سیرتِ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔روشنی حرا سے (119)۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

حضر ت علی کرم اللہ وجہہ کو مدینہ میں چھو ڑ نا، ابو ذر کے با رے میں پیشنگو ئی، ایلہ اور دومہ کے حکمرانوں سے معا ہدے

ہم گزشتہ قسط میں غزوہ تبوک کی تیا ریوں کا ذکر کر رہے تھے ۔آئیے اب آگے بڑھتے ہیں۔یہاں قابل ِ ذکر با ت یہ ہے کہ حضور (ص) نے پہلی مر تبہ ایک کے بجا ئے، دو نگراں مقرر کیے اس میں جو جو لطیف اشا رہ ملتا ہے وہ انتہا ئی غو ر طلب ہے۔ اس کو میں ان لو گوں کے غور و فکر کے لیے چھو ڑتا ہوں، جوغو ر کر نا چا ہیں کہ حضرت علی کواہل ِ بیت پر اپنا نا ئب کیوں مقرر فر ما یا !جبکہ سب روحانیت میں بے مثال تھے۔ اور انتظا میہ کا نا ئب محمد (رض)بن مسلمہ انصا ری کو یا صبا ع (رض) عزفطہ کوبنا یا۔ چونکہ اس پرمورخین کا اختلاف ہے لہذا میں نے دونوں ہی نام دیدیئے ہیں۔اس لیئے کہ ابن ِ اسحا ق (رح) اور الدرا وردی کے مطا بق صبا ع بن عزفطہ کو اپنا نا ئب بنا یا۔ لیکن اس پر تو سب متفق ہیں کہ اہلِ بیت میں حضو ر (ص) نے اپنا نائب علی کرم اللہ وجہہ کو ہی بنا یا ۔مگر منا فقین نے اس پر یہ افواہ اڑا دی کہ حضو ر (ص) علی (رض) سے نا راض ہیں، اس لیئے جا ن چھڑانے کو ان کو یہاں چھو ڑ گئے ہیں۔یہ اتنا بڑا جھوٹ تھا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بیقرار ہو گئے، اور فوراً ہتھیار با ندھ کر تبو ک روانہ ہو گئے۔ اورجب حضور (ص) جرف میں رونق افروز تھے تو علی کرم اللہ وجہہ نے لشکر کو جا لیا ۔کیو نکہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کو یہ جدا ئی تو پہلے ہی شا ق تھی اس پر یہ افواہ ان کا دل توڑنے کے لیے کا فی تھی۔ ان کی زندگی میں ایسے موا قعے بہت کم آئے تھے کہ وہ حضو ر (ص) کے سا تھ نہ ہوں ،حضو ر (ص) اگر مجلس میں ہو تے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ سا تھ ہو تے۔اگر خلوت میں ہوتے تو استوانہ علی کے مقام پر (جس کا نام اب بدل کر استوانہ حا رث رکھدیا گیا ہے تشریف فرما ہو تے ۔حارث کے معنی ہیں چو کیدار ۔ کیا حضو ر (ص) کے زما نے میں کسی چو کیدار کا وجود تھا ؟) مستند تاریخوں میں مرقوم ہے کہ یہاں علی تشریف فر ما ہو ا کرتے تھے اور اس کا نام چودہویں صدی ہجری کے اوائل تک استوانہ ِ علی ہی ،تھا بعد میں تبدیل کیا گیا۔حضور (ص) نے جب حضور(ص) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دیکھا تو آنے کی وجہ پو چھی !انہوں نے صورت ِ حا ل عرض کی ،کہ یا رسول اللہ یہ ما جرا ہے ۔ توحضور (ص) نے فر ما یا کہ ” انہو ں نے جھو ٹ کہا ہے ۔میں نے تو تمہیں اس لیے اس پر قائم مقام مقرر کیا ہے ،جو کہ میں نے پیچھے چھوڑا ہے ،واپس جا ؤ اور میرے اور اپنے اہل کے با رے میں قائم مقامی کرو ۔اے علی کیا تم یہ پسند نہیں کر تے کہ مجھ سے تمہا ری وہی نسبت ہوجو حضرت ہا رون (ع) سے حضرت مو سیٰ (ع)کو تھی ؟لیکن میرے بعد کو ئی نبی (ع) نہیں ہو گا “ لہذا حسب الحکم حضرت علی کرم اللہ وجہہ واپس مدینہ منورہ چلے گئے اور حضو ر (ص)اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔اس کو ابن ِ اسحاق (رح) نے توابراہیم بن سعد بن وقاص (رض) سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اپنے والدسعد سے یہ پو را واقعہ سنا، مگر کچھ محد ثین اور مورخین نے اس کو دوسرے اندا ز سے بیا ن کیا ہے۔کہ جب علی (رض) کو حضور (ص) نے مدینہ میں چھوڑ نے کا فیصلہ سنا یا، تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے عرض کیا کہ یارسول (ص) اللہ آپ (ص) مجھے عورتوں اور بچوں میں چھو ڑے جا رہے ہیں ؟تب حضو ر (ص) نے فر ما یا کہ ” کیا تم اس با ت کو پسند نہیں کرتے کہ تم کو مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہا رون (ع) کو مو سیٰ (ع) سے تھی ، ہاں میرے (ص)بعد کو ئی نبی نہیں ہو گا “ اسے مسلم اورترمذی نے حضرت قتادہ (رض)کے حوالے سے درج کیا ہے۔اسکا ذکر دوسرے حوالے سے ابو داؤد اور امام احمد (رح) کے یہاں بھی ملتا ہے واللہ عالم ۔

زیدبن اصیت کا واقعہ :ابن ِ اسحاق (رح) نے ابن ِ قتادہ (رض) کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ زید بن اصیت عما رہ کے کجا دے میں تھا کہ وہ لو گوں سے کہنے لگا کہ محمد (ص) کا ناقہ گم ہو گیا۔ اور اس کے با وجود کہ وہ (ص)دعویٰ کر تے ہیں کہ مجھے (ص) غیب کی خبر ہے۔ جبکہ آسمان کی خبر یں بھی بتا تے ہیں،وہ(ص) یہ نہیں معلوم کر سکے کہ انکا (ص) نا قہ کہا ں ہے؟ادھر حضرت عمارہ (رض) حضور (ص) کے پاس حاضر تھے کہ حضور (ص) کویہ فر ماتے سنا کہ: ” ابھی ابھی ایک آدمی نے ایسا کہا“۔ پھر فر ما یا کہ ”خد اکی قسم اللہ نے مجھے (ص) جو علم دیا ہے ،اس کے سوا کسی چیز کا مجھے علم نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے (ابھی) مجھے (ص) با خبر کیا ہے کہ وہ اونٹنی کہاں ہے ۔وہ اسی وادی میں فلاں گھا ٹی میں ایک درخت میں مہا ر اُلجھ جا نے کی وجہ سے رکی ہو ئی ہے۔ اس لیے تم جا کر اسے لے آؤ“۔ لہذا لو گ گئے اور اسے جا کر لے آئے۔اس کے بعد حضرت عمارہ (رض)نے واپس آکریہ واقعہ جب اپنے رفقاءکے سامنے بیا ن کیا ۔تو اس پر وہاں موجود اشخاص میں سے ایک نے بتا یا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے یہ الفاظ زید بن اصیت نے کہے تھے۔یہ سن کر حضرت عما رہ اس پر ٹوٹ پڑے اور کہنے لگے کہ مجھے پتہ نہیں تھا ۔کہ میرے کجادے میں ایک شیطان مو جود ہے ۔اس کے بعدبعض مورخین نے لکھا ہے کہ وہ تائب ہو گیا تھا۔ لیکن بعض نے لکھا ہے کہ وہ مر تے دم تک منا فق ہی رہا۔ واللہ عالم۔ دوسرے منا فقین کی بھی یہ ہی حالت تھی کہ راستہ بھر با تیں بنا تے رہے ۔ان میں سے کچھ لو گ توبر سرِ عام یہ کہتے پھر رہے تھے کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ کیا زرد لو گوں سے ( مراد تھی رومن )تمہا ری جنگ برابری کی بنیاد پر ہو گی ”وہ ہمیں سب کو جا نوروں کی طرح رسیوں سے باند ھ کر ڈا ل دینگے“ اور جب یہ با ت حضور (ص) تک پہنچتی تو کہتے کہ ہم تو مذاق کر رہے تھے۔ اس پر اللہ تعا لیٰ نے ایک آیت نا زل فر ما ئی ”ولئن سالتھم لیقولنّ انّما کنّا نخو ض و نعلب “اردوترجمہ : ”اور جب ان لو گوں سے باز پرس کروتو کہتے ہیں کہ ہم تو یہ ہنسی مذاق میں کہہ رہے تھے “۔

حضرت ابوذر(رض) غفا ری کے با رے میں حضو ر (ص) کی پیشنگو ئی :یہ واقعہ اس طر ح ہے کہ تبوک کے سفر کے دوران حضرت ابو ذر (رض) غفا ری کا اونٹ تھک گیا۔ اور اس نے آگے بڑھنے سے انکا ر کر دیا ۔لہذا وہ قافلے سے بچھڑ گئے ۔اس کے بعدانہو ں نے اپنا سا مان کا ندھے پر رکھا اور قافلے کے نشا ن پا دیکھتے ہو ئے چل پڑے۔ کچھ لو گوں نے خبر دی کہ حضو ر (ص) ایک شخص تنہا اپنا سا ما ن اٹھا ئے آرہا ہے ۔حضور (ص) نے فر ما یا ”وہ ابو ذر ہے جو تنہا پیدا ہوا ، تنہاچلے گا ، تنہا مرے گا اور حشر میں تنہا اٹھایا جا ئے گا “۔ابن ِ ا سحاق (رح) ہی نے متعدد حوالوں کے سا تھ تحریر کیا ہے کہ حضرت ابو ذر (رض) کی مو ت حضرت عثما ن (رض) کے زما نہ اقتدار میں جلا وطنی کی حالت میں ہو ئی۔ اس وقت وہ زبدة کے مقام پر مقیم تھے، اور ان کے سا تھ ان کی بیو ی اور غلا م کے سواکو ئی اور نہ تھا ۔انہو ں نے بیو ی اور غلا م کو وصیت فر ما ئی کہ تم مجھے غسل دے کر کفنا نا اور قافلوں کی گزر گا ہ جو قریب سے گزرتی ہے اس پر رکھدینا ۔پھر جو پہلی جما عت گزرے اس سے کہنا کہ یہ صحا بی ِ رسول (ص) ابو ذر (رض) کا جنازہ ہے اسی دوران حضرت عبد اللہ(رض) بن مسعود عراق سے واپس ہو تے ہو ئے وہاں سے گزرے ۔ جب انہو ں نے ایک جنا زہ دیکھا تو ٹھٹک کر رک گئے ۔اس وقت حضرت ابوذر (رض) غفاری کا غلا م کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا کہ یہ حضو ر (ص)کے صحا بی ابو ذر (رض) غفا ری کا جنا زہ ہے۔یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن مسعود پھو ٹ پھو ٹ کر رونے لگے۔ اور فر ما یا کہ میرے آقا کے الفا ظ کی صدا قت آج پھرظا ہر ہو ئی، اوروہ اپنے ہمرا ہیوں کے سا تھ وہاں ٹھہرے، ان کی نما ز جنا زہ پڑھا ئی پھر تدفین کے بعد واپس جا کر اہل ِ مدینہ کو پو را واقعہ سنا یا۔
عامل ایلہ سے سے صلح:جب رسول (ص) اللہ تبوک پہنچ گئے تویحنہ ( یو حنا ) بن روبّہ حاکم ایلاءحاضر ہوااور جزیہ دینا منظو ر کر کے صلح کر لی ۔دراصل اس زمانے میں موجودہ ایلات کا نام ایلہ تھا جو کہ خلیج عقبہ میں واقع ہے ۔ حضور (ص) نے اس کو صلح نامہ تحریری طو ر پر عطا فر ما یا ۔پھر اطراف کے دو اور قبا ئل اہل ِ جر با اور اہل ازرخِ بھی حاضر ہوئے انہو ں نے بھی صلح کر لی ۔اور انکو بھی تحریری طو ر پرامان کی سند حضو ر (ص) نے عطا فرمائی۔

حاکم ِ دومہ کا رویہ :یہ اس علاقہ کا واحد حاکم تھا جو کہ صلح پر آما دہ نہ تھا۔ چو نکہ نصرانی تھالہذا ابھی تک شہنشا ہ ِروم کا وفا دار تھا ۔ اس کے لئے حضو ر (ص)نے حضرت خالد (رض) بن ولید کو بلا کر حکم دیا کہ جا ؤ اور اسے دیکھو کہ وہ کیا کہتا ہے۔حضور (ص) نے ساتھ میں یہ بھی فر ما یا کہ تم اسے گا ئے بیلوں کا شکار کھیلتے ہو ئے پا ؤگے۔ اس زما نے میں اس علاقے میں جنگلی گا ئے بیل بہت تھے اور ان کے شکا ر کا طریقہ یہ تھا کہ عمو ماً چا ندنی راتوں میں ان کا شکار اس طرح کر تے تھے کہ اپنا ایک پا لتو بیل چھو ڑ دیتے تھے ،جب وہ اس کے سا تھ چرتے ہو ئے محل کے قریب آجا تے تھے تو ان کو نیزوں اور تیروں سے شکا ر کر لیتے ۔لیکن اس دن عجیب با ت ہو ئی کہ وہ حسب ِ سابق چا ند نی رات میں فصیل کے اوپر کھڑے ہو ا تو بیل بجا ئے جنگل کے طرف جانے کہ قلعے کا دروازہ اپنے سینگوں سے واپسی کے لیئے کھو لنے کی کو شش کرنے لگا ۔اس وقت اس کا بھا ئی اور بیوی بھی ہمراہ تھے ۔لہذا اس کی بیوی نے کہا کہ کیا کبھی پہلے بھی اس بیل نے ایسا کیا تو اس نے جواب نفی میں دیا ۔اس نے کہا کہ پھر با ہر نکل کر دیکھنا چا ہئے کہ کہیں کو ئی گڑ بڑ نہ ہو ۔وہ جیسے ہی با ہر نکلے حضرت خا لد (رض) بن ولید نے ان پر للکا ر کرحملہ کر دیا۔ اس کے ساتھ اس کا بھا ئی حسان اور خاندان کے کئی دوسرے افراد بھی تھے۔ تھو ڑی سی لڑا ئی کے بعد حضرت خالد (رض) نے ان کو زیر کر کے گرفتا ر کر لیا، اس کا بھا ئی مدافعت کرتے ہو ئے ما را گیا۔ لیکن کیدر نے حضو ر (ص) کے سامنے پہنچنے کے بعد جزیہ دینا منظو ر کر لیا ،لہذا سب کی جان بخشی کردی گئی ۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY