جب پا نا ما پیپرز آئے تھے تو ہمارے محترم صدر نے انتہائی اظہارِ ممنونیت سے کہا تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ،تو صدر کے بارے میں ہمارےجتنے شکوک و شبھات تھے ہم نے اُنہیں ایک پوٹلی میں باندھ کر گرہ لگا کر رکھ دیا تھا کہ ہمیں ایک سچا صدر ملا ہے ۔پھر انہوں نے کہا کہ جو کرپشن کرتے ہیں اُن کے چہروں پر نحوست برستی ہے ۔اور یہ کہ سب پکڑے جائینگے کوئی ایک ماہ بعد کوئی دو ماہ بعد کوئی چھہ ماہ بعد ہم نے پھر ایک اور گرہ لگادی تھی اپنی پوٹلی کو ۔پھر صدر صاحب نے کہا کہ آپ دیکھینگے کہ کیسے کیسے چہرے سامنے آئینگے کہ آپ حیران رہ جائینگے اور ہم نےایک اور بڑی سخت گرہ لگادی تھی اپنی پوٹلی کو کہ بس اب ہمارے حالات بدلے کہ بدلے ۔کیونکہ ہمیں لگا کہ اگر ہمارے ملک کا ایک بھی بڑا دِل کَڑَا کر کے سچ بولنے لگے گا تو ہمارے حالات بدل جائینگے اور یہ منحوس چہرے چھُپ جائینگے ۔

لیکن آج کل ایک شک جو لوگوں کے ذہن میں محترمہ مریم صاحبہ کے ٹوئٹس اور وزراء کے بیانات سے اور نواز صاحب کے اطمینان سے پیدا ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ کہیں ممنون صاحب اپنے صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انکی تمام کو تاہیاں اور سزائیں معاف نہ کر دیں ؟؟ ہمارا دِل دھڑکنے لگا اور بے اختیار ہماری زبان پر دعا آگئی کہ پیارے اللہ میاں اب تو ہمیں ایسے دھکے مت دینا ،کہ جن پر ہم اعتبار کریں وہ ہمیں اس طرح دھوکہ دیں کہ ہماری تھوڑی سی بھی آس جو بڑی مشکل سے بندھتی ہے کہ ،اب سب کچھ اچھا ہوگا انشاء اللہ اُسے توڑنے پر لگ جاتے ہیں ۔یہ وہ ٹولے ہیں جو کبھی بھی نہ خود سچ کا سامنا کرتے ہیں اور نہ ہی کسی سچائی کو سامنے آنے دیتے ہیں ۔یہ ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ ہمیں اچھے برے اور اور سچ جھوٹ کی تمیز تک مٹتی ختم ہوتی نظر آرہی ہے ۔مگر اللہ بہت مہربان ہے وہ ہمیں مواقع فراہم کرتا ہے اچھے لوگ بھی ہمارے درمیان بروں سے زیادہ وہتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ ہم گِر گِر کر سنبھل جاتے ہیں ۔لیکن اس دفعہ سنبھل کر اگر ہم گِرے تو کوئی اُٹھانے والا نہیں ہوگا ۔

ہمیں امید ہے کہ صدر نہ تو خود کو اُن منحوس چہروں میں شامل کرینگے اور نہ ہی اپنی چھتری کو نحوست کا نشان بنائینگے ۔کہ اچھائی ہر شخص میں ہوتی ہے ،ضمیر ہر ایک کا جاگتا ہے جلدی یا بہ دیر ۔اور ہمیں امید ہے کہ جے آئی ٹی عدلیہ اور فوج کی طرح صدر بھی اس دفعہ ایک تاریخ لکھینگے برکت کی ۔کہ وہ کسی ایسے فیصلے کا حصہ نہیں بنینگے جو ملک کو نحوست کے اندھیرے میں دھکیل دے ۔کیونکہ اب ہر بات روزِ روشن کی طرح عیاں بھی ہے اور با ثبوت بھی ۔چیونٹی کی موت آتی ہے تو اُسکے پَر نکل آتے ہیں ۔جب لوگوں کا ضمیر مرتا ہے تو انہیں جھوٹ اور سچ کا فرق نظر نہیں آتا اور وہ اپنے ساتھ سب وک ہی لے ڈوبتے ہیں ۔

سارے حامی صرف ایک بات کر رہے ہیں کہ سب جھوٹ کا پلندہ ہے جے آئی ٹی کی رپورٹ بھی اور اُس میں موجود مواد بھی ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جھوٹے اور غلط بیان لوگ سب کو اپنی ہی عینک سے دیکھینگے ۔کیونکہ وہ خود اس مرض میں مبتلا ہیں بلکہ یہ مرض بجائے کم ہونے کے بڑھتا ہی جا رہا ہے اس لئے اُنہیں سب ہی جھوٹے اور دغا بز نظر آتے ہیں ۔اس میں اُن کا بھی کوئی قصور نہیں جب ایک سا کام مستقل کیا جائے توآدمی اُس کا عادی بھی ہو جاتا ہے اور برائی اُس کی نظر میں کوئی برائی بھی نہیں رہتی ۔لیکن ساری قوم نہ بہری ہے نہ نا بینا اور نہ ہی گونگی ۔سب ہی دیکھ بھی رہے ہیں سُن بھی رہے ہیں اور بول بھی رہے ہیں ۔اور یہ ہی وہ مقام ہے جہاں سے یا ترقی کی سیڑھی ملتی ہے یا گہری دلدل ۔اب یہ سب پر منحصر ہے کہ وہ کون سی راہ اختیار کرتے ہیں ۔

صدر صآحب کا بیان انتہائی امید افزا تھا جب انہوں نے یہ کہا تھا کہ سب کی پکڑ ہوگی اور ایسے ایسے لوگ سامنے آئینگے کہ آپ حیران رہ جائینگے ۔ہمیں بس اب ایک ہی اُمید ہے کہ لوگوں کے خدشات ،خدشات ہی ثابت ہوں جیسا کہ جے آئی ٹی کے ساتھ ہوا کہ سب کے ہی تحفظات کو انہوں نے غلط ثابت کر دیا اور وہ کر دکھایا جو تاریخ میں سنہری حرفوں میں ضرور لکھا جائیگا ۔اور کچھ ہو نہ ہو کم از کم اتنی دلیری اور ہمت تو دکھائی کہ چھ کے چھ ممبرز نے کسی بھی بات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنا فرضِ منصبی پوری ایمانداری اور دیانت سے اد کیا ۔اور ایک آس دی کہ ابھی اُمید کی کرنیں روشن رکھو ۔اسی طرح ہمیں صدر سے اُمید ہے کہ وہ کوئی ایسی زیادتی قوم کے ساتھ نہیں کرینگے جو انہیں تاریخ میں اچھے اور ہمت والے کے نام سے نہ لکھے ۔وہ ضرور اپنی سوچ پر قائم بھی رہینگے اور غلط بیانی کا ساتھ بھی نہیں دینگے ۔ہم اُن کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اگر اُن پر امتحان کا وقت اآئے تو وہ خود بھی سُر خُرو ہوں اور عوام کو بھی سَر اُٹھانے کا موقعہ فراہم کریں ۔بغیر کسی دھونس زبردستی میں آئے لوگ اور فیصلے وہ ہی اَمر ہوتے ہیں جو عوام اور مُلک و ملت کے فائدے کے لئے کئے جائیں شخصیتوں کو خاندانوں کو بچانے کے لئے نہیں اقتدار کو طول دینے کے لئے نہیں کہ جتنی بے ثباتی اور پکڑان تمام باتوں میں ہے شاید ہی کہیں ہو ۔

جس طرح دوسری پارٹیوں سے آئے لوگوں نے نون لیگ کی ناسی لگائی ہمیں ڈر ہے کہ پی ٹی آئی نے بھی اگر اپنی بڑھتی ہوئی تعداد پر غور نہ کیا کرداروں پر توجہ نہ رکھی ۔آنے والوں کی نیت کو نہ پرکھا تو کہیں اُنہیں بھی مستقبل میں مشکل کا سامنا نہ ہو خدانخواستہ ۔بہتر ہے کہ اپنے پرانے ورکرز پر توجہ رکھیں اُنہیں سامنے لائیں اور اُن کا دل بڑھائیں کیونکہ پرانے ورکرز جتنے مُخلص ہوتے ہیں اُتنے ہی نازک بھی ہوتے ہیں زرا سی بے توجہی اُنہیں حراساں کر دیتی ہے ۔اپنا وعدہ پورا کریں نئے لوگوں کو جوانوں کو آگے آنے کا موقعہ فراہم کریں تاکہ آپ کی پارٹی واقعئی مُنفرد ہو ۔ہم صرف توجہ دلا سکتے ہیں ۔
اب سارا دارومدار عدلیہ پر ہے لیکن ہماری بس ایک سوچ ہے کہ مزید وقت نہ لگایا جائے کیونکہ یہ دیر نہ صرف عوام کو پریشان کرے گی بلکہ پاکستان کے حالات کے لئے بھی مشکل کھڑی کرے گی ۔جہاں تاریخ کے اتنے صفحے سیاہ ہوگئے وہاں ایک روشن حل اب نکل آنا چاہئے ۔اب سب ہی ترازو کی طرف دیئکھ رہے ہیں اللہ کرے یہ سیدھا رہے اور ایک ایسی تاریخ رقم کر دے جو میرے ملک کو ان تمام مشکلوں سے نجات دے دے ۔

اللہ کرے سارے منحوس چہرے میرے ملک کو چھوڑ جائیں اور روشن اور با برکت چہرے سامنے آئیں ، انشاء اللہ

SHARE

LEAVE A REPLY