جنرل پرویز مشرف نے ملک کا اقتدار سنبھالا 12 اکتوبر 1999ء کو

0
327

فیصل مسجد اسلام آباد کا سنگ بنیاد رکھا گیا

1959ء میں جب اسلام آباد کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی تو ان منصوبہ سازوں کے ذہن میں ایک ایسی مسجد کا خاکہ بھی تھا، جو پرشکوہ بھی ہو، پر جمال بھی ہو اور اس جدید ترین شہر کی شناخت اور پہچان بھی ہو۔ اسلام آباد کا شہر آہستہ آہستہ بستا رہا اور جب 1966ء میں سعودی عرب کے شاہ فیصل پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تو انہوں نے اس مسجد کے تمام تر اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا۔
1968ء میں حکومت پاکستان نے اس مسجد کے ڈیزائن کے لئے ایک بین الاقوامی مقابلے کا اہتمام کیا۔ یہ مقابلہ ترکی کے جواں سال آرکٹیکٹ ویدت دلو کے نے جیتا۔ مارچ 1975ء میں جب شاہ فیصل شہید کردیئے گئے تو حکومت پاکستان نے فیصلہ کیا کہ یہ مسجد ان کے نام سے معنون کردی جائے۔ چنانچہ 28 نومبر 1975ء کو حکومت نے اس مسجد کا نام ’’شاہ فیصل مسجد‘‘ رکھنے کا اعلان کردیا۔
اکتوبر 1976ء میںجب سعودی عرب کے فرمانروا شاہ خالد پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تو حکومت پاکستان نے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے بھائی کے نام سے معنون اس عظیم مسجد کا سنگ بنیاد نصب فرمائیں۔ چنانچہ 12 اکتوبر 1976ء مطابق 17 شوال 1396ھ کو شاہ خالد نے ایک باوقار تقریب میں اس عظیم الشان مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔
فیصل مسجد کے مرکزی ہال کا رقبہ 51 ہزار 984 فٹ مربع فٹ ہے مرکزی ہال کے چاروں طرف چار مینار ہیں جن میں سے ہر ایک کی بلندی 286 فٹ ہے۔ مسجد کا مرکزی ہال ایک خیمے کی شکل میں ڈیزائن کیا گیا ہے جس کی اونچائی اندرونی جانب سے 134 فٹ اور بیرونی جانب سے 150 فٹ ہے۔ اس مرکزی ہال میں پاکستان کے دو ممتاز مصوروں صادقین اور گل جی نے بھی آیات ربانی کی خطاطی کا شرف حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس ہال کے اوپر نصب کئے جانے والے طلائی ہلال کی تنصیب کا کام بھی گل جی نے انجام دیا تھا۔
یہ مسجد 10 سال کی شب و روز تعمیر کی بعد 2 جون 1986ء مطابق 23 رمضان المبارک 1406ھ کو پایہ تکمیل کو پہنچی۔ یوں وہ خواب جو شاہ فیصل نے 1966ء میں دیکھا تھا، دو دہائیوں کے بعد حقیقت کا روپ دھار گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنرل پرویز مشرف نے ملک کا اقتدار سنبھالا

12 اکتوبر 1999ء کو جب پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف سری لنکا کی آزادی کی پچاس سالہ تقریبات میں شرکت کرکے کولمبو سے واپس آرہے تھے، پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف نے اچانک انہیں ان کے عہدے سے برطرف کردیا اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نیا آرمی چیف مقرر کردیا۔
جونہی یہ اطلاع ٹیلی وژن سے نشر ہوئی اور جی ایچ کیو پہنچی، کورکمانڈرز نے اس حکم کی تعمیل کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف اس وقت ملک سے باہر ہیں۔ حکومت اگر انہیں ان کے عہدے سے ہٹانا ہی چاہتی تھی تو اسے ان کی واپسی کا انتظار کرنا چاہئے تھا، بصورت دیگر وہ جنرل پرویز مشرف ہی کے احکامات کی تعمیل کریں گے۔
ادھر جنرل پرویز مشرف اس کارروائی سے بے خبر تھے اور وہ مالے کے راستے کولمبو سے کراچی کے لئے محو سفر تھے۔ حکومت نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھانا چاہا اور کوشش کی کہ جنرل پرویز مشرف جس طیارے میں سوار ہیں اسے کراچی ائیر پورٹ پر اترنے نہ دیا جائے۔ مگر فوج کے کورکمانڈروں نے اس کوشش کو ناکام بنادیا۔
جنرل پرویز مشرف کا طیارہ کراچی ائیر پورٹ پر ہی اترا اور جب جنرل پرویز طیارے سے باہر آئے تو فوج نے انہیں آرمی چیف ہی کا پروٹوکول دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں فوج نے پورے ملک کے انتظامی حالات پر کنٹرول کرلیا۔ وزیراعظم نواز شریف کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا اور جنرل پرویز مشرف ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔

SHARE

LEAVE A REPLY