قلم کی اوٹ سے .. از:‌فرید بھٹہ ۔ ریاض

0
176

قلم کی اوٹ سے .‌فرید بھٹہ ۔ ریاض

ہم نے دوچار مضامین اور خاکے اچھے کیا لکھ لیئے کہ خود کو ادیبوں اور شاعروں میں شمار کرنا شروع کردیا اور اسی زعم میں ایک دن دوستوں کے سامنے یہ اعلان بھی کردیا کہ ہم قدسیہ لالی کا خاکہ لکھیں گے،سجاد سلیم نے ایک لمبی ،، اچھا ،،، کہ کر ہماری طرف دیکھا اور مسکرا دیا
لیکن اسوقت چونکہ ہم سراپا ادیب تھے اس لیئے سجاد کی مسکراہٹ اور معنی خیز ،،، اچھا ،، پر کوئی توجہ نہ دی
بعد میں جب بار بار کوششوں کے باوجود بھی ہم کچھ لکھنے سے قاصر رہے تو ہمیں اپنی حیثیت ،اپنے دعوے کے مضمرات اور سجاد کی اس معنی خیز ،،،اچھا ،،، کے مفہوم کا بخوبی اندازہ ہوگیا ،-لیکن اب کیا ہو سکتا تھا ،تیر کمان سے نکل کر انجانی منزلوں کی طرف پرواز کرچکا تھا –ہم خالی کمان لیئے اس تیر کی تلاش میں کہاں جاتے ،اس پر طرہ ہی کہ دوستوں نیں جو توقعات وابستہ کر لی تھیں ان کا بھرم بھی رکھنا تھا،کم علمی بھی آڑے آ رہی تھی ،مرتا کیا نہ کرتا ہم بھی اٹھتے بیٹھتے ،چلتے پھرتے اسی دھن میں سرگرداں ،بے چین و بے قرار کہ شاید غیب سے کوئی مضمون پردہ ذہن پر وارد ہوجائے مرزا غالب نے بھی یہی فرمایا ہے کہ ،،آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں ۔

صاحبو! کسی مرد کے بارے میں لکھنا کچھ اتنا مشکل نہیں اور پھر اس میں خطرات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ کسی خاتون کے بارے میں لکھنا تو جوئے شیر لانے سے بھی زیادہ مشکل اور پر خطر کام ہے –شاید اسی لئے فرہاد نے شیریں کے لیئے کوئی مضمون لکھنے کی بجائے جوئے شیر لانے میں ہی عافیت جانی
اور اپنی تمام عمر اسی ایک کام کی نذ ر کر دی –ہم بھی کچھ ایسا ہی سوچتے رہے لیکن کچھ کر نہ سکے
فرہاد کے ارد گرد اس کے دوستوں کا ہجوم نہیں تھا اسی لیئے وہ یکسوئی سے اپنے کام میں مصروف رہا ،کامیاب ٹہرا اور رہتی دنیا تک ایک ایسا ریکارڈ قائم کرگیا جسے اسکے انداز میں توڑنا ممکن ہی نہیں –یہاں ہم تو دوستوں کے حصار میں تھے ظاہر ہے اتنے پیارے دوستوں کے ہوتے ہوئے فرار کی تمام راہیں تو خود بخود مسدود ہوجاتی ہیں .

صاحبو! ہمارا منطقہ شرقیہ کا یہ تیسرا اور دمام کا دوسرا ادبی دورہ ہے –اگر خیریت گزری تو آئندہ بھی اسکے امکانات موجود رہیں گے ،ہم نے دورہ جیسا بوجھل اور ثقیل لفظ مجبوراَ استعمال کیا ہے کہ اسکا متبادل ہمارے ذہن میں نہیں آسکا ۔

ہم کہ رہے تھے کہ ادبی حوالے سے ہم دوسری بار دمام میں وارد ہو رہے ہیں اس سے پہلے قدسیہ لالی سے ہماری ملاقات کبھی نہیں ہوئی یہ شرف آج پہلی بار ہمیں حاصل ہو رہا ہے ،آپ سے گفتگو کا اعزاز البتہ حاصل ہے لالی ادبی حوالوں سے بھی کوئی غیر معروف لفظ نہیں ہے بلکہ ادب میں تو اسکو بے دریغ استعمال کیا گیا ہے ،ایک مصرعہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں،،،،،،،،،،،کیا بھلی لگتی ہے آنکھوں کو شفق کی لالی ….

احباب سے آپکا ذکر بھی سنتے رہے ان سب کے علاوہ ایک سبب یہ بھی تھا کہ ایک لالی سے ہمارے کچھ دوستانہ مرسم پہلے سے بھی تھے انہی وجوہات کی بناء پر آپ کے بارے میں جاننے کے لیئے ہمارا شوق روز بروز زیادہ ہوتا چلا گیا اور پھر ایک دن یہ جستجو ہمیں سجاد کے پاس لے گئی –ہمارا فکرمند چہرہ دیکھ کر سجاد نے پوچھا کہ کیا بات ہے اسقدر فکر مند کیوں ہو ؟ ہم نے سجاد کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا :سجاد ! یہ لالی صاحبہ لالی کیوں ہیں ؟؟؟
سجاد نے سگریٹ کا ایک زوردار کش لیا اور دھوئیں کے مرغولے بناتے ہوئے ادھ کھلی آنکھوں سے ہمیں دیکھا ،بغور ہمارے سراپ کا جائزہ لیا –شاید اسے ہماری دماغی حالت پر کچھ شبہ ہوا –مسکرا کر بولا
کیوں خیریت ہے اسمیں ایسی تشویشناک بات کونسی ہے ؟
ہم نے کہا کہ بھئی سادہ سا سوال ہے ،اگر جواب دینے میں کوئی امر مانع ہے توہم اپنا سوال واپس لے لیتے ہیں
بولے؛جواب تو اس سوال کا دیا جا سکتا ہے جو سمجھ میں آجائے ،مجھے تمہاراسوال ہی سمجھ نہیں آسکا تو جواب کیا دوں؟
ہم نے کہا ؛ سوال تو سادہ سا ہےکہ لالی آخر لالی کیوں ہیں ؟
لمحاتی خاموشی کے بعد گویا ہوئے ؛ وہ لالی ہیں اسلیئے لالی ہیں –
اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
ہم نے جھنجلا کر کہا ؛سجاد سمجھنے کی کوشش کرو ،اگر ہمیں پوچھا جائے کہ تم بھٹہ کیوں ہو تو ہمارا جواب ہوگا کہ ہمارا بھٹہ فیملی سے تعلق ہے اسلیئے ہم بھٹہ ہیں –اب اس کی روشنی میں بتاؤ کہ لالی آخر لالی کیوں ہیں ؟
سجاد کے پاس اسکا کوئی حتمی جواب نہ تھا جس سے ہماری تشفی ہو سکتی –جس لالی کا ذکر ہم نے پہلے کیا ہے وہ ایڈوکیٹ منظور لالی ہیں جو اب بھی ہمارے دوست ہیں.

ہمارا دمام کتنا آنا جانا رہا وہ تو آپ کے گوش گزار کر چکے ،البتہ دیگر احباب کا ریاض آنا جانا لگا رہا –یوں ان سے ملاقاتوں کے سلسلے بھی چلتے رہے اور ٹیلی فونک رابطے بھی استوار ہوئے ،دیگر ہستیوں کے ساتھ ساتھ قدسیہ لالی کا ذکر بھی ہوتا رہا جسے سن کر ہمیں ان کے بارے میں جاننے اور لکھنے کا اشتیاق ہوا –بے خودی میں قبل از وقت اسکا اعلان بھی سرزد ہوگیا ،یہ خبر جنگل کی آگ سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ پھیلی اور آنَا فاناَ قدسیہ لالی تک بھی جا پہنچی اور ہم ،،،،،،،،،،نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن ،،،،،،کی عملی مثال بن کر رہ گئے .

دوستوں کی طرف یوں دیکھا کیئے جیسے پہلی با ر دیکھنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہو یہ دعوی یا غلطی ہو جانے کے بعد ہم پر جو گزری وہ تو ہم ہی جانتے ہیں اب آپ کو کیا کیا بتائیں اور یہاں اسکا موقع بھی نہیں ،بہرحال اسکا ایک فائدہ ضرور ہوا کہ ہم مستقبل میں ایسی کسی حرکت سے مکمل توبہ کر چکے ہیں ۔جسکے نتائج اسقدر تکلیف دہ بھی ہو سکتے ہوں ۔

بزرگوں کا قول بالکل درست ہے کہ پہلے تولو پھر بولو
صاحبو آخر کار سجاد کو ہماری بے چارگی پر ترس آگیا اور اس نے ہمیں قدسیہ لالی کا ٹیلی فون نمبر دیتے ہوئے کہا؛ یون دربدر پھرنے سے بہتر ہے کہ اس ٹیلی فون پر رابطہ کرلو ،تمہیں من کی مراد مل جائے گی
یوں ہمارا قدسیہ لالی سے پہلی بار ٹیلی فونک رابطہ ہوا ۔ہم نے اپنا تعارف کروایا جھجکتے ہوئے مدعا زبان پر لائے –بولیں پوچھئے آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں ؟
ہم بے اختیار پوچھ بیٹھے کہ بس یہ بتا دیجیئے کہ آپ لالی کیوں ہیں ؟
مانئے جل ترنگ بج اٹھے : ہم سحرزدہ سے ہوکر رہ گئے –آکر ان کی آواز نے یہ سحر توڑا ،فرمایا ؛؛بڑا مشکل سوال ہے چلیئے بتائے دیتی ہوں !
لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
فرمایا؛ ہمارے خاندان میں عرصہ دراز کے بعد ایک لڑکی کی ولادت ہوئی اور وہ لڑکی میں تھی ،ایک جشن کا سماں تھا سب لوگ بہت خوش تھے جب نام کا مرحلہ آیا تو میرے والد کے ایک انگریز دوست نے میرا نام ،،لالی،، تجویز کیا جس کے معنی خوبصورت اور لاڈلی کے ہیں اور یہ دونوں اوصاف مجھ میں موجود تھے سب کو یہ نام پسند بھی آیا لیکن میرے تایا جو ان دنوں کراچی میں آڈیٹر جنرل تھے نے اسے پسند نہ کیا اور میرا نام قدسیہ تجویز کیا جو معنوی اعتبار سے اور بھی خوبصورت ہے ۔چونکہ یہ تجویز حکمیہ تھی اس لیئے اس پر فوراَ عمل بھی ہو گیا اور یوں مجھے قدسیہ لکھا اور لالی پکارا جانے لگا۔
جہاں تک لالی کے معنی کا تعلق ہے ایک تو انہوں نے خود بتادیئے –ہماری تحقیق اور جستجو نے جو تلاش کیئے وہ بھی آپ کی نذر کیئے دیتے ہیں –لالی کے معنی عزیزہ کے ہیں اور لالی کے الف پر مد ڈال دی جائے تو یہ لولو کی جمع ہے یعنی موتی جو عربی لفظ ہے اور اردو لغت میں بھی موجود ہے ۔
قدسیہ کو خود بھی لالی پسند تھا اس لیئے اپنے نام کا حصہ بنالیا اور یوں مستقبل کی شاعرہ نے اپنا تخلص بھی اوائل عمری مں ہی ڈھونڈ لیا –پھر جب چھٹی ساتویں کلاس میں لالی نے شاعری شروع کی تو تخلص ڈھونڈنے کے جھمیلے سے بھی بچ گئیں .
لالی نے اپنے اشعار اور نظموں سے اپنے اساتذہ کو بھہ انگشت بدنداں کردیا اور پھر شادی کے ساتھ ہی شاعری کا یہ دور اختتام پذیر ہوا
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے
گرہستی پر توجہ مرکوز کردی اور پھر بچوں کی پرورش نے کسی اور طرف متوجہ نہ ہونے دیا مگر یہ شوق مر نہ سکا پژمردہ ہوگیا
چھٹتی نہیں یہ کافر منہ سے لگی ھوئی
سعودی عرب آنے کے ساتھ ہی شوق نے انگڑائی لی اور ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا –حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی ہوئی جو آج کل کی روایت بن چکی ہے تو مایوس ہونے کی بجائے سیخ پاء ہو گیئں اور اسی عالم میں لال پیلی ہوکر شاعری پر دھاوا بول دیا
صاحبو! ہم نے کئی شعراء کے انٹرویوز سنے کئی ایک سے براہ راست گفتگو کا شرف حاصل ہوا سب نے شاعری کی شروعات کی الگ الگ وجوہات بیان کیں ،کسی کو شاعری وراثت میں ملی تو کوئی حادثاتی شاعر بن گیا –لالی ہی وہ اکلوتی شاعرہ ہے جس نے اشتعال کے عالم میں شاعری شروع کردی(کم از کم ہمارے علم کے مطابق )

اصلاح کے لیئے آپکی نظر مختلف چہروں اور ناموں سے ہوتی ہوئی عصر حاضر کے خوبصورت اور قادرالکلام شاعر ،نسیم سحر ،پر جا ٹہری اور یوں مشرق و مغرب کے حسیں منظر سے ایک نئی اور خوبصورت شاعرہ قدسیہ لالی ابھر کر سامنے آئیں
عموماَ خواتین پر یہ الزام دھر دیا جاتاہےکہ وہ لکھتی نہیں بلکہ لکھواتی ہیں اور حسب روایت یہ بھی لالی کے ساتھ ہوا مگر لالی ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھیں ،انہوں نے نثر میں طبع آزمائی کا فیصلہ کرلیا اور یوں ایک غلط رویے اور لالی کے کچھ کر گزرنے کی لگن نے دنیاء ادب کو ایک ادیبہ سے روشنا س کروایا
الہ آباد سے نقل مکانی کرنے والا یہ سید خاندان جب کراچی منتقل ہوا تو لالی نے اس جہان رنگ وبو میں آنکھ کھولی،تعلیم یافتہ ماحول میں پرورش پائی الہ آباد اور کراچی دونوں شہر ادبی حوالوں سے منفرد مقام کے حامل ہیں لالی کو گھر اور سکول میں ادبی ماحول ملا قلم میں روانی تھی خیالات کا ہجوم تھا لفظوں پر دسترس حاصل تھی ادبی حوالے موجود تھے تو پھر یہ کچھ تو ہونا ہی تھا جو ہو رہا ہے
لالی ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ادب نواز بھی ہیں اور مہمان نواز بھی ،بذلہ سنج خوش گفتار ،شوخ بھی اور سنجیدہ بھی یہ یقیناَ الہ آباد کا اثر ہے ورنہ کراچی میں تو …. ایں خیال است و محال است و جنوں…..
ہم نے کراچی میں کافی عرصہ گزارا ہے ہمیں تو وہاں ایسے ہنستے مسکراتے لوگ کہیں نہ مل سکے ایسے شگفتہ مزاج لوگ کراچی کے کون سے حصہ میں پائے جاتے ہیں ؟؟

بہر حال کانٹوں میں پھولوں کی موجودگی سے تو انکار ممکن ہی نہیں کہ یہی پھول تو اپنی خوبصورتی اور مہک سے کانٹوں کی اذیت میں بھی راحت کا احساس زندہ رکھتے ہیں –خدا کرے کہ ہر طرف ایسے خوش رنگ پھول سدا کھلتے مہکتے رہیں تاکہ خارزاروں کے مسافر بھی سکون آشنا ہوتے رہیں
لالی کل بھی لالی تھی آج بھی لالی ہیں اور ہمیشہ لالی ہی رہیں گی
ہماری دعا ہے کہ یہ دلکش اور خوبصورت پھول ادب کے مرغزاروں میں سدا مہکتا رہے ،اس دور ابتلا میں ایسی پر بہار اور دلکش شخصیت ایک نعمت نہیں تو اور کیا ہے!!!!
کہ جس کے نقش پاء سے پھول ہوں پیدا بیاباں میں

SHARE

LEAVE A REPLY