پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر فوج کو بدنام کررہی ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ’ 2 نومبر کو احتجاج اس لیے کررہے ہیں کہ ہمارے دو مطالبے ہیں، یا تو نواز شریف پاناما لیکس میں سامنے آنے والے انکشافات پر حساب دیں یا پھر استعفیٰ دیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اداروں سے انصاف نہ ملنے کے بعد تحریک انصاف کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا اور اگر اس کے نتیجے میں کوئی تیسری قوت آگئی تو اس کے ذمہ دار نواز شریف ہوں گے‘۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’ہم 20 سال سے جدوجہد تیسری طاقت کو بلانے کے لیے نہیں کررہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومت کے میڈیا سیل نے فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جبکہ ہماری فوج ایل او سی اور سرحدوں کی حفاظت کررہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ’پاناما لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں کیس چلتا رہے گا، ہم تو وزیراعظم سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں، سپریم کورٹ تو وزیر اعظم کو سزا دے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ دھرنا اس لیے دے رہے ہیں کہ نواز شریف خود کو احتساب کے لیے پیش نہیں کررہے اور اگر اس کے نتیجے میں جمہوریت کو کوئی بھی نقصان ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار وزیر اعظم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف تو احتساب کے لیے پیش نہ ہوکر پہلے ہی جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیراعظم نہ جواب دیتے ہیں اور نہ ہی استعفیٰ دیتے ہیں، ملک میں بادشاہت ہے یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ سپریم کورٹ نے کہا ہے‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ 2 نومبر کا احتجاج تحریک انصاف فوج کی وجہ سے کررہی ہے اور دھرنے میں غیر ریاستی عناصر شریک ہوں گے‘

SHARE

LEAVE A REPLY