لانڈھی میں دو ٹرینوں میں تصادم کے نتیجے میں 19افراد ہلاک

0
158

ڈویژنل سپرینٹنڈنٹ ریلوے ناصر نذیر نے ڈان نیوز کو بتایا کہ لانڈھی ریلوے اسٹیشن اور جمعہ گوٹھ کے درمیان کھڑی فرید ایکسپریس کو زکریا ایکسپریس نے پیچھے سے ٹکر ماری۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ٹرینوں میں ایک ہزار کے قریب مسافر موجود ہوسکتے ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ حادثے میں 9 افراد ہلاک اور 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے تاہم بعد ازاں جناح ہسپتال کی شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے تصدیق کی کہ جناح ہسپتال میں 11 افراد کی لاشیں پہنچائی گئیں۔

تاہم جناح ہسپتال کے انتظامی عہدے داروں نے بتایا کہ اب تک 18افراد کی لاشیں ہسپتال کے مردہ خانے میں لائی جاچکی ہیں جبکہ زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں بتایا جاسکتا کیوں کہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

لانڈھی ریلوے اسٹیشن کے قریب فرید اور زکریا ایکسپریس کے درمیان ہوا تصادم جس کے نتیجے میں کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور کئی مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھیں: بولان ٹرین حادثہ : ہلاکتوں کی تعداد 19ہو گئی
ڈرائیورز نے سنگلز نظر انداز کیے
وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ جس ٹرین نے ٹکر ماری اس کے ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور نے سنگلنز کو نظر انداز کی جس کی وجہ سے بظاہر حادثہ رونما ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ پیچھے سے آنے والی ٹرین کو پہلے یلو سگنل ملا جس کا مطلب ہے کہ رفتار کم کرلیں اور پھر سرخ سنگل دیا گیا جس کا مطلب ہوتا ہے کہ ایک منٹ کے لیے ٹرین کو مکمل طور پر روک لیں اور انتہائی آہستہ سے آگے بڑھیں کیوں کہ آگے کوئی خطرہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈرائیورز اور اسسٹنٹ ڈرائیورز نے دونوں سگنلز کو نظر انداز کردیا، غیر ذمہ دار اہلکاروں کی غفلت کی وجہ سے ریلوے کو بہتر بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو نقصان پہنچتا ہے اور ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور لاپتہ ہیں جنہیں تلاش کیا جارہا ہے وہ بچ کر نہیں نکل سکتے۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آئندہ 72 گھنٹوں میں ابتدائی تحقیقات جمع کرانے کی ہدایت کردی گی ہے جبکہ تفصیلی رپورٹ آنے میں 8 دن لگ سکتے ہیں۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے لیبر سینیٹر سیعد ٖغنی نے بتایا کہ ’ریلوے حکام نے پیچھے سے آنے والی ٹرین کو غلطی سے گرین سگنل دے دیا اور اس نے پہلے سے کھڑی ہوئی ٹرین کو پیچھے سے ٹکر ماردی‘۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ دونوں ٹرینیں پنجاب سے کراچی آرہی تھیں جبکہ زکریا ایکسپریس نے فرید ایکسپریس کو پیچھے سے ٹکر ماری۔

حادثے کے بعد کراچی میں ٹرینوں کی آمد و رفت مکمل طور پر معطل ہوگئی جبکہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ڈی ایس ریلوے سے مکمل رابطے میں ہیں جو اس ہنگامی صورتحال کی نگرانی کررہے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق نے یہ بھی کہا کہ اس حادثے کی آزادنہ تحقیقات کی کرائی جائیں گی۔

ریسکیو کا موثر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے زخمیوں کو ٹرین کی بوگیوں سے نکالنے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ متعدد زخمیوں کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY