عالمی اخبار شعبہ دینی امور

امام زین العابدین (ع)کی ولادت ۱۵/ جمادی الاول ۳۸ھء میں شھر مدینے میں ھوئی تھی۔ آپ امام حسین علیہ السلام کے سب سے بڑے فرزند تھے۔ آپ کی والدہ گرامی جناب شھر بانو تھیں۔ امام زین العابدین(ع) نے اھل بیت (ع)پر گزرنے والے سب سے بدترین دور میں زندگی گزاری تھی۔ آپ کی ولادت حضرت علی (ع)کی شھادت سے تین برس پھلے ھوئی تھی۔ آپ کی ولادت کے وقت امام علی علیہ السلام جنگ جمل میں مصیبتوں میں گھرے ھوئے تھے۔ اس کے بعد امام حسین علیہ السلام پر گزرنے والی مصیبتوں اور مشکلات میں آپ برابر اپنے بابا کا ساتھ دیتے تھے۔

آپ کو اس وقت بے حد تکلیف اور رنج و غم ھوا تھا جب یزید کے لشکری مدینے میں مسجد نبوی میں دندناتے ھوئے گھس گئے تھے اور آپ کے نانا کی مسجد میں گھوڑوں کو باندہ دیا تھا۔ مسجد نبوی اور قبر نبی کی اھانت کی تھی۔ امام زین العابدین علیہ السلام کی ساری کوشش یہ تھی کہ مسلمانوں کو بنی امیہ کی حقیقت سے آشنا کر دےں اور انھیں بتا دیں کہ جنھیں تم اپنا دوست سمجھتے ھو وہ در حقیقت تمھارے دشمن ھیں۔ امام کو جب بھی موقعہ ملتا تھا لوگوں کو حقیقت سے آشنا کرتے رھتے تھے۔

امام نے لوگوں کی اصلاح کے لئے ایک نیا طریقہ اور روش ایجاد کی تھی اور وہ یہ کہ دعاؤں کی شکل میں اسلامی علوم و احکام لوگوں تک پھونچاتے تھے کیونکہ امام خلیفہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے کھلم کھلا تبلیغ اسلام اور اپنے اجداد پر پڑنے والے مظالم کو بیان نھیں کر سکتے تھے۔ آپ کی دعائیں اس زمانے کے حالات کی بھت اچھی طرح عکاسی کرتی ھیں۔

آپ کی دعائیں ایک کتاب میں جمع کر دی گئی تھیں جس کا نام صحیفۂ سجادیہ ھے۔ اسلام میں قرآن کریم اور نھج البلاغہ کے بعد کوئی کتاب اتنی عظیم و بابرکت نھیں ھے۔

اپنی ساری زندگی مصیبتوں میں گزار کر آپ بھی آخر کار ھشام بن عبد الملک کے ذریعے دئے جانے والے زھر سے ۲۵/ محرم ۹۵ھء میں شھید ھو گئے۔ آپ کی قبر مبارک مدینے میں جنت البقیع میں ھے۔

علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ ابراہیم بن اوہم کابیان ہے کہ میں ایک مرتبہ حج کے لیے جاتاہواقضائے حاجت کی خاطرقافلہ سے پیچھے رہ گیاابھی تھوڑی ہی دیرگزری تھی کہ میں نے ایک نوعمرلڑکے کواس جنگل میں سفرپیمادیکھا اسے دیکھ کرپھرایسی حالت میں کہ وہ پیدل چل رہاتھا اوراس کے ساتھ کوئی سامان نہ تھا اورنہ اس کاکوئی ساتھی تھا،میں حیران ہوگیافورا اس کی خدمت میں حاضرہوکرعرض پردازہوا ”صاحبزادے“ یہ لق ودق صحرا اورتم بالکل تنہا، یہ معاملہ کیاہے، ذرا مجھے بتاؤتوسہی کہ تمہارازادراہ اورتمہاراراحلہ کہاں ہے اورتم کہاں جارہے ہو؟ اس نوخیزنے جواب دیا ”زادی تقوی وراحلتی رجلاء وقصدی مولای“ میرا زادراہ تقوی اورپرہیزگاری ہے اورمیری سواری میرے دونوں پیرہیں اورمیرامقصد میراپالنے والاہے اورمیں حج کے لے جارہاہوں ،میں نے کہاکہ آپ توبالکل کمسن ہیں حج توابھی آپ پرواجب نہیں ہے اس نوخیزنے جواب دیابے شک تمہاراکہنادرست ہے لیکن اے شیخ میں دیکھاکرتاہوں کہ مجھ سے چھوٹے بچے بھی مرجاتے ہیں اس لیے حج کوضروری سمجھتاہوں کہ کہیں ایسانہ ہوکہ اس فریضہ کی ادائیگی سے پہلے مرجاؤں میں نے پوچھااے صاحبزادے تم نے کھانے کاکیاانتظام کیاہے ،میں دیکھ رہاہوں کہ تمہارے ساتھ کھانے کابھی کوئی معقول انتظام نہیں ہے، اس نے جواب دیااے شیخ کیاجب تم نے کسی کے یہاں مہمان جاتے ہوتوکھانااپنے ہمراہ لے جاتے ہو؟ میں نے کہانہیں پھراس نے فرمایا سنومیں توخداکامہمان ہوکرجارہاہوں کھانے کاانتظام اس کے ذمہ ہے میں نے کہااتنے لمبے سفرکوپیدل کیوں کرطے کروگے اس نے جواب دیاکہ میراکام کوشش کرناہے اورخداکاکام منزل مقصودپہنچاناہے ۔

ہم ابھی باہمی گفتگوہی میں مصروف تھے کہ ناگاہ ایک خوبصورت جوان سفیدلباس پہنے ہوئے آپہنچا اوراس نے اس نوخیزکوگلے سے لگالیا،یہ دیکھ کر میں نے اس جوان رعناسے دریافت کیاکہ یہ نوعمرفرزندکون ہے؟ اس نوجوان نے کہاکہ یہ حضرت امام زین العابدین بن امام حسین بن علی بن ابی طالب ہیں، یہ سن کر میں اس جوان رعناکے پاس سے امام کی خدمت میں حاضرہوا اورمعذرت خواہی کے بعدان سے پوچھاکہ یہ خوبصورت جوان جنہوں نے آپ کوگلے سے لگایا یہ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایاکہ یہ حضرت خضرنبی ہیں ان کافرض ہے کہ روزانہ ہماری زیارت کے لیے آیاکریں اس کے بعدمیں نے پھرسوال کیااورکہا کہ آخرآپ اس طویل اورعظیم سفرکوبلازاداورراحلہ کیونکہ طے کریں گے توآپ نے فرمایاکہ میں زادارراحلہ سب کچھ رکھتاہوں اوروہ یہ چارچیزیں ہیں :

۱ ۔ دنیااپنی تمام موجودات سمیت خداکی مملکت ہے۔

۲ ۔ ساری مخلوق اللہ کے بندے اورغلام ہیں۔

۳ ۔ اسباب اورارزاق خداکے ہاتھ میں ہے_

۴ ۔ قضائے خداہرزمین میں نافذہے ۔

یہ سن کرمیں نے کہاخداکی قسم آپ ہی کازادوراحلہ صحیح طورپرمقدس ہستیوں کاسامان سفر ہے(1) علماء کابیان ہے کہ آپ نے ساری عمرمیں ۲۵ حج پاپیادہ کئے ہیں آپ نے سواری پرجب بھی سفرکیاہے اپنے جانورکوایک کوڑابھی نہیں مارا۔

SHARE

LEAVE A REPLY