ہندوستان کی پولیس نے 8 مسلمان قیدیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو مبینہ طور پر انتہائی ہائی سیکیورٹی جیل سے فرار ہوئے تھے۔

پولیس کا دعویٰ تھا کہ کالعدم اسٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا (ایس آئی ایم آئی) کے اراکین نے بھوپال جیل میں تیز دھار چاقو سے ایک اہلکار کو ہلاک کیا اور فرار ہوگئے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کیلئے ریاست مدھیہ پردیش کے وسطی شہر میں آپریشن کیا گیا جہاں انھیں رکنے کیلئے خبردار کیا تاہم انھوں نے مزاہمت کی جس میں فائرنگ سے آٹھوں ملزمان ہلاک ہوگئے۔

بھوپال کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) آف پولیس یوگیش چوہدری نے بتایا کہ ‘ہم نے انھیں گرفتاری دینے کیلئے کہا تاہم انھوں نے پولیس کا گھیرا توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ملزمان نہتے تھے تاہم انھوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور ہمیں ان کو روکنے کیلئے فائرنگ کرنا پڑی’۔

تاہم بعد ازاں آئی جی پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمان کے پاس ہتھیار موجود تھے اور انھوں نے مسلح مقابلہ بھی کیا۔

دوسری جانب مقابلے کے بعد کی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لاشوں کے پاس پستول رکھے ہوئے تھے تاہم مذکورہ اسلحہ کی خراب حالت دیکھتے ہوئے کچھ حلقوں نے ہندوستان پولیس کے دعوؤں پر شک کیا ہے۔

جنوبی ایشیا کے لیے ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر میناکشی گانگاوالے کا کہنا تھا کہ ‘سیکیورٹی فورسز کو زندگیاں بچانے کیلئے متبادل راستے اختیار کرنے کا حق حاصل ہے لیکن مذکورہ واقعے میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزمان یوں بھی غیر مسلح تھے’۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ‘واقعے کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہیے’۔

ادھر پولیس کا کہنا تھا کہ مقامی رہائشی افراد نے پولیس کو علاقے میں مشتبہ افراد کی غیر معمولی نقل و حمل کے حوالے سے آگاہ کیا تھا، جس کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر ان کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

واضح رہے کہ اس واقعے سے قبل وزارت داخلہ نے ملک بھر میں جیل توڑنے کے حوالے سے ہائی الرٹ جاری کیا تھا۔

واقعے کے بعد جیل سپریٹنڈنٹ سمیت 4 عہدیداروں کو معطل کردیا گیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY