محمد طارق رمضان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کوئی مراثی کہیں سے گزر رہاتھا کہ ایک اجنبی شخص نے روک لیا ۔
“میراثی سے سوال کیا بھائی کیا تم مغل ہو ”
“میراثی نے کہا نہیں بھائی میں میراثی ہوں ”
“اجنبی پھر بولا نہیں نہیں یار تم مغل ہو”
“میراثی بابا میں مغل نہیں ہوں میراثی ہوں ”
“اجنبی : نہیں میں مانتا تم میراثی نہیں مغل ہو”

میراثی ۔۔ بھائی میرا راستہ خراب نہ کر ایک دفعہ کہہ دیا میں میراثی ہوں میراثی سمجھ نہیں آتی بات
“اجنبی : نہیں تم مغل ہوبس
میراثی : اچھا میری جان چھوڑ میں مغل ہوں بس
اجنبی : حیرت سے اچھا تم مغل ہو ؟
شکل سے تو میراثی دکھتے ہو،،،،
میراثی کا جواب : زور دار تھپڑ ، ٹھاہ پھاہ پھر آہ آہ “

نتیجہ : آزادی صحافت پر حملہ ، اظہار رائے پر قد غن ، حقوق نسواں پر ڈاکہ

سرل المییڈ ایشو کے بعد چائے والا ٹرینڈ ختم نہیں ہوا کہ ایک اور ساس بہو جھگڑ ا شروع ہوگیا ہے ، ہمارے قبیلہ صحافت کی ایک محترمہ انیکرز کو کراچی نادرا آفس میں سیکورٹی گارڈ کی جانب سے مارے جانے والے تھپڑ کو لیکر ایک بار پھر حقوق نسواں اور حقوق مرداں کے پہلوان اکھاڑے میں اتر چکے ہیں۔

خوب ہاہا کار مچی ہوئی ہے ، اخلاقی طور پر اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،خاتون چاہے کوئی صحافی ہو یا کسی شعبے سے ہو اس کا احترام ہم سب پر واجب ہے،اس لیے ہمیں سب سے پہلے اس واقعے کو افسوس ناک سمجھتے ہوئے ملوث سیکورٹی گارڈ کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی حمایت کرنی چاہیے ۔

لیکن سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلزپر حقوق نسواں کے پہلوان خاتون سے اظہار ہمدردی کے بجائے روایتی طور پر مذہبی طبقہ کو سنا شروع ہوگئے ہیں ،اور حسب سابق واقعہ کو حقوق نسواں کی عظیم خلاف ورزری قرار دیتے ہوئے پاکستانی معاشرتی ثقافت اور تہذیب پر اپنی توپوں کے دہانے کھول دیے ہیں ان کی باتوں سے ایسالگتاہے کہ جیسے ساراقصور اسلامی روایت اور پردہ کے احکامات کاہے ،
ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہے ہمارے لبرل دانشور حضرات ایسے واقعات کی طاق میں رہتے ہیں اور ان کی آڑ لیکر اسلام پسندوں اور مذہبی طبقہ فکر کے خلاف طاق طاق کر آزاد خیالی کے گولے پھینکتے ہیں ، ان حضرات میں شاید کوئی ایسا ہی شخص یا ادارہ ہو جس نے متاثرہ سے ذاتی طور پررابطہ کرکے مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہو، ا نہوں تو بس لفاظی جنگ لڑناہوتی ہے۔

اس طرح کے واقعات کا سن کر اچانک ان میں ثناء خوان تقدیس مشرق کی روح بید ار ہوجاتی ہے جو چند دن لفظی زو رآمائی کے بعدپھر سو جاتی ہے اور اگلے کسی واقعہ کا انتظار فرماتی ہے
دوسری طرف ہمارے دوسری جانب کے محترم اشخاص بھی واقعے کی نوعیت جانے بغیر محض کسی اطلاع کی بنیاد پر غیرحقیت پسندانہ رائے دینا ضروری سمجھتے ہیں کسی بھی واقعہ کومحض ایک رخ سے دیکھنا ناانصافی ہے ہم محض ایک طبقہ کی رائے کے خلاف حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے ، اسلامی اخلاقی معاشرتی نقطہ نظر سے کسی بھی طریقہ سے اس قسم کے واقعہ کی حمایت نہیں کی جاسکتی ، اس واقعہ کی یکطرفہ طور پر حمایت کرنے والے اشخاص بھی شدت پسندی کا شکار ہورہے ہیں اور ان واقعات کی ناجائز حمایت کے ذریعے ہم آئندہ پرتشدد واقعات کی راہ ہموار کررہے ہیں جو کہ ہمارے اخلاقی بیماریوں میں گندھے معاشرہ میں مزید بگاڑ کا سبب بنے گا ۔

ہمیں بحثیت ایک باشعور شہری واقعہ کے دونوں رخ کا منصفانہ جائزہ لینا ہوگا ، خاتون رپورٹرکے کسی بھی اشتعال انگیز رویہ کا رد عمل یہ نہیں ہونا چاہیے تھا گارڈز نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی جس پر اس کے خلاف بھرپور کاروائی ہونے چاہیے اور محکمہ کو بھی پبلک مقامات پر تعینات ہونے والے سپاہیوں کو برداشت اور اخلاقیات کی تربیت دینی چاہیے ،اور خوش اخلاق باشعور اہلکاروں کو پبلک پیلس ڈیوٹی پر مامعور کرنا چاہیے تاکہ عوام کے اندر اپنے محافظوں کی عزت احترام بڑھے ، اگر ملوث اہلکار نادارآفس میں لوگوں کیساتھ برا برتاؤ کررہا تھا تو اس کے خلاف محکمانہ کاروائی ہونی چاہیے اور خاتون سے بدتمیزی پر بھی قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے ۔

دوسری طرف ہمیں بطور صحافی میڈیا پرسن مزید اخلاقی تربیت کی بھی ضرورت ہے ، دوران روپورٹنگ ہمیں ہماری اخلاقی ذمہ داریوں کا خیال رکھنا چاہیے ، صحافت کے پیشے کا بنیادی مقصد کسی واقعہ کو خبر بناکر پیش کرناہے ،ناکہ خود خبر بننا ، ہمیں خبر بناتے ہوئے اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کا بھی احساس کرنا چاہیے ۔

معاملہ صرف خاتون اینکرکا نہیں آجکل میڈیا پہ ٹرینڈ بنا ہوا ہے ہم ہاتھ میں مائیک لیکر خود ہی حوالدار اور جج بن جاتے ہیں ، آج کل بہت سے پروگرام میں دیکھا جاسکتاہے کہ پبلک مقامات پر پروگرام کرتے ہوئے ہمار اانداز کسی تھانیدا ر کی طرح کاہوتاہے ہم سامنے والے بندے کی ناک پہ مائیک رگڑ کر گرج دار آواز میں اسکا موقف پوچھتے ہیں چلو موقف تو ایک طرف رہ گیا ہم چاہتے ہیں جو جواب ہم ان سے چاہتے ہیں وہ وہی دیں اگر حسب منشا جواب نہ ملے تواس وقت تک اس آگے پیچھے لگے رہتے ہیں جب تک کہ اگلابندہ یا تو مشتعل ہوکر ردعمل کا اظہار کرے یا پھر وہاں سے بھاگ جائے دونوں صورتوں میں ہی ہمیں کامیابی ملتی ہے ، مجرم بھاگ جائے تو اسکا مجرم ہونا ثابت یا پھر شدید ذلالت کی وجہ سے مشتعل ہوکر غصہ دکھائے تو آزادی صحافت پر حملہ ،کسی کو زچ کرنا ہمارے نئے ابھرتے ہوئے انیکرز خواتین وحضرات کا مقبول مشغلہ بن چکا ہے۔

کچھ چیزیں ’’ سرعام ‘‘ کرنے کی نہیں ہوتیں اور نہ ہی’’ شبیر ‘‘ کو ہر چیز دیکھنے کا اختیار دیا جاسکتاہے ، ذمہ داری کے احساس کے بغیر کوئی بھی عمل ہمیشہ باعث زحمت ثابت ہوتا ہے ، ہمارے معزز کرما فرما صحافی انیکرز حضرات برائے مہربانی رپورٹنگ کے دوران کسی کی ذاتیات پر حملے نہ کریں کسی کو زچ نہ کریں ، صحافت کا مقصد معاشرے کو شعور دینا ہے ہمیں اپنے قلم زبان علم کے ذریعے اپنے ملک کی نظریاتی اساس کی حفاظت کرنا چاہیے ناکہ سرل المیڈ بن کر اپنے ہی آشیاں کی جڑوں کاٹنا شروع کردیں ۔

“کوئی میراثی ہے تو اس بیچارے کو میراثی ہی رہنے دیں زبردستی مغل مت بنائیں “

SHARE

LEAVE A REPLY