چار ماہ سے دماغی طور پر مردہ خاتون کے ہاں بچوں کی پیدائش

0
40

دماغی طور پر ایک مردہ خاتون کو 123 دن تک مشینوں کے ذریعے زندہ رکھا گیا جس کے بعد اس نے جڑواں بچوں کو جنم دیا۔

جنوبی برازیل سے تعلق رکھنے والی اکیس سالہ حاملہ خاتون فرینکلین ڈی سلوا گزشتہ سال اکتوبر میں فالج کا شکار ہوئیں اور دماغی طور پر مردہ قرار دے دی گئیں۔

تاہم ڈاکٹروں نے جائزہ لیا تو اس وقت نو ہفتوں کے بچوں کے دل بدستور ماں کے پیٹ کے اندر دھڑک رہے تھے۔

جس پر طبی ماہرین نے ان کے جسم کو وینٹی لیٹر پر رکھ دیا، جس کے 123 دن بعد ایمرجنس آپریشن کے بعد بچوں کی پیدائش ہوئی۔

یہ دماغی طور پر مردہ کسی شخص کے جسم کو مصنوعی طریقے سے زندہ رکھنے کی سب سے زیادہ مدت بھی قرار دی جارہی ہے۔

بچوں کے والد نے ان کی پیدائش کو ‘کرشمہ’ قرار دیا کیونکہ ابتداءمیں ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں۔

تاہم ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ الٹراساﺅنڈ میں بچوں کی زندگی کا علم ہوا اور مریضہ کے اعضاءایسے ہی کام کررہے تھے جیسے وہ زندہ ہو، تو ہم نے اسے بچوں کو بچانے کے لیے جسم کو مشینوں کے ذریعے زندہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔

ڈاکٹروں نے اس کے لیے پرتگال کے ایک ڈاکٹر کی مدد بھی لی جس نے ایسے ہی دماغی طور پر مردہ ایک خاتون کے کیس پر کام کیا تھا، جس کے بچے کی پیدائش 107 دن بعد ہوئی۔

ان بچوں کی پیدائش فروری میں ہوئی تھی مگر اب ان کے بچنے کی کہانی سامنے آئی ہے۔

قبل از وقت پیدا ہونے وال ان بچوں کو ڈاکٹروں نے صحت مند قرار دیا ہے، جنھیں تین ماہ تک انکوبیٹر رکھا گیا اور اب ان کی دیکھ بھال فرینکلین کی والدہ کررہی ہیں۔

خاتون کے شوہر کے مطابق ‘میری بیوی اس عرصے کے دوران کئی بار میرے سامنے آئی، ایک رات وہ میرے بستر پر بیٹھی اور کہنے لگی کہ اب میں دنیا میں واپس نہیں آسکتی، میں ایک خوبصورت جگہ میں ہوں، مگر تمہارا ایک بڑا مشن پورا ہونا باقی ہے اور وہ بچوں کی نگہداشت ہے، جس کے لیے تمہیں مضبوط ہونا ہوگا اور زندگی کو جینا ہوگا’۔

ان کا مزید کہنا تھا ‘ فرینکلین سخی دل اور لوگوں سے محبت کرنے والی تھی، میرا ماننا ہے کہ خدا نے اسے اس مقصد کے لیے چنا تھا تاکہ ہمارے سامنے یہ کرشمہ آسکے’۔

SHARE

LEAVE A REPLY