شمالی کوریا کی طرف سے رواں سال دوسرا جوہری تجربہ

0
175

شمالی کوریا نے تصدیق کی ہے کہ جمعہ کی صبح جوہری تجربے کی تنصیب کے قریب 5.3 شدت کا آنے والا زلزلہ اس کے جوہری تجربے کا نتیجہ تھا۔

امریکی ارضیاتی سروے اور یورپی یونین کی ایجنسیز نے مقامی وقت کے مطابق صبح نو بج کر 30 منٹ کے مطابق زلزلہ آیا۔

شمالی کوریا کے سرکاری ٹی وی “کے سی این اے” پر اناؤنسر نے ملک کے نیوکلیئر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا ایک بیان پڑھا جس میں تصدیق کی گئی کہ مختلف نوعیت کے میزائلوں کے ذریعے لے جانے کے لیے تیار کیے گئے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت جانچنے کے لیے یہ کامیاب جوہری تجربہ کیا گیا۔

“جوہری وار ہیڈ کا تجربہ ان امریکہ اور دشمنوں کی طرف سے خطرات اور پابندیوں کے جواب میں کیا گیا جو جوہری ریاست کے طور پر ہماری حیثیت سے انکار کرتے ہیں۔”

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں قائم ‘مڈلبری انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز ‘ سے منسلک جیفری لیوئس نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس شدت کا زلزلہ اس بات کا مظہر ہے کہ یہ بم 20 سے 30 کلو ٹن (جوہری) مواد کا ہو سکتا ہے جو ان کے اندازے کے مطابق اب تک شمالی کوریا کی طرف سے کیے جانے جوہری تجربات میں استعمال ہونے والے مواد کی سب سے بڑی مقدار تھی۔

نو ستمبر کو شمالی کوریا کے قیام کی 68 ویں سالگرہ ہے اور اس دن ملک بھر میں عام تعطیل ہوتی ہے اور اس اہم دن کے موقع پر پیانگ یانگ ماضی میں جوہری اور میزائل تجربات کرتا رہا ہے۔

شمالی کوریا نے رواں سال اپریل میں اپنا چوتھا جوہری تجربہ کیا تھا جس کے بعد طویل فاصلے کے مار کرنے والے راکٹ کا بھی تجربہ کیا۔

اقوام متحدہ نے مارچ میں شمالی کوریا پر سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوتے ہوئے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو فروغ دینے پر نئی تعزیرات عائد کی تھیں۔

ان تازہ ترین پابندیوں کے عائد ہونے کے بعد پیانگ یانگ مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے تجربات کر چکا ہے جس میں آبدوز سے فائر کیے جانے والے میزائل بھی شامل ہیں۔

شمالی کوریا کی طرف سے آخری میزائل تجربہ دنیا کی بڑی معیشتوں کے گروپ ‘جی ۔ 20’ کے چین میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس کی موقع پر کیا گیا۔ اس اجلاس میں امریکہ، جنوبی کوریا، جاپان اور روس کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

اگرچہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کی طرف سے تواتر سے کیے جانے پر میزائل تجربات پر شمالی کوریا کی مذمت کی تاہم اس کی طرف سے کوئی نئی پابندیاں عائد نہیں کی گئی ہیں۔

سلامتی کونسل کا مستقل رکن بیجنگ جو پیانگ یانگ کا ایک اہم اتحادی ہے، نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ کسی ایسے اقدام سے احتراز کریں جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

چینی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ ایسی سنگین پابندیاں عائد کرنے کے خلاف ہیں جو کم جانگ ان کی حکومت کے خاتمے، چین اور شمالی کوریا کی سرحد پر عدم استحکام اور جزیرہ نما کوریا میں امریکی اثر و رسوخ میں اضافے کا باعث بنے۔

دوسری طرف چینی صدر شی جنپنگ نے امریکہ کی طرف سے جنوبی کوریا میں دفاعی میزائل نظام ’ٹرمینل ہائی الٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس سسٹم‘ یعنی تھاڈ کی تنصیب کی مخالفت کی ہے۔

سیئول کا کہنا ہے کہ تھاڈ نظام اس کے دفاع کے لیے ضروری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جنوبی کوریا میں نصب ہونے والا یہ دفاعی نظام شمالی کوریا کے مختصر اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے خلاف موثر ہو گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY