سوشل نیٹ ورکس لوگوں پرمثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

0
295

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو اکثر نوجوانوں کو الگ تھلگ کرنے اور ڈپریشن کا مریض بنانے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے مگر اب تو کہا جارہا ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیاں بڑھانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران ایک کروڑ سے زائد فیس بک صارفین کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ اس ویب سائٹ کا اکثر استعمال جلد موت کا خطرہ 12 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

تحقیق میں خیال ظاہر کیا ہے کہ ایسی سائٹس جیسے فیس بک لوگوں کو اپنے حقیقی زندگی کے رشتوں کو برقرار رکھنے بلکہ انہیں مضبوط رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں جو کہ انسانی بقاءکے لیے بہت اہم عنصر ہے۔

یہ پہلی تحقیق ہے جس میں کہا گیا کہ سوشل نیٹ ورکس لوگوں پر اس طرح کے مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ فیس بک کا متوازن استعمال جلد موت کاخطرہ کم کرتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ سماجی تعلقات کسی فرد کی عمر کی پیشگوئی میں مدد دیتے ہیں اور آن لائن رشتے بھی انسانوں پر یہ مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران فیس بک صارفین کے چھ ماہ تک کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور اس کا موازنہ ان افراد سے کیا گیا جن کا انتقال ہوچکا ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ تصاویر زیادہ پوسٹ کرتے ہیں ان کی عمریں بھی زیادہ ہوتی ہیں جبکہ اس کا زیادہ استعمال کرنے والے صارفین کبھی کبھار فیس بک کو استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں طویل عمر پاتے ہیں۔

محققین کا تو دعویٰ تھا کہ جو لوگ زیادہ سے زیادہ فرینڈ شپ ریکویسٹس قبول کرتے ہیں ان کی زندگیاں طویل ہوتی ہیں کیونکہ اس سائٹ پر مقبول ہونا زیادہ جینے میں مدد دیتا ہے۔

تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب آن لائن سرگرمیاں اعتدال کے مطابق ہوں اور آف لائن بھی رابطے برقرار رکھے جائیں۔

یہ تحقیق جریدے جرنل پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنز میں شائع ہوئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY