قومی اسمبلی سے حذب مخالف نے واک آوٹ کیا ہے

0
314

قومی اسمبلی میں عمران خان کی تقریر کے بعد ھذب مخالف نے اسمبلی کی کاروائی کا بائیکاٹ کر دیا

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ سردار ایاز صادق کو اسپیکر قومی اسمبلی نہیں مانتے کیوں کہ وہ غیر جانبداری سے فیصلہ نہیں کرتے۔

ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کی صدارت میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے عمران خان، وزیراعظم نواز شریف اور اسپیکر قومی اسمبلی پر خوب برسے اور پاناما لیکس کے حوالے سے کھل کا اظہارِ خیال کیا۔

واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے پاس 8 ریفرنسز جمع کرائے گئے تھے جن میں سے چار وزیراعظم نواز شریف کے خلاف، دو عمران خان کے خلاف اور ایک ایک محمود خان اچکزئی اور جہانگیر ترین کے خلاف تھا۔

تاہم اسپیکر ایاز صادق نے ان میں سے محض وہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجے جو پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف تھے۔

اسپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ دیگر ریفرنسز کے ساتھ پیش کیے جانے والے دستاویزی ثبوت ناکافی تھے لیکن پھر بھی تمام ریفرنسز الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ایاز صادق کے جانبدار فیصلے سے پارلیمنٹ کو نقصان پہنچا ہے اور عمران خان کو نشانہ بنانے سے اسپیکر کی ساکھ پر سوال آیا ہے۔

عمران خان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ان کے خلاف ایکشن لیا جارہا ہے جو پارلیمنٹ میں بیٹھ کر آواز بلند کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ وہ یہاں پر 3 باتیں واضح کرنا چاہتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما کمیشن کے حوالے سے حکومتی ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) چیف جسٹس نے مسترد کردیئے، جبکہ اپوزیشن کے ٹی او آرز حکومت نے مسترد کرتے ہوئے کہا یہ صرف وزیراعظم نواز شریف تک ہی محدود ہیں جبکہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ میں احتساب کے لیے تیار ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو کئی مہینے گزر گئے لیکن کوئی جواب نہیں آیا اور ہم اسپیکر کے سامنے جانے پر بھی اس لیے مجبور ہوئے کیونکہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں جواب نہیں دیا تھا اور ان کے اور ان کے بچوں کے بیانات میں تضاد تھا۔

عمران خان نے کہا کہ میں اسپیکر سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج دیا گیا، جبکہ جنھوں نے کرپشن کی ان کے خلاف ریفرنس نہیں بھیجا گیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ‘جمہورت کے اندر چیک اینڈ بیلنس ہوتا ہے، لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے خلاف سریم کورٹ میں درخواست دی، لیکن رجسٹرار نے اسے اعتراض لگا کر مسترد کردیا، جسے ہمارے وکلاء نے اتنی محنت سے تیار کیا تھا، اگر سپریم کورٹ، جو انصاف کا سب سے بڑا ادارہ ہے، اگر وہ بھی انصاف نہ کرے تو ہمارے پاس کون سا راستہ رہ گیا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر پرامن احتجاج بھی جمہوریت کا حصہ ہے، اس سے جمہوریت ڈی ریل نہیں ہوتی، لیکن جب ہم پر امن احتجاج کرتے ہیں تو یہ لوگ کہتے ہیں یہ غیر جمہوری ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ دنوں کراچی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے 24 ستمبر کو رائے ونڈ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’24 ستمبر کو پورے ملک سے لوگوں کو رائے ونڈ لے کرآؤں گا’۔

اس سے قبل 4 سمتبر کو بھی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لاہور میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف کو کرپشن کا پیسہ ہضم نہیں کرنے دیں گے،انہوں نے پاناما لیکس پر وزیر اعظم سے چار سوالوں کے جواب بھی طلب کیے۔

انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ لندن میں خریدی گئی جائیداد کے دستاویز دکھائیں، یہ بتائیں کہ فلیٹس خریدنے کیلئے اربوں روپے کہاں سے آئے، یہ پیسے بیرون ملک کیسے گئے اور کیا اس پر ٹیکس ادا کیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY