٭22 ستمبر 1988ء کو رئیس امروہوی نامعلوم قاتل کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔

0
300

وقار زیدی ۔ کراچی
سید اقبال عظیم کی وفات
٭ اردو کے معروف شاعر، ادیب اور محقق سید اقبال عظیم کی تاریخ پیدائش 8جولائی 1913ءہے۔
سید اقبال عظیم یوپی کے مردم خیز شہر میرٹھ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے علم و ادب سے شغف وراثت میں پایا۔ ان کے دادا سید فضل عظیم فضل، نانا ادیب میرٹھی اور والد سید مقبول عظیم عرش سب اپنے عہد کے معروف شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ اقبال عظیم بڑے بھائی سید وقار عظیم بھی معروف نقاد اور ماہر تعلیم تھے۔ اقبال عظیم نے شاعری میں صفی لکھنوی اور وحشت کلکتوی سے اکتساب کیا۔
اقبال عظیم نے لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویشن کیااور آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔قیام پاکستان کے بعد انہوں نے ڈھاکا میں سکونت اختیار کی جہاں وہ مختلف کالجوں اور ڈھاکا یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ اسی زمانے میں انہوں نے کئی تحقیقی کتابیں بھی تالیف کیں جن میں بنگال میں اردو، سات ستارے اور مشرق کے نام سرفہرست ہیں۔ 1970ء میں وہ مغربی پاکستان منتقل ہوگئے اور پھر اپنی وفات تک کراچی میں اقامت پذیر رہے۔
اقبال عظیم کی شاعری کے مجموعے مضراب، قاب قوسین، مضراب ورباب، لب کشا، ماحصل، نادیدہ اور چراغ آخر شب کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔
انہوں 22 ستمبر 2000ء کوکراچی میں وفات پائی ۔وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
سید اقبال عظیم کی غزل کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
مجھے ملال نہیں اپنی بے نگاہی کا
جو دیدہ ور ہیں انہیں بھی نظر نہیں آتا
سید اقبال عظیم ایک بہت اچھے نعت گو شاعر بھی تھے۔ ان کی ایک مشہور نعت کے چند اشعار ہیں:
مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ
جبیں افسردہ افسردہ ،قدم لغزیدہ لغزیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانب طیبہ
نظر شرمندہ شرمندہ، بدن لرزیدہ لرزیدہ
بصارت کھوگئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ
——————————————————————————————

رئیس امروہوی کا قتل
٭22 ستمبر 1988ء کو اردو کے نامور شاعر اور ادیب رئیس امروہوی ایک نامعلوم قاتل کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔
رئیس امروہوی کا اصل نام سید محمد مہدی تھا اور وہ 12 ستمبر 1914ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد علامہ سید شفیق حسن ایلیا بھی ایک خوش گو شاعر اور عالم انسان تھے۔ رئیس امروہوی کی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے ہوا۔ قیام پاکستان سے قبل وہ امروہہ اور مراد آباد سے نکلنے والے کئی رسالوں سے وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور روزنامہ جنگ کراچی سے بطور قطعہ نگار اور کالم نگار وابستہ ہوگئے، اس ادارے سے ان کی یہ وابستگی تا عمر جاری رہی۔
رئیس امروہوی کے شعری مجموعوں میں الف، پس غبار، حکایت نے، لالہ صحرا، ملبوس بہار، آثار اور قطعات کے چار مجموعے شامل ہیں جبکہ نفسیات اور مابعدالطبیعات کے موضوعات پر ان کی نثری تصانیف کی تعداد ایک درجن سے زیادہ ہے۔
رئیس امروہوی کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
——————————————————————————————

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی وفات
٭ نامور عالم دین، مفسر قرآن، دانشور، متعدد کتابوں کے مصنف اور جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تاریخ پیدائش 25 ستمبر 1903ء ہے۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اورنگ آباد (حیدرآباد دکن) میں پیدا ہوئے تھے۔ 1932ء میں آپ نے ’’ترجمان القرآن‘‘ جاری کیا۔ علامہ اقبال کی خواہش پر آپ نے پنجاب کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور 26 اگست 1941ء کو لاہور میں 75 افراد کے اجتماع میں جماعت اسلامی کی تشکیل کی۔ بعدازاں آپ پٹھان کوٹ منتقل ہوگئے اور وہاں دارالاسلام کی بنیاد ڈالی۔
قیام پاکستان کے بعد آپ نے لاہور میں اقامت اختیار کی۔ 1953ء میں ’’تحریک ختم نبوت‘‘ کے سلسلہ میں آپ کو سزائے موت سنائی گئی جو بعدازاں منسوخ کردی گئی۔ ایوب خان کے دور حکومت میں جماعت اسلامی پر پابندی عائد ہوئی۔ 1972ء میں آپ کی مشہور تفسیر ’’تفہیم القرآن‘‘ مکمل ہوئی۔ اسی برس آپ ضعیفی اور علالت کی وجہ سے جماعت کی امارت سے دستبردار ہوگئے۔
یکم مارچ 1979ء کو آپ کو پہلا شاہ فیصل ایوارڈ دیا گیا۔ اسی برس 27 مئی 1979ء کو آپ اپنے علاج کے لئے امریکا روانہ ہوئے جہاں 22ستمبر 1979ء کو آپ کا انتقال ہوگیا۔ آپ کو 25 ستمبر 1979ء ذیلدار پارک، منصورہ (لاہور) میں سپرد خاک کردیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY