پانامہ کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں کل تک ملتوی ہو گئی

0
38

سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت کل منگل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عدالت جرح کے لیئے نواز شریف کو عدالت میں طلب کرے

پاناما کیس جے آئی ٹی میں جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے دلائل مکمل کر لیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اسمبلی تقریر اور قوم سے خطاب میں سچ نہیں بولا۔
سپریم کورٹ اسلام آباد میں جاری پاناما جے آئی ٹی کیس میں سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میری درخواست نواز شریف کی اسمبلی تقریر کے گرد گھومتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے قطری خطوط پڑھے بغیر درست قرار دیئے۔انہوں نے جےآئی ٹی میں کہاکہ قطری سرمایہ کاری کا علم ہے مگر کچھ یاد نہیں۔
دلائل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری سےعدالت کوآگاہ کرچکے ہیں۔وکیل جماعت اسلامی نے کہا کہ وہ جے آئی ٹی رپورٹ کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اسےدرست تسلیم کرتے ہیں۔

توفیق آصف نے بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے اپنے خالو تک کو پہچاننے سے انکار کیا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اپنا فیصلہ الزامات پر نہیں، شواہد پر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت اور ججوں پر اعتماد ہے۔
سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ کی سماعت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا کہ جے آئی ٹی کی خود ساختہ رپورٹ میں حقائق کو مسخ کیا گیا۔پکوڑے بیچنے والے کاغذات آج پھر سپریم کورٹ میں آئے ہیں۔

عابد شیر علی نے کہا کہ ہماری قیادت بالکل بے قصور ہے، نواز شریف کا پاناما اسکینڈل میں نام شامل نہیں۔ سپریم کورٹ سے انصاف کی توقع ہے۔

پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس جیسا چپڑاسی ن لیگ میں نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ایسا جھوٹا شخص نہیں دیکھا۔

شریف خاندان نے جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اعتراض سپریم کورٹ میں جمع کرادیا، جس میں رپورٹ کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت سےکچھ دیر قبل شریف خاندان کی جانب سے ان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت عظمیٰ میں اعتراضات پر مشتمل درخواست جمع کرائی۔
درخواست میںشریف خاندان کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جے آئی ٹی ارکان کی نامزدگی پر بھی اعتراضات ہیں اور اس کی رپورٹ جانبدارانہ ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا رویہ غیر منصفانہ تھا اور اس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، جے آئی ٹی سے 13سوالوں کے جوابات مانگے گئے تھے، جے آئی ٹی نے قانونی طور پر کام نہیں، کسی کے خلاف دستاویز خود سے حاصل کیں تو پوچھنا ضروری ہوتا ہے، مگرنہیں پوچھا گیا، جے آئی ٹی نے ہر معاملے پر حتمی رائے قائم کی، کسی تفتیش طلب شخص کو قصور وار قراردینے کا اختیار جے آئی ٹی کے پاس نہیں۔

شریف خاندان نے اعتراضی درخواست میں سپریم کورٹ سے جے آئی ٹی کی رپورٹ مسترد کرنے کی استدعا کی۔

SHARE

LEAVE A REPLY