اوڑی حملے کے خلاف بات کرنے پر اداکار اوم پوری کے خلاف مقدمہ

0
235

: اوڑی حملے اور پاکستانی فنکاروں پر پابندی لگانے کے خلاف بات کرنے پر بولی وڈ کے معروف اداکار اوم پوری کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

اوم پوری نے ایک لائیو ٹی وی شو کے دوران اوڑی حملے میں ہلاک ہونے والے ہندوستانی فوجیوں کے حوالے سے بیانات دیئے تھے، جس کے بعد سنگھرش نامی ایک تنظیم نے ممبئی کے اندھیری پولیس سٹیشن میں اوم پوری کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔

بولی وڈ لائف کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک شو کے دوران اوم پوری کا کہنا تھا ’فوجیوں سے کس نے کہا تھا کہ وہ آرمی میں جائیں؟ کس نے ان سے کہا تھا کہ اسلحہ اٹھائیں؟‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’15 سے 20 خودکش بمبار تیار کریں اور انہیں پاکستان بھیج دیں‘۔

اوم پوری کا مزید کہنا تھا کہ ’جب حکومت کوئی ایکشن لے تو ہم سب کو خاموش رہنا چاہیے، میں 6 مرتبہ پاکستان کا دورہ کرچکا ہوں، مجھے وہاں سے ہمیشہ پیار ہی ملا ہے، اگر پاکستانی اداکار ہندوستان میں کام چھوڑ کر چلے جائیں تو ہندوستان کا بھی نقصان ہوگا‘۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 18 ستمبر کو جموں و کشمیر کے اُوڑی سیکٹر میں ہندوستانی فوج کے ہیڈ کوارٹر پر مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں 18 فوجی ہلاک ہوگئے تھے، جبکہ جوابی کارروائی میں 4 حملہ آوروں کو بھی مار دیا گیا تھا۔

دوسری جانب اوم پوری کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

انوپم کھیر نے ٹوئٹر پر اوم پوری سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ’اوم پوری جی میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں، لیکن کل ٹی وی پر دیش (وطن) کے سینک (فوجی) کے بارے میں آپ کی بات سن کر بہت دکھ ہوا‘۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سلمان خان بھی پاکستانی فنکاروں کے حق میں بات کرچکے ہیں تاہم انہیں بھی انتہا پسند ہندو تنظیم شو سینا کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY