گل بی بی کے دیس میں آج کا معاشرہ‎ ۔ سیدہ قرۃ العین نقوی

1
246

سیدہ قرۃ العین نقوی ۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد

سچ کہتے ہیں کہ اگر کسی معاشرے میں اخلاقی اقدار کو زوال آجائے تو پھر کسی بھی معاملے میں خیر کی امید ہرگز نہیں رکھنی چائیے میں اس وقت بات کر رہی ہوں ارضِ پاک کو پراگندہ کرنے والے اس معاشرے کی جہاں جہالت ،افلاس ،غربت اور اس کے نتیجے میں ہونے والی وہ تمام سماجی برائیاں ہیں جو ہمیں گھن کی طرح چاٹ رہی ہیں

اخلاق کا جنازہ نکالنے والی ان تمام برائیوں میں سب سے زیادہ دل ہلا دینے والا معاملہ بچوں اور خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانا ،انہیں اغوا کر لینا اور پھر ان کا قتل ہے ہمارے اس موجودہ پیپ زدہ ،کھوکھلے اورجنسی طور پر فرسٹیڈ معاشرے میں اس گل بی بی کی یاد آگئی جسے میں نے اپنے بچپن میں دیکھا

اس وقت وہ مجھے اہک کھلونا محسوس ہوئی تھی جس کے پیچھے سارا دن گلیوں دوڑنا ،اسے چھیڑنا ،اس کی جوابی کاروائی کا انتظار کرنا اور پھر بھاگ جانا جی ہاں اس مجزوبہ کو جس کا نام گلزار بی بی تھی ،، گلی کملی کے نام سے پکارا جاتا تھا بلکل سانولی سلونی سی رنگت کمزور اور لاغر دبلا پتلا سا جسم سر کے الجھے بال اور انگلیوں میں انگوٹیاں اور کلایوں رنگ برنگی چوڑیاں ، ننگے پیر اور بلکل برہنہ حالت میں یہ مجزوبہ سردی گرمی کی پرواہ کیے بغیر گلیوں اور بازاروں گھوما کرتی اور بچوں کی ایک فوج اس کے پیچھے ہوا کرتی وہ جب بہت تنگ ہوتی تو غصہ کرتے ہوئے لال بھبھوکہ نظروں سے انہیں دیکھتی اور زمین پر پڑی ہوئی کوئی بھی چیز اینٹ ہوتی یا پتھر بچوں کی طرف اچھال دیا کرتی اور بڑبڑاتی ہوئی کسی بھی گھر میں داخل ہو جاتی

خواتین میں کھلبلی مچ جاتی ، مرد فوری گھروں سے باہر نکل جاتے اور پھر اہلِ خانہ گل بی بی کو زبردستی پکڑ لباس پہنا دیا کرتے اگرچہ اس کے چہرے پر ناگواری کے احساسات نمایاں ہو جاتے جیسے ہی گل بی وہ ان کے گھروں سے نکلتی فوری لباس سے آزاد ہو جایا کرتی اور آگے بڑھ جاتی ، جس گلی سے گزرتی مرد احتراماً نظریں جھکا لیا کرتے یا گلی بدل لیا کرتے مگر ہوش و خرد سے بیگانہ گل بی بی دنیا و مافیا سے بیگانہ پھرا کرتی گل بی بی کو اس کے گھر والے موٹی موٹی رنجیروں سے جکڑ دیا کرتے صبح اٹھتےتو اسے وہاں سے غائب پاتے

غیرت کے نام پر اسے مار ڈالنے کی کوشش بھی گئی وہ یوں کہ ایک دن بڑا سا پتھر لے کر اسے دریا کے منجھدار میں چھوڑ دیا گیا کسی ناگہانی طاقت نے اسے وہاں سے بھی بچا لیا اور پھر ایک دن وہ خبر آگئی جو خوشی کی تھی یا غمی کی اس بارے میں کچھ نہیں کہوں گی کہ گل بی بی اپنی دھن میں مگن خو کلامی کرتے ہوئے جیسے ہی سڑک پار کرنے لگی ایک ٹرک کے نیچے آکر کچلی گئی اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی اور یوں گل بی بی اپنی عزت و ناموس بچا کر اس دنیا سے رخصت ہو گئی اور آج میں یہ سوچ رہی ہوں کہ اگر گل بی بی اس معاشرے میں ہوتی تو کتنے ہی زہنی طور پر بیمار اور فرسٹیڈ درندوں کی بھینٹ چڑھ چکی ہوتی جہاں انسانیت نام کو بھی نہیں ہے جہاں نہ بچے محفوظ ہیں نا خواتین محفوظ ہیں نہ ہی قانون ان کو پکڑتا ہے نہ ہی انہیں سزا ملتی ہے ۔ یہ ایک بہت بڑا لمحہء فکریہ ہے ۔

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY