ملک میں بادشاہت چلائی جارہی ہے، چیف جسٹس جمالی

0
336

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے نام پر ‘بادشاہت’ چلائی جارہی ہے۔

سپريم کورٹ ميں اورنج لائن ٹرين منصوبے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران 5 رکنی بینچ کی سربراہی کرنے والے چيف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ‘ملک میں جمہوریت کے نام پر بادشاہت ہے اور جمہوریت کے نام پرمذاق ہورہا ہے، لہذا عوام اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں۔’

سپریم کورٹ نے اورنج لائن ٹرین منصوبے سے متعلق حکومت پنجاب اور شکایت کنندگان کے تین تین ماہرین کے نام جمعہ 14 اکتوبر تک طلب کرلیے، جو بینچ کو تکنیکی معاملات سے متعلق آگاہ کریں گے۔

یہ ماہرین پنجاب حکومت کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹس کا جائزہ لے کر بتائیں گے کہ ٹرین چلنے سے تاریخی عمارات کو نقصان پہنچے گا یا نہیں، یہ رپورٹس نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان لمیٹڈ (نیسپاک)، ڈاکٹر پامیلا روجرز، ڈاکٹر اپل، یونیورسٹی آف سول انجینئرنگ اور اورنج لائن میٹرو پراجیکٹ کی ایڈوائزی کمیٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ، لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اورنج لائن پروجیکٹ پر کام روکے جانے کے حکم کے خلاف پنجاب حکومت، لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)، پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور نیسپاک کی اپیلوں کی سماعت کر رہی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے یہ حکم نامہ سول سوسائٹی کے کارکن کامل خان ممتاز کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن پر جاری کیا تھا۔

اس منصوبے کی زد میں آنے والی تاریخی عمارتوں اور ورثے میں شالامار باغ، گلابی باغ گیٹ وے، بدھو کا اوا، چوبرجی، زیب النساء کا مقبرہ، لکشمی بلڈنگ، جنرل پوسٹ آفس، ایوان اوقاف، سپریم کورٹ لاہور رجسٹری، سینٹ اینڈریو پرسبائیٹیرین چرچ اور بابا موج دریا بخاری کا مزار شامل ہیں۔

کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت منصوبہ پہلے شروع کرتی ہے اور بعد میں متعلقہ اداروں سے این او سی لیتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘ہم اس حوالے سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتے ورنہ بات دور تک چلی جائے گی’۔

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید شیخ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ تاریخی مقامات کے اسٹرکچر کا نقصان برداشت نہیں کیا جائے گا۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے سماعت کے دوران کہا کہ عدالت کے سامنے سوال تاریخی عمارتوں کے تحفظ کا ہے۔ ‘مجھے بھی لاہور سے پیار ہے، میرے آباو اجداد بھی لاہور میں دفن ہیں اور میں خود بھی یہیں دفن ہونا چاہتا ہوں’۔

بعدازاں کیس کی سماعت جمعہ 14 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY