یمن کے جنوب مغربی صوبے تعز میں سعودی اتحاد کے فضائی حملے میں 17 شہری ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق مقامی حکومتی عہدیداروں اور شہریوں کا کہنا تھا کہ جنگی جہازوں کی جانب سے بمباری میں تعز کے الصالو ضلع میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا۔

الصالو میں ان دنوں حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان کنٹرول حاصل کرنے کے لیے لڑائی جاری ہے۔

تعز، یمن کا تیسرا بڑا شہر ہے، جہاں کی آبادی ایک اندازے کے مطابق کشیدگی سے قبل تقریباً 3 لاکھ تھی۔

واضح رہے کہ عرب اتحاد یمنی صدر منصور ہادی کی حمایت میں تقریباً 19 ماہ سے یمن میں فضائی کارروائی کررہا ہے اور اس کے حملوں میں اکثر عام شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے منصور ہادی نے گزشتہ ہفتہ اقوام متحدہ کی امن تجویز یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ اس معاہدے سے ملک مزید تباہی کی طرف جائے گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں عرب اتحاد کی فضائی کارروائی شروع ہونے سے اب تک ساڑھے 6 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

عالمی سطح پر یمن کے صدر تسلیم کیے جانے والے منصور ہادی کی حامی ملیشیا اور فورسز نے عدن کو اپنا عارضی بیس بنایا ہوا ہے اور انہیں صنعا پر قابض حوثی باغیوں اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔

سعودی عرب کی سربراہی میں عرب اتحاد نے مارچ 2015 میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

اس عرب اتحاد کو امریکا کی بھی حمایت حاصل ہے اور اس میں 9 عرب ممالک شامل ہیں اور انہوں نے فضائی کارروائیوں کے ذریعے حوثی باغیوں کو جنوبی یمن سے دور ہونے پر مجبور کردیا ہے تاہم باغیوں کا اب بھی دارالحکومت صنعا پر قبضہ برقرار ہے جو انہوں نے 2014 میں حاصل کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY