عالمی اخبار کے ہم سفر

0
174

عالمی اخبار کے ہم سفر

ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
عالمی اخبار ایک ادارے کا نام ہے جہاں فکر کی نشو و نما کے لیئے ایک دوسرے سے سیکھنے کا شوق سب کو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک دوسرے سے ناصرف قریب رکھتا ہے بلکہ خیال کی ڈوری میں پروئے بھی رکھتا ہے ۔ اس ایک سال کے عرصے میں عالمی اخبار کی کامیابی کا سفر کیسا رہا وہ قاریئن کے سامنے ہی ہے لیکن اس خوبصوت اخبار کو ہم آپ تک کبھی پہنچا نہ پاتے جو ہمارے ساتھ ہمارے دوستوں کا ساتھ نہ ہوتا ۔۔۔۔ آیئے آپ بھی ان سے سے ملیں ۔۔ اور ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر ان احباب کا اور ان کے اہل خانہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی بلامفاد مساعی پر عالمی اخبار تاحیات نازاں رہے گا ۔۔
صفدر ھمٰدانی۔”مدیر اعلیٰ”۔عالمی اخبار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معروف شاعر،ادیب،صحافی،مرثیہ نگار،محقق اور براڈکاسٹر صفدر ھمٰدانی لاہور کے ایک علمی اور ادبی گھرانے میں 17 نومبر 1950 میں پیدا ہوئے۔ ایف سی کالج سے گریجوایشن کے بعد جامعہ پنجاب سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1973 میں ریڈیو پاکستان سے بطور پروڈیوسروابستہ ہوگئے.

صفدر ھمٰدانی نے ریڈیو پاکستان میںاپنی ملازمت کے دوران ریڈیو کی اکیڈیمی کے علاوہ ریڈیو ہالینڈ اور تین برس سے زائد عرصے تک ریڈیو جاپان میں بھی خدمات سرانجام دیں .انکی غزلوں کا پہلا مجوعہ’ کفن پہ تحریریں’ 1974 میں لاہور میں شائع ہوا تھا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت کے بعد 2003 میں انکی کتابیں ‘فرات کے آنسو’…مرثیوں کا مجموعہ….نورِ کربلاعزائی شاعری پہ تحقیق… اور’معجزئہ قلم’رباعیات ،قطعات و قصائد کا مجموعہ… فروری 2004 میں شائع ہوا

انکی تالیف اور تدوین”کلیات حسین” حسن عباس زیدی مرحوم کی شاعری کی کلیات 2005 میں طبع ہوئی۔

اگست 2006 میں انکا پہلا سفر نامہ” تہران اور گر عالمِ مشرق کا جنیوا” شائع ہوا. 2007 میں مرثیے کی دو کتابیں شائع ہوئیں جن میں سے ایک”زینت ہستی” ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ ہے جبکہ دوسری ”عطائے رضا” کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ ہے۔ ” رو رہا ہے آسماں” مرثیوں کاایک اور مجموعہ اورغزلوں کے مجموعے” بادل۔چاند اور میں ” اور” گونگی آنکھیں” زیر ترتیب ہے۔

مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کے سلسلے میں وہ برطانیہ کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران،جاپان، پاکستان(کراچی،لاہور،ملتان،مظفر گڑھ،اسلام آباد)،نیدرلینڈ،ہیگ ،ایمسٹرڈیم ،جرمنی میں فرینکفرٹ ،برلین،فشتہ، سٹٹگارٹ،فرانس،ناروے،،سویڈن میں سٹاک ہولم اور لن شاپنگ، ڈنمارک ،یونان،دبئی،ترکی، بلجیم،امریکہ (میامی،ہیوسٹن،فلوریڈا،نیوجرسی،کینڈا میں وینکور اور ٹورنٹو۔۔شام, مصر ، فن لینڈ اور آسٹریلیا میں سڈنی اور میلبورن کے علاوہ آسٹریا میں ویانہ اور کویت جیسےملکوں اورشہروں کا سفر کر چکے ہیں ۔

ماہ پارہ صفدر۔ مدیر حالات حاضرہ ۔ عالمی اخبار

لندن میں بی بی سی کی اردو سروس سے منسلک ماہ پارہ صفدر نشریات کی دنیا کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سرگودھا سے اور اعلیٰ تعلیم جامعہ پنجاب سے حاصل کی جہاں سے انہوں نے انگریزی کا ایم اے کیا اور پھر لندن یونیورسٹی سے وئیمن سٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری لی

پاکستان میں ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن کی نیوز کاسٹر کے حوالے سے انکی دنیا بھر میں شناخت ہے انکی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز لاہور ریڈیو سے اور پی ٹی وی کے لاہور مرکز سے ہوا اور بعد وہ ریڈیو کے مرکزی بیوز روم اسلام آباد اور پی ٹی وی اسلام آباد سے منسلک رہیں

انیس سو نوے کے اوائل میں انکو بی بی سی اردو سروس لندن کے لیئے منتخب کیا گیا جہاں وہ آج تک مصروف کار ہیں

نشریات کی دنیا میں خدمات کے طور پر اندرون متعدد ایوارڈ مل چکے ہیں

ماہ پارہ صفدر کئی برسوں سے شعر گوئی کے تخلیقی عمل کو اپنائے ہیں لیکن انہوں نے شاعری کی بجائے نشریاتی دنیا کو اپنی پہچان بنایا ہے اور شاعری کو فقط اظہار کے ایک میڈیم تک ہی محدود رکھا ہے۔ انکے والد سید حسن عباس زیدی،سسُر مصطفیٰ علی ھمدانی اور شوہر صفدر ھمدانی ادبی دنیا میں اپنی شناخت رکھتے ہیں لیکن ماہ پارہ صفدر کی ادبی دنیا میں اپنی الگ انفرادیت ہے

ٹی وی ریڈیو کی یاداشتوں پر مشتمل بی بی سی کی ان لائن سیریز کی مقبولیت کے بعد ان دنوں وہ ان یاداشتوں کو کتابی صورت دینے میں مصروف ہیں جو جلد ہی شائع ہو گی

عالمی اخبار پر انکے خبری تجزیے شائع ہوتے رہتے ہیں

ڈاکٹر نگہت نسیم۔”نائب مدیر”۔عالمی اخبار

میں خوش نصیب ہوں جب میں ٹیم میں شامل ہوئی تو بابا نے میرا تعارف کچھ یوں لکھا تھا ۔۔ ان کا لکھا ہوا میرے لیئے سند ہے ۔۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ڈاکٹر نگہت نسیم پیشے کے اعتبارسے ماہر نفسیات ہیں اور اردو ادب اور صحافت پر بھی دسترس رکھتی ہیں۔ وہ بنیادی طور پر ایک افسانہ نگار ہیں اور انکے افسانوں کے دو مجموعے”گرد بادِ حیات” اور ”مٹی کا سفر” شائع ہو چکے ہیں لیکن نظم نگاری میں انکا منفرد اور بے باک انداز اظہار انہیں عہد حاضر کے نظم نگاروں میں ممیز کرتا ہے۔ انہیں اس امر کا ادراک ہے کہ انکا مزاج غزل گوئی کا نہیں اس لیئے انہوں نے غزل کے مصرعے زبردستی جوڑنے کی بجائے حقیقی اور خالص نظم لکھنے پر ہی خود کومرکوز رکھا ہے ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم میرا جی کے بعد نظم کو غزل کے مقابلے میں اسکا کھویا ہوا وقار واپس دلوانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ جس کی گواہی ان کی نظموں کا مجموعہ “‌سفید جھیل ہے “‌۔۔ انکے افسانے پاکستان اور بیرون پاکستان کے ادبی جریدوں میں برسوں سے شائع ہو رہے ہیں۔ ان کا کالموں کامجموعہ “‌یہی دنیا ہے یہیں کی باتیں “‌ بھی منظر عام پر آچکا ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے افسانوں کا تیسرا مجموعہ اور نظموں کا دوسرا مجموعہ زیر طبع ہے ۔

نگہت نسیم سڈنی میں ایک عرصہ سے ریڈیوایف ایم 100.9 کی اردو سروس کے پروگرام “ ریڈیو دوستی “ کی میزبان رہی ھیں اور آج کل ریڈہو سڈنی 2000 – 98۔5 ایف ایم سے منسلک ہیں اور پروگرام “‌دوستی “‌کی میزبان ہیں ۔ اٍس کے ساتھ ساتھ ملٹی کلچر آرٹس کی جانب سے ٹی وی ایس پر یش کیا جانے والا پروگرام “ دیسی ٹی وی “ میں بھی میزبانی کرتی رہی ھیں ۔ آج کل ایرانی ” ٹی وی سحر” پر مختلف سماجی، علمی،ادبی اور طبی مسائل پر ماہرانہ رائے
دیتی ہیں

شمس جیلانی۔”معاون مدیر ، بیورو چیف،کینیڈااور مدیر دینی امور”۔عالمی اخبار

اردو زبان کو بیرونی ممالک میں زندہ رکھنے کے لیئےادیبوں،شاعروں اور محققین نے علم و ادب اور تحقیق و جستجو کی جو شمع روشن کر رکھی ہے اس کے ذریعے وہ دراصل ایک ایسا جہاد کر رہے ہیں جو جہاد بالقلم ہونے کے ناطے جہاد بالسیف سے بہت افضل ہے اور شمس جیلانی اس فہرست میں صف اول کے لکھاریوں میں شامل ہیں اور لکھنے والوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی عمر کی دھونس جمانے کی بجائے اپنے مطالعے اور اپنی تحریر سے دل میں گھر کرتے ہیں۔

اسلامی موضوعات پر انکی تحریریں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں اور اسی طرح انکی شاعری میں بھی مسلم امہ کے لیے ایک تڑپ موجود ہے

عالمی اخبار میں انکی شرکت اور قلمی تعاون ہم سب کے لیئے باعث عزت اور باعث رہنمائی ہے۔

شمس جیلانی صاحب کی شائع شدہ کتب میں ‘‘ سورہ فاتحہ اور اس کے تقاضے،اسلام اور حقوق العباد،قصے مخلصین کے،حضرت امداد اللہ مہاجر مکی اور ہفت مسائل،صدا بہ صحرا،گمان معتبر،اتم ہے انسان، بنیادیات ذیابیطس اور تازہ کتاب سیرت النبی صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم،روشنی حرا سے شامل ہیں۔

فرخندہ رضوی۔ بیورو چیف برطانیہ

برطانیہ کے شہر ریڈنگ میں مقیم منفرد شاعرہ ، افسانہ نگار او مبصر فرخندہ رضوی کو عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ میں برطانیہ کا بیورو چیف مقرر کیا ہے ۔ اور اس فیصلے کو کرتے ہوئے ان کی ادبی اور سماجی خدمات کو مدنظر رکھا گیا ہے ۔

عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ نے اس یقین کااظہار کیا ہے کہ فرخندہ رضوی کی اخبار میں شمولیت سے برطانیہ بھر کی خبروں کے ساتھ ساتھ ملک بھر کی ادبی خبروں کوبھی مزید بہتر انداز میں نمائندگی ملے گی ۔ فرخندہ رضوی گزشتہ کئی برس سے عالمی اخبار میں قلمکار کے طور پر شریک ہیں ۔ ان کی شاعری ، افسانے اور کالم شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ برطانیہ کے ادبی حلقوں میں انہیں بخوبی پہچانا جاتا ہے اور اسی سلسلے میں وہ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی جا چکی ہیں ۔

فرخندہ رضوی ایک اچھی شاعرہ ، اچھی افسانہ نگار اور ادبی کتب پر اپنے تبصروں کے حوالے سے ایک الگ شناخت رکھتی ہیں ۔ ان کے متعدد شعری اور افسانوں کے مجموعے شائع ہو چکے ہیں ، جن میں ان کے شعری مجموعے “زیر لب خندہ “ کو اور سچی کہانیاں اور افسانے کے مجموعے “ پھر وہ صبح کہاں “ کو بہت پذیرائی ملی ہے ۔ ان کا پہلا سفر نامہ بہت جلد شائع ہو رہا ہے ۔

ناہید اختر چٹھہ ۔ ایڈیٹر گرافکس

عالمی اخبار میں فنون لطیفہ کے سلسلے میں جب “ ناہید گیلری “ کا آغاز ہوا تو دنیا بھر سے عالمی اخبار کو تہنیت کے پیغامات موصول ہوئے ۔ یہ گیلری تھی معروف مصورہ ناہید اختر چھٹہ کی جو برطانیہ کے شہر ڈربی میں مقیم ہیں ۔

پاکستانی نژاد معروف و مقبول مصورہ ناہید اختر چٹھہ کے مصورانہ فن پارے عالمی اخبار میں انکی اپنی تحریر کردہ وضاحت کے ساتھ ہر پندرہ دن کے بعد پیش کیئے جاتے ہیں ۔ خوبصورت کارٹونسٹ ہیں ۔ اس کے علاوہ این ایچ ایس میں کلینکل سپورٹ ورکر کے طور پر برسوں سے خدمت انجام دے رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ ڈربی کی اردو کمیونٹی کے ترجمان “ ریڈیو اخلاص “ میں “ کمیونکیشین آفیسر “ کے فرائض بھی انجام دے رہی ہیں ۔

ناہید اختر چٹھہ نے مصوری کی تعلیم لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس اور پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی ہے اور انہیں ہر قسم کی مصوری سے لگاؤ ہے ۔ انکی اہم تصاویر میں برش اور رنگوں کا استعمال بہت سے تصاویر میں منفرد نظر آتا ہے لیکن امیجنری آرٹ ان کا خاصا ہے ۔۔

ناہید اختر چٹھہ کے فن پاروں کی نمائشیں لاہور کی الحمرا آرٹ گیلری سمیت پاکستان اور بیرون ملک بھی ہو چکی ہیں جنکی تفصیل ناہید گیلری میں موجود ہے ۔ عالمی اخبار کا ادارتی عملہ ناہید اختر چٹھہ کا دلی ممنون ہے کہ انہوں نے خاص طور پر عالمی اخبار کو اپنے فن پاروں کی اشاعت کے لیئے منتخب کیا اور اسکی اجازت دی اور آج ہماری دیرینہ خواہش پرعالمی اخبار کی “ ایڈیٹر گرافکس “ ہونے کی زمیداری قبول کی جس کے لیئے ادارہ ان کا بے حد ممنون ہے

زرقا مفتی۔”مدیر ادبی دنیا”۔عالمی اخبار

زرقا مفتی پاکستان کے شہر دل ”لاہور” میں مقیم ہیں اور اعلیٰ ادبی ذوق کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ ہیں۔
vspace=”5″>معاشیات میں ماسٹرز ، بین الاقوامی تعلقات اور کمپیوٹر سائنس میں پوسٹ گریجویشن کر رکھی ہے۔کچھ عرصہ ایک کنسلٹینسی پر سسٹم اینالسٹ کی حیثیت سے کام کیا لیکن ۔پھر خود کو گھر داری کے محاذ پر ہی محدود کر لیا لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے علمی اور ادبی سرگرمیوں کو خیر باد کہہ دیا بلکہ امور خانہ داری کے بعد جو انکا ذاتہ وقت بچا اسے انہوں نے اپنے ادبی اور تخلیقی ذوق کی تسکین کے لیئے استعمال کیا۔

بقول خود زرقا مفتی کے کہ ”پڑھنے لکھنے کا شوق شروع سے ہے۔ ادب سے ایک قاری کی حیثیت سے تعلق بہت پُرانا ہے۔ زمانہءطالبعلمی سے ہی لکھنے کا شوق تھا ۔ ادھر اُدھر لکھ کر چھپا کر رکھ لیتی تھی۔ اپنی خاموش طبیعت کے باعث یہ سب کسی سے شئیر نہ کیا۔ کمپیوٹر سے دلچسپی تھی اس لئے انٹر نیٹ کی ادبی دُنیا میں قدم رکھا۔ پچھلے کچھ برسوں سے مختلف ادبی فورمز پر لکھتی آ رہی ہوںشاعری کے علاوہ کہانیاں بھی لکھتی ہوں۔ اس کے علاوہ ملکی حالت پر کالم لکھنے کا سلسلہ کچھ عرصے سے جاری ہے۔

اُردو انجمن کے کچھ صفحات ڈیزائن کئے اس کے بعد امجد اسلام امجد صاحب کی سایٹ ڈیزائن کی”۔

زرقا مفتی ہمہ جہت شخصیت کی مالک ہیں اور ”عالمی اخبار” کے عملے میں انکی ”مدیر ادبی دنیا ” کی حیثیت میں شمولیت بے شک اخبار کے ادبی ذوق اور معیار کو بلند کرے گی۔
ادارہ”عالمی اخبار” خاص طور پر زرقا مفتی کا ممنون ہے کہ انہوں نے ہمارے اس قافلے میں نہ صرف شرکت کی حامی بھری بلکہ اپنے تخلیقی تعاون سے ہمیں احسان مند کیا

اشاہین حیدر رضوی۔ بیورو چیف۔عالمی اخبار گلف

شاہین حیدر رضوی کا قلمی نام شاہین رضوی ہے اور انکا تعلق ایک علمی اور ادبی خانوادے سے ہے۔گویا علم وادب انہیں ورثے میں ملا ہے اور اس ورثے کی حفاظت وہ کمال محبت سے کر رہی ہیں۔ایک طویل عرصے سے وطن عزیز سے باہر خلیج کے ممالک میں رہنے کے باوجود اردو زبان و ادب سے انکی محبت کم نہیں ہوئی بلکہ اسمیں اضافہ ہوا ہے۔ وہ کویت میں ایک عرصے سے مقامہ اخبارات میں لکھ رہی ہیں۔
عالمی اخبار کو طویل عرصے سے خلیجی ممالک کی خبروں کے لیئے ایک ایسی ہی قلم کار کی تلاش تھی۔ عالمی اخبار کو یقین ہے کہ انکی تعیناتی سے اس خطے کی خبریں اور معلومات مزید بہتر طور پر قارئین تک پہنچ پائیں گی۔

شاہین رضوی نے اپنے تعارف میں لکھا ہے۔۔

عالمی اخبار تو ھماری ذھنی اور فکری درسگاہ ھے اور اس سے شعور وفکر کو وسعت اور نمو مسلسل مل رھی ھےجو راحت اور سکون کے ساتھہ میرے اندر ایک بےچین طالبانہ روح بھی بیدار کر رھی ھے

میرا شمار ان خوش نصیب لوگوں میں ھوتا ھےجن کو عالمی اخبار جیسے مستند خبری ادارے میں بے پناہ شفقت ملی ھے

میرا تعلق ایک علمی اورادبی گھرانے سے ھے۔میرے دادا سید علی حیدر رضوی ، ریئس امروھی کے خاص دوستوں میں سے تھے اور مریثہ گو شاعر تھے۔یہ ھماری بہت بڑی بدقسمتی ھےکہ اپنے والد اور پھر چچاؤں کی بہت کم عمری میں رحلت کے باعث ھم ناسمجھ بچے ان کی تخلیقات کو محفوظ نہ کرسکے۔

میری دادی بھی میر انیس و دبیر کے مرثیے تحت الفظ میں ّپڑھتیں تھیں ۔گھر کا ماحول بہت سادہ اور ادبی تھا۔ اسی ماحول میں آنکھیں کھولیں۔پڑھنے لکھنے کا شوق وراثت میں ملا،اسکول او رکالج میں بھی بہترین استاد میسر آ ئے اور قلم سے قائم رشتہ آج تک برقرار ہے

کراچی یونیورسٹی سے بی۔اے آنرز میں ھی تھی کہ شادی کے بعد1983میں کویت آنا ّپڑا۔ شوھر نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے اعلی تعلیم کے لیے لندن بھیجینگے مگر وہ اپنی بیماری کے باعث وعدہ پورا نہ کرسکے

میں نے 1990-تا1996-تک مصر میں قیام کیا اس دوران بہت سارے کورس کیے اور عربی زبان کی تعلیم حاصل کی وھاں پڑھایا بھی اور پڑھا بھی۔

گذشتہ 27سال سے کویت میں مقیم ھوں مگر میرے دل کو پاکستان کے سوا کوئی ملک نیہں بھاتا۔

اپنا ادبی سفر دوشیزہ ڈائجسٹ سے شروع کیا تھا اورگذشتہ 5 سال سے کویت کے مقامی اخبار میں بھی لکھ رھی ھوں اور یہاں ھونے والی تقریبات کی کمپئرنگ بھی کرتی ھوں اور سماجی خدمات کے کاموں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ھوں۔

عالمی اخبار نے جو بھروسہ مجھ پر کیا ہے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس پر پورا اترنے کی توفیق عطا کرے۔آمین

سیدہ قرۃ العین نقوی۔ بیورو چیف اسلام آباد، راولپنڈی

سیدہ قرۃ العین نقوی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بنیادی طور پر شعبہء صحافت سے وابستگی ۔گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان سے ایم اے جرنلزم امتیازی پوزیشن سے پاس کیا ۔ اس کے بعد روز نامہ پاکستان ، آبزرور ، نیشن ، مشرق میں مختلت حیثیتوں اور مختلف اوقات میں وابستہ رہیں ۔بعد ازاں پاکستان ٹیلی وژن نیوز اسلام آباد میں بطور نیوز پروڈیوسر اور سب ایڈیٹر دس سال تک وابستہ رہیں

۔ریڈیو پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈیپوٹیشن پر بطور نیوز ایڈیٹر فرائض ادا کیے ، ،اور ریڈیو ڈیرہ کے مختلف ادبی و ثقافتی حالاتِ حاضرہ خواتین اور بچوں کے حوالے سے مختلف پروگرواموں کی پروڈکشن اور میزبانی بھی کی

پاکستان کے مختلف نجی ٹی وی چینلز میں بھی بطور نیوز ایڈیٹر کام کیا

سعودی عرب جدہ میں رہائش کے دوران وہاں سے چھپنے والےواحد اردو اخبار ،، اردو نیوز میں باقاعدگی سےکالم لکھتی رہیں ، ، اورجدہ ریڈیو کی اردو سروس میں مختلف پروگرامز کی کمپرئینگ بھی کی ،تحقیقی مضامین اور تراجم کے ساتھ ساتھ افسانہ نگاری بھی کرتی رہیں

آجکل عالمی اخبار ،جنگ ،نوائے وقت ، ملٹی ویژن اور روز نامہ پاکستان اسلام آباد میں بھی وقتاً فوقتاً کالم لکھنے کا سلسلہ جاری ہے

نوشی عقیل۔ انچارج عالمی اخبار بلاگ

نوشی عقیل اپنی محنت اور کام میں لگن کی وجہ سے عالمی اخبار کے ادارتی قافلے میں شامل ہونے والی نئے رکن ہیں ۔ سوشل میڈیا میں انکی شمولیت اور مثبت خیال آفرینی کے باعث انکو عالمی اخبار کے بلاگ کی انچارج بنایا گیا ہے

انکے ایک سے زائد نام انکی شخصیت کے تنوعی کی نشانی ہیں ۔ نوشین نصیر، نوشین عقیل اور نوشی عقیل ۔ تا ہم سوشل میڈیا میں وہ نوشی عقیل کے نام سے ہی جانی جاتی ہیں

تعلیمی اعتبار سے گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے مزید تعلیم عملی میدان میں لی اور ایک استاد کے طور پڑھانے کے علاوہ گرافکس ڈیزاینینگ میں مہارت حاصل کی۔ موسیقی سے انکی دلچسپی ہے ۔ ایک اور اچھی عادت یہ کہ اچھی باتیں پڑھ کر ذائری میں تحریر کر لیتی ہیں

سیروساحت سے دلچسپی ہے اور اسی وجہ سے تاریخی عمارات کے بارے میں تحقیق کرتی ہیں اور اس مناسبت سے انکی متعدد تحریریں موجود ہیں
محمد ادریس ۔ مدیر ۔ شعبہ کھیل

محمد ادریس ریڈیو پاکستان پشاور میں پہلے ڈیوٹی آفیسر فوراً بعد پروگرام پروڈیوسر کی حیثیت سے کام کیا اس کے بعد1964ء سے 1966ء تک ریڈیو پاکستان کراچی میں پروگرام پرپروڈیوسر رہے۔

آپ 1966ء مارچ سے فیصل آباد میں مرحوم حکیم سعید کے ادارے’’ہمدرد‘‘ سے منسلک ہیں اور’’ہمدرد‘‘ کے تقسیم کار کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

کرکٹ کی اردو کمنٹری کرنے والے اہم ترین ناموں میں انکا شمار ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے 1976ء سے اب تک ریڈیو اور T.Vپر اُردو میں کرکٹ کمنٹری کر رہے ہیں۔

روزنامہ ’’شیلٹر‘‘ کے سپورٹس کے صفحہ کے انچارج ہیں۔ کرکٹ سے متعلق ریڈیو پاکستان سے ان کے تبصرے اور جائزے نشر ہوتے رہتے ہیں۔ قومی اخباروں میں کرکٹ کے حوالہ سے ’’کالم‘‘ لکھنا معمول ہے۔ ادیبوں، فنکاروں اور صاحبِ علم سے کچھ حاصل کرنا عادت ہے۔۔

میں ادریس صاحب کو عرصہ بیس برس سے جانتی ہوں جب میں پنجاب میڈیکل کالج میں پڑھنے فیصل آباد آئی تھی ۔۔ ادریس صاحب میں ہمہ وقت ایک بڑا بھائی ۔۔ ایک باپ ۔۔ ایک مہربان استاد ۔۔ اک سایہ دار سرپرست بیک وقت سانس لیتا ہے ۔۔ میرے ماموں خالد مسعود جو ادریس صاحب کے یار غار بھی ہیں ان کے لیئے کہتے ہیں کہ مصبیت انسان کو ڈھونڈتی ہے لیکن ادریس مصبیت کو ڈھونڈتا ہے اور گلی گلی پوچھتا ہے کہ ہے کوئی ضرورتمند ۔۔ ہے کوئی مشکل میں ۔۔۔ان کی انسان دوستی اس دنیا کی نہیں لگتی ۔۔ برسوں سڈنی کے ریڈیو ایف ایم پر میرے ساتھ کھیلوں کی خبریں براہ راست فیصل آباد سے کرتے رہے ۔

Mohammed Safdar. Editor English Section

Mohammed Safdar introduces himself like this……..I have graduated from the University of Warwick in Economics, Politics and International Studies, and am currently working at BDO Stoy Hayward, providing financial services.

Despite the fact that I’m not studying Journalism, I’m concious of the world around me, and the way in which worldy affairs are mediated to the populace, and as a result, I’ve always been interested in writing. Encouraged by academically motivated parents, writing has been a gift passed on to me, and one which I enjoy .using to speak about current affairs.

SHARE

LEAVE A REPLY