صفدر ھمدانی

ہر ایک غم سے فزوں تر حسین کا غم ہے
ازل سے تا دمِ محشر حسین کا غم ہے

نبی کی آل کے غم پہ ہمارے غم ہیں نثار
ہمارے درد کا محور حسین کا غم ہے

یہ دل کی دھڑکنیں کہتی ہیں ہائے ہائے حسین
یہ آنسوؤں کا سمندر حسین کا غم ہے

اس ایک غم پہ کسی کی اجارہ داری نہیں
ہر ایک روح کے اندر حسین کا غم ہے

شفق پہ یہ جو ہے سرخی غمِ حسین کی ہے
غروب شمس کا منظر حسین کا غم ہے

نبی سے عشق ہو لیکن غم حسین نہ ہو
سنو رضائے پیمبر حسین کا غم ہے

اثاثہ ہے میرے بچوں کا غم یہی صفدر
بمثلِ شجرِتناور حسین کا غم ہے

SHARE

LEAVE A REPLY