کوئٹہ حملے میں ملوث لشکر جھنگوی کے 4 عسکریت پسند ہلاک

0
303

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک کمپاؤنڈ پر چھاپہ مار کر پولیس ٹریننگ کالج پر حملے میں ملوث 4 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات 27 اکتوبر کی رات کالعدم گروپ لشکر جھنگوی کے عسکریت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر انسداد دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف) کی ٹیم نے کوئٹہ میں ایک کمپاؤنڈ پر چھاپہ مارا۔

اے ایف پی کو ایک مقامی سینئر پولیس افسر عبداللہ آفریدی نے بتایا کہ اے ٹی ایف ٹیم سے فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 4 عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔

دوسری جانب ایک پولیس عہدیدار نے آف دی ریکارڈ بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک دہشت گردوں کا تعلق لشکر جھنگوی سے تھا۔

واضح رہے کہ لشکر جھنگوی سے منسلک ایک گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے داعش کے ساتھ مل کر پیر 24 اکتوبر کی رات سریاب روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ کالج پر حملہ کرکے 60 سے زائد افراد کو ہلاک اور 100 سے زائد کو زخمی کیا، جبکہ واقعے میں 3 حملہ آور بھی ہلاک ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ داعش نے پولیس ٹریننگ کالج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حملے میں ملوث 3 دہشت گردوں کی تصاویر بھی جاری کی تھیں، جن میں سے ایک ان 4 دہشت گردوں سے بہت حد تک مشابہت رکھتا ہے جنھیں سیکیورٹی فورسز نے گذشتہ رات کوئٹہ میں ہلاک کیا۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت نے کوئٹہ حملے کی تحقیقات کے لیے فوج، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیز پر مشتمل افسران کی ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے۔

2001 میں امریکا کے افغانستان پر حملے کے بعد سے پاکستان کو دہشت گردوں کی کارروائیوں کا سامنا ہے، اگرچہ ملک کے مغربی قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کے باعث ان واقعات میں کمی آئی ہے تاہم اب بھی اکثر وبیشتر دہشت گرد سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ کالج پر حملہ بھی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ عسکریت پسند گروپ اب بھی بڑی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY