جسم پر ظلم سہنا روح دل دماغ پہ چلنے والے نشتر سے آسان ہوتاہے۔ محمد طارق رمضان

0
265

محمد طارق رمضان

عظیم لوگوں کا ضبط بھی عظیم ہوتاہے اللہ پاک جس کسی کو بھی کسی مشن کے لیے چن لے اسے بے پناہ مشکلات تکالیف سے آزماتاہے ،ہر عظیم مشن کی تکمیل کے لیے آگ کے دریا پار کرنے پڑتے ہیں ستم ظلم درد سہنا پڑتاہے ، جسم پر ظلم سہنا بہ نسبت روح دل دماغ پہ چلنے والے نشتر سے آسان ہوتاہے ،
جس جس طرح انسان برداشت کرتا جاتاہے مخالف ابھی ستم پہ ستم کیے جاتاہے ، یعنی کسی عظیم مقصد کے لیے جوں جوںآپ ستم برداشت کرتے جائیں گے مخالف اسی طرح اپنا ستم بڑھاتا جائے گا ، دنیا کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس کے مطالعے سے پتا چلتاہے کہ خدا کے ہربزگزیدہ بندوں کو نیکی اچھائی ایمانداری سچائی کی جنگ لڑنے کے لیے جسم دل دماغ پہ شیطان کے پجاریوں کے ظلم سہنے پڑے ہیں
میرا اس تمہید کا مقصد ان دنوں ملک زیر بحث ڈان اخبار کی جانب سے شائع کی جانے والی خبر کے بعد پید ا ہونے والی صورتحال ہے میں جب سے یہ ایشو چلا ہے معاملات کو بغور دیکھ رہاہوں ، آج یقین مانیے دل کو بہت افسوس ہورہاہے کہ ہم اتنے بے حس یا کمزور ہوچکے ہیں کہ چند لبرل دانشور اور نام نہادانیکرز پورے قوم کے احساسات کو پاوں تلے کھلے عام روند رہے ہیں جھوٹ کا اس قدر بے دریغ استعمال ہورہاہے اور حقائق کو اسقد ر مسخ کیا جارہاہے کہ خدا کی پناہ آج کی صورتحال پہ کوئی بھی سطحی سوچ رکھنے والا عام سا پاکستانی بھی سمجھ سکتاہے کہ افواج پاکستان سے بغض رکھنے والے نام نہاد لبرل دانشوروں ، سیاستدانوں کا اصل مقصد پاکستان کو بطو رریاست دہشت گردثابت کرنا ہے اور افواج پاکستان کا مورال ڈاؤن کرنا ہے
یقین مانیے آج افواج پاکستان کے ہرسپاہی کے صبر اور حوصلے کو سلام پیش کرنا چاہیے ،پاکستان اور پاکستان آرمی سے محبت کرنے والے ہر محب وطن کے صبر کو سلام ہے آج یہ عجیب وقت ہے کہ حب الوطنی کو ہمارے لیے گالی بنا دیا گیاہے ، اس لیے آج حامد میر جیسے اینکرز کے پروگرام دیکھ کر ایک بات کا احساس ہورہاہے کہ انسان کے خلوص محبت سچائی پر لگنے والے طنز جھوٹ الزامات کا گھاؤ کس قدر گہرا لگتاہے ، ذرا محسوس کیجیے ان جوانوں کا کرب جو جان ہتھیلی پہ رکھ کہ تھر کے تپتے صحراؤں سے لیکر خون کو جما دینے والی برفانی چٹانوں پہ دشمن سے لڑ رہے ہیں جن کے جاگنے سے قوم سکون کی نیند سوتی ہے ،جن کی قربانیوں سے ارض پاکستان کے دشمنوں پہ لرزا طاری ہے ،ان جانساروں ان محب وطن جانبازوں کے خلوص سچائی اور حب الوطنی پہ وہ لوگ طنز کے نشتر چلارہے ہیں جن کی حقیقت ملک دشمنی ہر پاکستانی پر آشکارہے

یہ حقیقت ہے کہ اس جھوٹی جعلی اور ناپاک جمہوریت کی وجہ سے ہر ملک کا ہر سول ادارہ کرپشن اقربا پروری ،بدانتظامی ،ناانصافی کے کیچڑ میں لت پت ہے وہیں ایک واحد فوج کا ادارہ ہی ہے جو ناصرف منظم ہے بلکہ روز بروز پیشہ وارانہ صلاحتیوں میں کمال مہارت کے باعث دنیا کی صف اول کی افواج اس سے تربیت حاصل کررہی ہیں ،
ہمارے مقدس سیاست دانوں کا افواج سے بغض روایتی ہے ، ہمارے اکثریتی سیاستدانوں کا بحثیت ادارہ فوج سے بغض وعناد کی بنیادی وجہ ان کی بنیادی طور پر جاگیردارنہ سوچ ہے جس طرح وہ عوام کو اپنی رعایا اور پولیس سمیت دیگر سول اداروں کو اپنا ذاتی ملازم سمجھتے ہیں جس طرح مقدس جمہوری سیاست دان ہر ادارے میں چیف سیکرٹری سے لیکر نائب قاصد ،آئی جی پولیس سے لیکر رضاکار تک اپنی مرضی کا بھرتی کراتے ہیں اسی طرح یہ اس ادارے کو بھی اپنی ذاتی جاگیر سمجھ کر بھرتیوں سے لیکر تقرریوں تبادلوں تعیناتیوں کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں ہمارے ملک کے سیاست دانوں کی مثال اس بگڑے بچے کی طرح ہے جو گھر کا ساراقمیتی سامان توڑ کر بلند فاصلے پر پڑے قیمتی گلدان کو حسرت سے دیکھتاہے کہ یہ کسی طرح ہاتھ لگے تو دل لگی کا سامان پورا ہو ،

ہمارے ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کے سربراہان کا قومی ادارہ سے بغض کی وجوہات میں سے دوسری بڑی وجہ ان کا بھارت ، برطانیہ یورپین ممالک میں اربوں روپے کے کاروبار کا تحفظ ہے اگر یہ لوگ بھارت امریکہ کی پاکستان بارے پالیسی کا اندرون خانہ تحفظ نہ کریں تو ان ممالک میں ان کے کالے دھن سے بنے کاروبار کو نقصان پہنچ سکتاہے اس لیے ان کے نزدیک قومی مفادات سے زیادہ ذاتی مفادات کا تحفظ ہے جبکہ قومی ادارہ کااولین مقصد قومی مفادات اور ارض پاکستان کا ہر ممکن سطح پر تحفظ ہے ، ہماری سیاسی اشرافیہ اور ملک کے مفادات میں زمین وآسمان کا فرق ہونے پر ہی مقدس سیاست دانوں کومنظم ادارہ سے ہر دورمیں شکایات رہی ہیں ،

بغض افواج پاکستان میں پیش پیش ایک اور طبقہ نام نہاد لبرل دانشوروں ، صحافیوں ، پر مشتمل ہے جنہیں اسلام سے جڑی ہر چیز سے خدا واسطے کا بیر ہے اسلامی تاریخ ، تہذیب ثقافت تمدن ،ایجادات ، معاشرت اسلامی فتوحات کوئی بھی چیز انہیں زہر لگتی ہے ، انہیں صلاح الدین ایوبی سے لیکر محمد بن قاسم تک سب غاصب اور الیگزینڈر سے تاج برطانیہ اور راج داہر سے لیکرنہر و گاندھی تک سب امن کے پیامبر نظر آتے ہیں ان کی نظر میں امریکہ اسرائیل بھارت کی اٹیمی ٹیکنالوجی امن کے لیے اور واحد اسلامی ملک کا ایٹمی صلاحیت ہونا شدت پسندی نظر آتاہے ان کی رائے میں پاکستان کی فوج اور ایٹمی پاور کو تحلیل کر دیا جائے تو کشمیر سے لیکر فلسطین شام عراق سب جگہ امن ہی امن ہوجائے گا اس لیے یہ اشخاص بھی انسانی حقوق کے عظیم مشن کی تکمیل کے لیے قومی ادارہ اور نظریہ پاکستان پر ہر وقت طنز وتیر کے نشتر چلاتے رہتے ہیں اور قومی ادارہ سے مخاصمت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے
اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے ڈان نیوز کی خبر میں ملنے والی کڑیاں اس بات کی نشاندہی کررہی ہیں کہ پاکستان کے قومی مفادات کے مخالف اور قومی ادارہ کے خلا ف بے پناہ کینہ وبغض رکھنے والے دونوں طبقا ت نے ملکر ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی ہے ،اس بار سیاسی فنکاروں نے بندوق لبرل صحافیوں اور میڈیا ادارے کے کاندھے پر رکھ کے چلائی ہے
اس سازش کو محض اتقاق قرار نہیں دیا جاسکتا ہے یہ منظم طور پر کی جانے والی سازش ہے جو کہ انتہائی خطرناک اور مہلک ہے ایسی سازش کے ذریعے ایک طرف بھارت کی جانب سے پاکستان کو دہشت گرد ریاست ثابت کرنے کی ناپاک سازش کو نیا خون مہیا کیا گیا ہے، اور کشمیر کاز کو شدید ترین نقصان پہچایا گیاہے جس سے لاکھوں مظلوم کشمیریوں کی دل آزاری ہوئی ہے
ایک طرف مودی سرکار پوری دنیا میں اس خبر کو بنیاد بنا کر کشمیر ایشو پر دنیا کی توجہ ہٹا رہی ہے ، تو دوسری طرف پاکستان میں صحافی سرل المیڈ کا نام دانستہ ای سی ایل میں ڈالکر ایشو کو کئی دن زندہ رکھنے کا موقع بھی فراہم کردیا گیا ہے جبکہ فوجی ترجمان کی جانب سے کئی بار ترید کی جاچکی ہے کہ ان کی طرف سے محض بے بنیاد خبر کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے ناکہ صحافی کے خلاف کاروائی لیکن بعض اینکرز اور لبرل صحافی جان بوجھ سرل المیڈکو لے کر آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کی آڑ میں قوم کے جذبات سے کھیل رہے ہیں
یہ ایک طرف ملک کو بدنام کرنے منظم سازش بھی اور ساتھ ساتھ قومی ادارہ کے وقار کے خلاف پروپیگنڈا کرکے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف افواج پاکستان کا مورال ڈاؤن کرنے سازش بھی ہے ،
آئے روز مختلف حیلے بہانوں کے ذریعے جنگ میں مصروف جوانوں کے جذبات پہ وار انتہائی خطرناک ہیں مگر سلام ہے پاک فوج کے تمام سپاہیوں اور بہادر کمانڈرز کی ہمت اور حوصلے پر کہ وہ اس معاملے میں بھی آقا نبی کریم ﷺ کے صبر استقامت اور حسین ؑ کے شوق شہادت کی سنت ادا کرتے ہوئے کوفہ پر ست منافقوں کے طنز سازشوں کے سامنے ڈٹے ہوئے ہوئے ہیں سلام پا ک فوج کے ہرجوان پراور سلام ہے بندوقوں کے سائے میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والے کشمیریوں پر

SHARE

LEAVE A REPLY