ایم کیو ایم لندن نے عامر خان،خواجہ اظہار کی رکنیت خارج کردی

0
101

ایم کیو ایم لندن کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق پارٹی کے سینئر اراکین کا اجلاس کنوینر ندیم نصرت کی سربراہی میں ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔

اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کرتے ہوئے تنظیمی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی پر عامر خان، خواجہ اظہار الحسن، فیصل سبزواری اور شعبہ خواتین کی انچارج کشور زہرا کو تحریک کی بنیادی رکنیت سے خارج کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: الطاف حسین کا ایم کیو ایم ارکان اسمبلی سےدوبارہ استعفوں کا مطالبہ
ایم کیو ایم لندن کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی بنیادی رکنیت پہلے کی خارج کی جاچکی ہے۔

پریس ریلیز ایم کیو ایم کے کارکنان اور ذمہ داران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خارج کیے جانے والے افراد سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں۔

یاد رہے کہ 22 اگست 2016 کو الطاف حسین نے کراچی اور امریکا میں کارکنان سے ٹیلی فونک خطاب میں پاکستان مخالف نعرے لگائے تھے، جس پر 23 اگست کو ایم کیو ایم پاکستان نے اپنے ہی بانی اور قائد الطاف حسین سے اعلان لاتعلقی کر دیا تھا۔

لندن میں مقیم ندیم نصرت، واسع جلیل، مصطفیٰ عزیز آبادی سمیت دیگر نے ایم کیو ایم پاکستان کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا اور الطاف حسین کو ہی ایم کیو ایم کا قائد قرار دیا تھا، جس پر ایم کیو ایم پاکستان نے ان افراد کو رابطہ کمیٹی سے نکالتے ہوئے ان کی بنیادی پارٹی رکنیت معطل کر دی تھی۔

تقریباً 2 ماہ قبل بھی سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک مبینہ آڈیو پیغام میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ استعفے دیں، کیوں کہ انھوں نے ان کے نام پر نشستیں حاصل کی تھیں، تاہم تاہم کسی بھی رکن نے اس مطالبے کو اہمیت نہیں دی۔

الطاف حسین نے اپنے حالیہ ویڈیو پیغام میں ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے ان کی کال پر اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیئے تو ووٹرز اپنے حلقوں میں ان استعفوں کو یقینی بنائیں گے۔

گزشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر ایسا موقع آیا کہ مجھے دوسری بار الطاف حسین سے معافی مانگنا پڑی تو میں ایسا کرنے کے بجائے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلوں گا۔‘

SHARE

LEAVE A REPLY