عمران خان کے دھرنے پر پابندی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ

0
168

پاکستان کی ایک عدالت نے انتظامیہ کو حفاظتی انتظامات کے طور پر اور حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کو احتجاجی دھرنوں کے ذریعے اسلام آباد کو بند کرنے سے روک دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ دو نومبر کو حکومت مخالف احتجاج کے لیے اپنے لاکھوں حامیوں کے ساتھ اسلام آباد کو بند کر دیں گے۔

شہر کو بند کرنے کے اعلان کے خلاف عام شہریوں کی طرف سے دائر درخواستوں پر جمعرات کو سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ حکم سنایا۔

سماعت کرنے والے جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ دو نومبر کو احتجاج کے دوران انتظامیہ کنٹینرز لگا کر شہر کو بند نہیں کرے گی اور حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ تحریک انصاف کو احتجاج کے لیے مخصوص جگہہ تک ہی محدود رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنا سب کا حق ہے کہ لیکن احتجاج کے نام پر عام شہریوں کے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ جج نے کہا کہ سیاسی جماعت کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کا حق ہے لیکن کسی بھی شہر بند کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عدالتی حکم میں وفاقی سیکرٹری داخلہ کو ہدایت کی گئی کہ شہر میں کنٹینرز لگا کر سڑکیں بند نہ کی جائیں اور اس بات کو یقین بنایا جائے کہ تمام اسپتال، تعلیمی ادارے اور معمولات زندگی معمول کے مطابق رہیں۔

جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اس حکمنامے کے بارے میں عمران خان کو بھی آگاہ کرے۔

عدالت نے عمران خان 31 اکتوبر طلب کرتے ہوئے کہا الیکٹرانک میڈیا کا نگران ادارہ “پیمرا” پی ٹی آئی کے سربراہ کی تقاریر کا ریکارڈ پیش کرے جو عمران خان کی موجودگی میں سن شہر کو بند کرنے کے ان کے بیان پر وضاحت طلب کی جائے گی۔

وفاقی دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے “سی ڈی اے” نے سیاسی جلسوں کے لیے فیض آباد سے داخل ہوتے ہی ایک جگہہ مخصوص کر رکھی ہے لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ احتجاج کرنے والے پارلیمنٹ ہاؤس کا ہی رخ کرتے رہے ہیں جس سے اکثر اوقات شہر میں معمولات زندگی متاثر ہونے کے علاوہ امن و امان سے متعلق خدشات بھی پیدا ہوتے رہے ہیں۔

اس عدالتی فیصلے سے قبل عمران خان یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ کسی صورت اپنا احتجاج ملتوی نہیں کریں گے جب کہ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت اسلام آباد کو بند کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY