حاملہ خواتین کا حد سے زیادہ آرام ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے نقصان دہ

0
361
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ حاملہ ماؤں کا بیڈ ریسٹ نہ صرف اس کی اپنی صحت کے لیے بلکہ ان کے آنے والے بچے کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ نئے مطالعے سے وابستہ امریکی ماہرین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ حمل کے دوران ماؤں کا زیادہ تروقت آرام کرنا فائدے سے کہیں زیادہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے اور یہ ان میں شدید ڈپریشن، پٹھوں کی کمزوری، خون میں کلاٹ جمنے اور ذیابیطس کے خطرہ کو بڑھا سکتا ہے۔

عام طور پر بیڈ ریسٹ کا مشورہ ابتدائی لیبر سے لے کر حمل کی دیگر پیچیدگیوں کے خطرے کے باعث دیا جاتا ہے جبکہ حمل کے دوران ہائی بلڈ پریشر اور اسقاط حمل کے خطرے سے دوچار خواتین کو بھی ڈاکٹرزیادہ تر بیڈ ریسٹ کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہیں۔ لیکن سوسائٹی کا کہنا ہے کہ تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ آرام کی وجہ سے وقت سے پہلے بچے کی پیدائش کے خطرے کو نہیں ٹالا جا سکتا۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قبل از وقت پیدائش زیادہ تر ایسی ماؤں میں عام تھی جنھیں خطرے کی وجہ سے اپنی معمول کی سرگرمیاں محدود کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ تحقیق میں حمل کے دوران محدود سرگرمیوں کے حوالے سے حاصل ہونے والے فوائد سے متعلق بہت کم اعدادوشمار حاصل ہو سکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیڈ ریسٹ کرنے کی وجہ سے حاملہ خواتین کےپیروں کی خون کی رگوں میں کلاٹ بننے کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے جو کہ پھیپھڑوں تک منتقل ہو کر مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY