ادیب اور دانشور پیرحسام الدین راشدی 20 ستمبر 1911ء کو پیدا ہوئے۔

0
150

وقار زیدی ۔ کراچی
پیرحسام الدین راشدی کی پیدائش

٭ پاکستان کے نامور محقق، ادیب اور دانشور پیرحسام الدین راشدی 20 ستمبر 1911ء کو پیدا ہوئے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم مولوی محمد سومار اور مولوی محمد الباس پنہور سے حاصل کی۔ چوتھے درجے تک پڑھنے کے بعد ذوق مطالعہ کو اپنا رہبر بنایا اور ذوق کتب خوانی اور اخبارات نے ان پر علم کے دروازے کھول دیئے۔
شروع میں انہوں نے صحافت کو ذریعہ معاش بنایا۔ وہ کئی اخبارات سے منسلک رہے مگروہ جلد ہی صحافت سے منہ موڑ کر ذوق مطالعہ کی تسکین میں محو ہوگئے اور نادر و نایاب مخطوطات اور مطبوعہ نسخوں کو جمع کرکے ان کا مطالعہ کرنے کا مشغلہ اختیار کیا۔
سندھ پر ان کا احسان عظیم یہ ہے کہ انہوں نے سندھ کے اکثر فارسی مخطوطوں اورسندھ کی تاریخ کو مدون کیا اور اس طرح انہیں محفوظ کردیا۔ ان کے حواشی کو معلومات اور تحقیق کی انسائیکلوپیڈیا کہا جاسکتا ہے۔ مقالات الشعرا، تکملہ مقالات الشعرا، تحفۃ الکرام، مکلی نامہ اور مظہر شاہجہانی ان کی مدون کی گئی وہ کتابیں ہیں جن پر مفید حواشی لکھ کر انہوں نے تاریخ سندھ کی بہت سی گتھیوں کو سلجھایا ہے۔ ان کی علمی اور تاریخی خدمات کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اتنا کام کیا ہے جو ایک ادارے کے انجام دینے کا تھا۔
٭یکم اپریل 1982ء کو پیرحسام الدین راشدی اپنے خالق حقیقی جاملے۔
——————————————————————————————

یوسف خان کی وفات

٭ پاکستان کے صف اول کے اداکار یوسف خان 10 اگست 1931ء کو مشرقی پنجاب کے شہر فیروز پور میں پیدا ہوئے تھے۔
1954ء میں ہدایت کار اشفاق ملک کی فلم ’’پرواز‘‘ سے ان کی فلمی زندگی کا آغاز ہوا۔ اس فلم میں ان کی ہیروئن کا کردار صبیحہ خانم نے ادا کیا تھا۔ ’’پرواز‘‘ کے بعد کئی برس تک یوسف خان اردو فلموں میں کام کرتے رہے جن میں مجرم، حسرت، بھروسہ، فیصلہ اور نیا دور کے نام شامل ہیں۔
1962ء میں فلم ’’پہاڑن‘‘ سے ان کی پنجابی فلموں کا دور شروع ہوا اور جلد ہی وہ پنجابی فلموں کے بھی مصروف ترین اداکار بن گئے۔ یوسف خان کی یادگار پنجابی فلموں میں ملنگی، یارانہ، بائوجی، ضدی، غیرت میراناں، وارنٹ، ہتھکڑی، حشر نشر، اتھرا، جگنی، شریف بدمعاش، قسمت، جبرو، خطرناک، جاپانی گڈی، بت شکن، حیدر خاں، دھی رانی اور بڈھاگجر کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کی آخری فلم ’’اتھرا‘‘ تھی جو 2006ء میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔
یوسف خان نے اپنی فن کارانہ زندگی میں لاتعداد اعزازات بھی حاصل کئے جن میں 2006ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے عطا کردہ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست ہے۔انہوں نے فلم ضدی، جبرو اور بت شکن میں بہترین اداکاری اور فلم خدا گواہ میں نمایاں ترین فن کاری پر نگار ایوارڈ حاصل کئے۔ اس کے علاوہ انہیں 1999ء میں نگار ملینئم ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔
یوسف خان ایک طویل عرصہ تک فلمی فن کاروں کی تنظیم مووی آرٹسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان (ماپ) کے روح و رواں بھی رہے۔ وہ پاکستان میں بھارتی فلموں کی برآمد کے شدید مخالفین میں شمار ہوتے تھے مگر جب ان کی تمام تر جدوجہد کے باوجود پاکستان میں بھارتی فلمیں نمائش پذیر ہونے لگیں تو یہی صدمہ ان کی موت کا سب سے بڑا سبب بن گیا۔
٭20 ستمبر 2009ء کو یوسف خان لاہور میں وفات پاگئے۔
یوسف خان قصور میں آسودۂ خاک ہیں۔
——————————————————————————————

میرمرتضیٰ بھٹو کا قتل

٭یہ 20 ستمبر 1996ء کوپاکستان کے ایک سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے صاحبزادے اور اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو، کراچی میں ایک سیاسی میٹنگ میں شرکت کے بعد گھر واپس لوٹ رہے تھے کہ ان کے گھر کے نزدیک پولیس کے مسلح اور مورچہ بند افراد نے انہیں رکنے کا اشارہ کیا، پولیس جناب مرتضیٰ بھٹو کے ان محافظوں کو گرفتار کرنا چاہتی تھی جن پر غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دہشت گردی کے بعض واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات تھے مگر جونہی میر مرتضیٰ بھٹو کا قافلہ روکا گیا۔ ان کی پولیس افسر کے ساتھ تکرار ہوگئی۔ میر مرتضیٰ بھٹو کے محافظوں نے مشتعل ہوکر فائرنگ شروع کردی جس کے جواب میں پولیس نے بھی فائرنگ کی اور اس فائرنگ کے نتیجے میں میر مرتضیٰ بھٹو اور ان کے 6 ساتھی ہلاک ہوگئے۔
میر مرتضیٰ بھٹو کی اس ناگہانی موت کا دکھ ملک بھر میں محسوس کیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور شاہنواز بھٹو کی ناگہانی اموات کے بعد یہ تیسرا سانحہ تھا جو بھٹو خاندان پر گزرا تھا۔ اس سانحہ پر بھٹو خاندان کے مخالفین کی آنکھیں بھی اشک بار تھیں۔
حکومت نے اس سانحہ کی تحقیقات کے لئے ایک تین رکنی ٹریبونل تشکیل دیا جس کے سربراہ جسٹس ناصر اسلم زاہد تھے اور ارکان میں جسٹس امان اللہ عباسی اور جسٹس ڈاکٹر غوث شامل تھے۔اس ٹریبونل نے کئی ماہ تک گواہان کے بیانات قلمبند کئے اور اس نتیجے پر پہنچا کہ مرتضیٰ بھٹو اور ان کے کارکنوں کا قتل، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا جس کی منظوری اعلیٰ اتھارٹی نے دی تھی۔ مگر اس منصوبہ کے مطابق مرتضیٰ بھٹو کو نہیں بلکہ ان کے محافظین کو قتل کیا جانا تھا۔
——————————————————————————————

جلال الدین کی ہیٹ ٹرک

٭یہ 20 ستمبر 1982ء کی بات ہے۔ حیدرآباد کے نیاز اسٹیڈیم میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کرکٹ کا ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلا جارہا تھا۔ پاکستان نے اپنی اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 229 رنز بنائے تھے جس میں محسن حسن خان کی خوبصورت سنچری بھی شامل تھی۔
اس کے بعد آسٹریلیا نے اپنی اننگز کا آغاز کیا۔ اس اننگز کی سب سے یادگار بات یہ تھی کہ اس میں پاکستان کے بائولر جلال الدین نے تین لگاتار گیندوں پر آسٹریلیا کے تین کھلاڑیوں روڈنی مارش، بروس یارڈ لے اور جیف لاسن کو آئوٹ کرکے کرکٹ کے ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں پہلی ہیٹ ٹرک بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔
آسٹریلیا کی ٹیم نے جواب میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 170 رنز بناسکی اور یوں یہ میچ پاکستان نے 59 رنز سے جیت لیا۔
اب تک کرکٹ کے ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں بیس ہیٹ ٹرکس بنائی جاچکی جن میں سے آٹھ ہیٹ ٹرکس پاکستان کے کھلاڑیوں نے بنائی ہیں۔ وسیم اکرم اور ثقلین مشتاق نے یہ اعزاز دو مرتبہ حاصل کیا جبکہ جلال الدین، عاقب جاوید، وقار یونس اور محمد سمیع یہ اعزاز ایک ایک مرتبہ حاصل کرچکے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY