنوں مجھے نمائش میں ملی تھی اور اس تصویر کو جو تمھاری تھی اپنی ماں کہتی ھے ۔ جبکہ میں نے تمھاری محبت میں اب تک شادی نہیں کی ہے ۔ مہوش نے ناصر کی آنکھوں میں جھانکا ۔۔۔ ہاں شگفتہ میری بیٹی ہے جو انیس برس سے اپنے باپ کا انتظار کررہی ہے ایک مصور کا انتظار جو اسکی ماں کا شوہر ہے ۔۔۔

تیز بارش اور ہوا میں ناصر مہدی اپنی گاڑی میں مہوش کے ہمراہ مہوش کے دروازےپہنچ چکے تھے اور گھنٹی بجا کر بیتابی سے اپنی بیٹی کی دروازے پر آمد کا انتظار کررہے تھے ۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY