متحدہ عرب امارات میں وفاقی سپریم کورٹ نے پیر کے روز دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کے لیے جاسوسی سے متعلق مقدمے کے فیصلے میں ملزمان کو عمر قید کے علاوہ 15 اور 10 برس قید کی سزائیں سنائی ہیں۔ مقدمے میں 7 ملزمان تھے جن میں دو اماراتی، تین لبنانی اور ایک عراقی شہری کے علاوہ ایک مصری نژاد کینیڈیئن خاتون شامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق عدالت نے حزب اللہ کے ایک ایجنٹ کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں ایک اماراتی شہری کو عمر قید کی سزا دی ہے جب کہ حزب اللہ کے گروہ میں شامل ایک دوسرے اماراتی شہری کو ریاست کے بعض مقامات کی تصاویر فراہم کرنے پر 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

مذکورہ گروپ کے خلاف ہی جاری فیصلوں میں وفاقی سپریم کورٹ نے کینیڈا کی شہریت رکھنے والی مصری نژاد خاتون کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ خاتون نے تیل کی پیداوار سے متعلق تصاویر اور معلومات حزب اللہ کے ایجنٹوں کو فراہم کی تھیں۔ علاوہ ازیں عدالت نے دو مزید ملزمان کو 15 سال قید اور ملک سے بے دخلی کی سزا سنائی ہے۔ ان دونوں افراد پر حزب اللہ کے مقدمے سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا الزام تھا۔

ادھر ایک دوسری سماعت میں وفاقی سپریم کورت نے غائبانہ طور پر الاخوان المسلمین تنظیم کے ایک رہ نما عصام العریان کو 5 سالہ قید کی سزا سنائی ہے۔ العریان پر ریاست کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY