گیارہ اکتوبر 2005ء کو شان الحق حقی ٹورنٹو (کینیڈا) میں وفات پاگئے۔

0
344

شان الحق حقی کی وفات
گیارہ اکتوبر 2005ء کو معروف شاعر‘ ادیب‘ محقق و نقاد‘مترجم اورماہر لسانیات شان الحق حقی ٹورنٹو (کینیڈا) میں وفات پاگئے۔
شان الحق حقی 15 ستمبر 1917ء کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد مولوی احتشام الدین حقی اپنے زمانے کے مشہور ماہر لسانیات تھے اور انہوں نے مولوی عبدالحق کی لغت کبیر کی تدوین میں بہت فعال کردار ادا کیا تھا۔ اسی علمی ماحول میں شان الحق حقی کی پرورش ہوئی۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن اور سینٹ اسٹیفنز کالج دہلی سے انگریزی میں ایم اے کیا جس کے بعد وہ آل انڈیا ریڈیو اورہندوستان کے شعبہ اطلاعات کے مشہور ماہنامہ آج کل سے وابستہ رہے۔
قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئے جہاں انہوں نے 1950ء سے 1968ء تک حکومت پاکستان کے محکمہ مطبوعات و فلم سازی میں خدمات انجام دیں، بعدازاں وہ پاکستان ٹیلی وژن کے سیلز ڈپارٹمنٹ سے بھی منسلک رہے۔
شان الحق حقی کی تصانیف میں تار پیراہن‘ دل کی زبان‘ حرف دل رس‘ نذر خسرو‘ انتخاب ظفر (مع مقدمہ) اور نکتہ راز‘ تراجم میں انجان راہی‘ تیسری دنیا‘ قلوپطرہ‘ گیتا نجلی اور ارتھ شاستر اور مرتبہ لغات میں فرہنگ تلفظ اور اوکسفرڈ انگریزی اردو لغت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک طویل عرصہ تک ترقی اردو بورڈ میں بطور معتمد اعزازی خدمات انجام دیں اور اردو کی سب سے بڑی لغت کی تدوین میں ایک بہت اہم کردار ادا کیا۔
شان الحق حقی کو حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔ وہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں آسودۂ خاک ہیں۔
ان کے دو اشعار ملاحظہ ہوں:

تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے
……٭٭٭……
بھلا دو رنج کی باتوں میں کیا ہے
اِدھر دیکھو مری آنکھوں میں کیا ہے
—————————————————————————————————–

استاد جھنڈے خان کی وفات

برصغیر کے نامور موسیقار استاد جھنڈے خان 11 اکتوبر1952ء کو گوجرانوالہ میں وفات پا گئے۔
استاد جھنڈے خان کا اصل نام میاں غلام مصطفی تھا اور وہ 1866ء میں جموں کے ایک گائوں کوٹلی اوکھلاں میں پیدا ہوئے تھے۔ علم موسیقی کے حصول کے لیے انہوں نے ہندوستان کے طول و عرض میں سفر کیا اور پھر بمبئی کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا جہاں انہوں نے موسیقی کے بھنڈی بازار گھرانے کے موسیقاروں چھجو خان، نذیر خان اور خادم حسین خان سے اکتسابِ فیض کیا۔ موسیقی کے علم میں استعداد بہم پہنچانے کے بعد وہ مختلف تھیٹریکل کمپنیوں کے ساتھ وابستہ رہے اور ان کے لیے خوب صورت بندشیں اور دھنیں اختراع کرتے رہے۔
پھر بولتی فلموں کا دور آیا تو انہوں نے تیس سے زیادہ فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ اپنی زندگی کے آخری دور میں انہوں نے ایک اور فنی کرشمہ دکھایا اور وہ یہ کہ فلم ’’چتر لیکھا‘‘ کی تمام دھنیں ایک ہی راگ (بھیرویں) میں ترتیب دیں۔ سُر ایک ہی تھے لیکن ان کے زیر و بم میں ایسا تنوع رکھا تھا کہ محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ سننے والا ایک ہی راگ سن رہا ہے۔ استاد جھنڈے خان نے اپنے کمالات سے فلمی موسیقی کو بام عروج پر پہنچا دیا۔ برصغیر کی فلمی موسیقی انہی کے فنی اجتہاد اور رہبری کی مرہونِ منت ہے۔ قیام پاکستان کے بعد استاد جھنڈے خان گوجرانوالہ میں رہائش پذیر ہوئے اور وہیں 11اکتوبر 1952ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔

SHARE

LEAVE A REPLY