روشنی حرا سے (118)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

0
439

شمس جیلانی

جہاد پر خر چ کا حکم اور اس پر صحابہ کرام کا بے مثال
رد ِ عمل اور راہ میں پیش آنے والے واقعات اور معجزات

گزشتہ قسط میں ہم غزوہ تبو ک کے با رے میں با تیں کر تے ہو ئے یہاں تک پہونچے تھے کہ ایک شخص کے گھر میں حضو ر (ص) کے خلا ف میٹنگ ہو رہی تھی اس کا جب پتہ چلا تو حضو ر (ص) نے اس کے خلا ف کا روا ئی کر نے کا حکم دیا تا کہ منا فقین کی حو صلہ شکنی ہو ۔آ ئیے اب آگے بڑھتے ہیں۔اس کے بعد رسول اللہ (ص) نے اہل ِ مدینہ کو جمع کر کے خطا ب فر ما یا ،اور سب کو اللہ کی راہ میں خرچ کر نے کی دعوت دی۔سب سے پہلے مسجدمیں ہی ابھی حضو ر (ص) منبر سے اتر ہی رہے تھے ،کہ حضرت عثما ن (رض) نے آگے بڑھ کر حضو ر سے ایک سو اونٹ مع کجادے کے دینے کا وعدہ کیا۔اور حضو ر (ص) نے دعا فر ما ئی ۔ جب حضو ر (ص)نے دو سرا قدم بڑھا یا تو سو اونٹ اور وعدہ فر ما ئے، اور اس کے بعد ایک سو کا اور اضا فہ کر دیا ۔ پھر اس کے بعد ایک ہزار دینا ر گھر سے لا کرپیش کیئے۔ اس پر حضو ر (ص)نے دعا فر ما ئی کہ اے اللہ! توعثما ن (رض) سے خو ش ہو جا اسلئے کہ میں اس سے خو ش ہو ں۔ بعض مو رخین نے اس پر یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ حضور (ص) نے فر ما یا کہ ”آج کے بعد عثما ن (رض) جو کا م کریگا وہ اسے نقصان نہیں دے گا “جس کو ترمذی اور امام احمد حنبل (رح) نے معتدد حوالوں کے سا تھ تحریر کیا ہے ۔ بعد میں ایک مو قعہ پر حضرت عثما ن (رض) نے حضرت علی، طلحہ ،سعد بن ابی وقاص اور حضرت زبیر سے تصدیق چا ہی کہ کیا تم نے نہیں سنا تھا کہ حضو ر (ص) نے فر ما یا تھا کہ ”جس نے “جیش العسرہ “ (مفلو ک الحا لی وجہ سے غزوہ تبو ک کا یہ نام پڑگیا تھا ) کو تیا ر کیا وہ بخش دیا جا ئے گا“ ا ور میں نے تین سو اونٹوں کو تیا ر کر کے ہر چیز فرا ہم کی تھی حتیٰ کہ انکی نکیلیں اور ان کے زا نوں سے با ند ھنے کی رسیو ں سے بھی مر صع کیا تھا ۔اس کو امام نسا ئی (رح) نے تفصیل سے بیا ن کیا ہے ،اور تمام مورخین اس با ت پر متفق ہیں کہ اس دن سب سے زیا دہ خر چ کر نے والے حضرت عثما ن (رض) بن عفا ن تھے ۔بعض کتابو ں میں یہ بھی درج ہے کہ حضرت ابو بکر (رض) اس دن اپنا تما م ما ل و متا ع لے آئے تھے اور جب حضو رنے ان سے پو چھا کہ بچوں کےلئے گھر پر کیا چھوڑ آئے ہو ؟ تو فر ما یا کہ اللہ اور اس کا رسول (ص) ۔ نیزاس کے بعد حضرت عمر (رض) تشریف لا ئے اور ان سے حضور (ص)نے پو چھا کہ کیا لا ئے ہو تو؟ انہوں نے فر ما یا کہ نصف مال حا ضر کر دیا ہے اور نصف گھر چھوڑ آیا ہو ں۔ جب انہیں پتہ چلا کہ حضرت ابو بکر (رض) اپنا تما م مال لے آئے ہیں۔ تو انہوں نے فر ما یا کہ ابو بکر (رض) آج پھر مجھ سے با زی لے گئے ۔یہیں ایک اورواقعہ چند مو رخین نے تحریر کیا ہے کہ ایک صحا بی جو کہ بہت ہی غریب تھے ۔وہ صرف تھوڑی سی کھجو ریں لے کر حا ضر ہو ئے جو انہیں اس دن مزدوری میں ملی تھیں اور لا کر اس ڈھیر میں ڈالدیں جو وہاں اس مقصد کےلئے بنا یاگیا تھا۔ تو بعض لو گوں نے از را ہ تمسخر ان کی طرف دیکھا ۔ حضور (ص) نے اس کو نا پسند فر مایا اور کہا کہ وہ تم سب سے با زی لے گئے کہ اس نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر جو کچھ ملا تھا یہاں پیش کر دیا ۔واللہ عالم ۔

احوال رونے والوں کا :ایک طر ف تو یہ عالم تھا کہ لو گ اپنی کل جمع پونجی نچھا ور کر رہے تھے دو سری طر ف ایسے لو گ بھی تھے کہ حیلے بہا نے کر کے اپنی جا ن چھڑا نا چا ہتے تھے جن کی مذمت میں یہ آیت آئی ( )اور تیسری طر ف وہ صحا بہ کرام تھے جو اپنی نا داری کی بنا پر اس سعا دت سے محروم رہے جا رہے تھے اور انہوں نے حضو ر (ص)سے سواری طلب کی اور جب حضو ر (ص) نے معذوری ظا ہر فر ما ئی تو رونے لگے( واضح رہے کہ اس غزوہ میں طو یل سفر درپیش تھا اس لیے حضور (ص) نے یہ شرط رکھی ہوئی تھی کہ وہی لو گ جا سکیں گے ،جو اپنی سواری رکھتے ہو ں یا انہیں سواری فرا ہم کر دی جائے۔ ( کیو نکہ پیدل چلنے والے لو گ اتنے بڑے لشکر کےلئے اپنی سست رفتا ری کی وجہ سے با عث ِ زحمت ہو تے )ان کے نا م مو رخین نے لکھے ہیں اور وہ سا ت آدمی تھے ۔ حضرت سالم بن عمیر ، حضرت ابو لیلیٰ ، حضرت ساریہ فرازی ، حضرت عبد اللہ بن عمرو مزنی، حضرت عمرو بن الہام اور حضرت حرمی بن عبداللہ (رض) تھے ۔یہاں ابن ِ اسحا ق (رح) نے اضا فہ کیا ہے کہ جب حضرت ابو لیلیٰ اور حضرت عبداللہ (رض) بن مغفل کو حضرت بن یامین (رض) نے رو تے دیکھا ،تو اس نے پو چھا تمہیں کس چیز نے رلا یا اور جب انہو ں نے تما م واقعہ بیا ن کیا تو حضرت ابن ِ یا مین نضری (رض) نے ان کوایک اونٹ اور کچھ زاد ِرا ہ دیا اور وہ دونوں اس پر بیٹھ کر حضو ر (ص) کے ہمرا ہ روانہ ہو گئے۔

اس کے علا وہ حضرت ابن ِ بکیر (رض) کی روایت کے سا تھ ابن ِ بیہقی (رح)نے حضرت ابن ِ مو سٰی اشعری (رض)کی ایک حدیث بھی بیا ن کی ہے کہ حضرت علیہ بن زید (رض) رات بھر بہت ہی خشیت ِ الٰہی کے سا تھے گڑگڑ اکر دعا ما نگتے رہے ۔اور کہااے اللہ تو نے مجھے جہا د کا حکم دیااور اس کی طرف رغبت بھی دلا ئی، مگر تو نے مجھے اتنا نہیں دیا کہ میں جہاد کی سعادت پا سکوں،اور تیرے رسول (ص) کے پاس ایسی کو ئی چیز بھی نہیں بچی ہے جس پر وہ (ص) مجھے سوار کر ائیں۔تو یہ بھی جانتا ہے کہ میری یہ حالت اس داد دہش کی وجہ سے ہو ئی کہ میں اپنا ما ل مسلما نوں پر خرچ کر تا رہا ہوں ۔ پھر وہ رسول اللہ (ص) کے رو برو لو گو ں کے سا تھ حا ضر ہو ئے۔کہ اچا نک حضور (ص) نے فر ما یا کہ وہ مخیر کہاں ہے، کھڑا ہو جا ئے جو رات اپنی خیرات کا ذکر اللہ تعا لیٰ سے کر ر ہا تھا وہ خا مو ش رہے۔ لیکن جب رسول اللہ (ص) نے دو با رہ اپنا سوال دہرا یا، تو وہ حضو ر (ص) کے پاس جاکر کھڑے ہو گئے۔ آپ (ص) نے فر ما یا کہ” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ِقدرت میں میری جا ن ہے ،تجھے بشارت ہو کہ وہ خیرات مقبول زکا ت میں لکھی گئی “ در ایں اثنا حضو ر (ص)کے پا س ما ل غنیمت میں چھ اونٹ کہیں سے آگئے جن پر کجا دے نہیں تھے۔اورحضو ر (ص) نے با قی چھ لو گو ں کو سواری مہیا کر دی ۔ چا ر آدمی جو کے اچھے مسلما ن تھے محض سستی کی بنا پر پیچھے رہ گئے تھے ان کا قصہ آپ بعد میں پڑھیں گے ۔ مگر ان میں سے حضرت ابو خثیمہ (رض) جو کہ پیچھے رہ جا نے والو ں میں شا مل تھے ۔ ان کو اللہ نے ہدایت دی اور وہ حضور (ص) سے میدان جنگ میں جا ملے ۔ان کا واقعہ اس طر ح ہے کہ جب لشکر تبو ک روانہ ہو گیا، اور وہ کہیں سے واپس آ ئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی دو نوں بیویوں نے باغ میں خیمے لگا ئے ہو ئے ہیں اور انواع اقسام کے کھانے تیا ر کر رکھے ہیں ،تو ان کا خیا ل فو را ً حضور (ص) کی طرف گیا اور انہوں نے کہا کہ تف ہے تجھ پر کہ تو یہاں عیش آرام میں دن گزارے۔ اور حضو ر (ص) سفر کی صعو بتیں برداشت کریں

۔لہذا وہ اسی طرح الٹے پا ؤں لو ٹ گئے اور تبوک جا کر دم لیا ۔ادھر جب لو گوں نے کسی سوار کے آنے کی اطلا ع دی توحضو ر (ص) نے فر ما یا کہ یہ ابو خثیمہ (رض) ہے۔ جب گرد وغبا ر سے سوار نمو دار ہوا تو لو گوں نے پہچا ن لیا کہ وہ حضرت ابو خثیمہ (رض) ہی تھے۔اسی سفر کے دوران یہ بھی واقعہ پیش آیا کہ تبوک جاتے ہو ئے راستے میں قوم ِ ثمو د کی بستی حجر پڑی ،اور لو گ اس کو دیکھ کر وہاں جانے کی جلدی کر نے لگے۔ تو حضو ر (ص) نے منع فر ما یا اور فر ما یا کہ یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعا لیٰ نے عذاب نا زل فر ما یا تھا ۔لہذا اس کی طرف مت جا ؤ،اور جن لو گوں نے یہاں سے پا نی بھر لیا ہے وہ پھینک دیں ۔اور جن لوگوں نے آٹا اس سے گو ندھا ہے وہ آٹا بھی پھینک دیں ۔نیز آج کی را ت کو ئی آدمی تنہا با ہر نہ جا ئے ۔سب نے حکم کا اتبا ع کیا سوائے بنی سعدہ کے دو آدمیوں کہ وہ اس وقت مو جود نہ تھے۔ انہوں نے حضور (ص)کا ارشاد ِ گرامی نہیں سنا۔ ان دوآدمیو ں میں سے ایک اپنے گم شدہ اونٹ کی تلا ش میں گیا ہوا تھا، اور دوسرا اپنے کسی اور کا م سے گیا ہوا تھا لہذا ایک کا گلا گھٹ گیا۔ اور دوسرے کو ہوا نے طہ کی پہا ڑی پر لا کر ڈا ل دیا۔جب حضور (ص) کو اس کی اطلا ع دی گئی ،تو آپ (ص) نے فر ما یا کہ میں نے منع نہیں کیا تھا کہ تم میں سے کو ئی شخص بغیر کسی سا تھی کے با ہر نہ نکلے۔ پھر دعا فرمائی تو وہ دو نوں آدمی تندرست ہو گئے ۔لو گوں نے اس بستی کی ہلا کت کے با رے میں سوال کیے۔ تو حضور (ص) نے انہیں سوال کرنے سے منع فر ما تے ہو ئے بتا یا کہ یہ صا لح (ع) کی قوم تھی اور انہوں نے معجزہ کے طو ر پر پتھر سے ایک اونٹنی پیدا کر نے کی در خوا ست کی تھی، جو اللہ تعا لیٰ نے اس شر ط کے سا تھ قبو ل فر ما لی کہ اگر وہ ایما ن نہ لا ئے تو عذا ب نا زل ہو گا ۔ ایک شرط مزید یہ تھی کہ اگرکو ئی اسے گزند پہنچا ئے گا تو بھی عذا ب آ ئے گا ۔طے یہ ہوا تھا کہ ایک دن وہ چشمے سے پا نی پیئے گی ،اور اس دن لو گ اس کا دودھ پیئں گے اور دوسرے دن لو گ اور ان کے جا نور پا نی پیئں گے۔ مگر کسی نے اس کی کو نچ کا ٹ ڈا لی لہذا عذا ب نا زل ہو ا اور سب لو گ مر گئے ،سوائے ایک شخص ابو بر غال کے جو کہ اسوقت حرم میں تھا ( یا د رہے کہ یہ وہی شخص تھا جس کا ذکر ہم غزوہ طا ئف میں کر چکے ہیں جس کی قبر سے مسلمانوں کو بہت بڑ خزانہ ملا تھا )اس پو رے واقعہ کو متعدد اور مستند حوالوں کے سا تھ امام احمد (رح) نے تحریر فر ما یا ہے۔ ایک واقعہ حضرت ابو ذر غفا ری (رض)کا بھی بیان ہوا ہے کہ انکااونٹ بہت لا غر تھا لہذا وہ بھی پیچھے رہ گئے اور آخر کا ر اپنے کندھے پر اپنا سا ما ن رکھ کر چل پڑے اور حضور (ص) کے تبوک میں قیا م کے بعد پہنچے جب انہیں دور سے دیکھ کر صحابہ کرام نے کہا یہ کو ن ہے ؟ تو حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ یہ ابو ذر (رض) ہے جو تنہا پیدا ہوا اور تنہا ہی مر یگا ۔ باقی آئندہ

SHARE

LEAVE A REPLY