پاکستان نے بدھ کو ایک مرتبہ پھر اسلام آباد میں تعینات بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کی طرف سے فائر بندی کی مبینہ خلاف ورزی پر احتجاج کیا ہے۔

دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ بھارتی فورسز نے ورکنگ باؤنڈری پر چپراڑ اور ہڑپال جب کہ متنازع علاقے کشمیر کی عارضی حد بندی (لائن آف کنٹرول) پر بھمبر سیکٹر میں “بلااشتعال” فائرنگ کی۔

بیان کے مطابق ان واقعات میں اب تک دو پاکستانی شہری مارے گئے جب کہ نو افراد زخمی ہوئے۔

ایک ہفتے کے دوران پاکستان نے فائربندی کی خلاف ورزی پر تیسری مرتبہ بھارتی سفارتکار کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے درمیان متنازع علاقے کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کے تبادلے ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں اور دونوں ملک فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی میں پہل کا ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔

لیکن ان واقعات میں خاص طور پر گزشتہ ماہ بھارتی کشمیر کے علاقے اوڑی میں ایک فوجی ہیڈکوارٹر پردہشت گرد حملے کے بعد تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

بھارت اس حملے کا الزام پاکستان میں موجود کالعدم تنظیم پر عائد کرتے ہوئے دعویٰ کرتا ہے کہ حملہ آور کو پاکستان کی معاونت بھی حاصل تھی۔ لیکن اسلام آباد ان دعوؤں کو مسترد کر چکا ہے۔

منگل کو دیر گئے ورکنگ باؤنڈری پر پیش آنے والے واقعے پر بھارت کی طرف سے تو کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا لیکن بھارتی ذرائع ابلاغ میں بعض مقامی افراد کی طرف سے یہ اطلاعات نشر کی گئی ہیں کہ بدھ کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی کشمیر کے سیکٹر آر ایس پورا میں پاکستانی فوج کی طرف سے “بلا اشتعال” گولہ باری سے کم از کم 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پاکستان نے اس بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY