چقندر کا جوس بلڈ پریشر کو کم کرنے سمیت دماغی تنزلی، فالج اور دل کے دورے جیسے جان لیوا امراض سے بھی تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ایکسٹر یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق چقندر کے جوس کا روزانہ استعمال بلڈ پریشر کی سطح کو معمول پر رکھتا ہے۔

تحقیق کے دوران رضاکاروں کو روزانہ 70 ملی لیٹر چقندر کا جوس استعمال کرایا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ جوس ورم کش خصوصیات رکھتا ہے جو مسلز کو ریکور کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ جوس بلڈ پریشر میں کمی کے ساتھ ساتھ شریانوں کی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے چاہے وہ فرد امراض قلب کا شکار ہی کیوں نہ ہو۔

اس کی وجہ چقندر میں موجود نائٹریٹ ہے جو دل کو کم آکسیجن جذب کرنے میں مددیتا ہے اور مسلز تک آکسیجن کی مقدار زیادہ پہنچتی ہے۔

اسی طرح یہ جوس خون کی شریانوں کو کشادہ کرکے جسم اور دماغ کے لیے دوران خون کو بڑھاتا ہے۔

طویل المعیاد بنیادوں میں اس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے جبکہ دماغی تنزلی کی جانب پیشرفت بی سست ہوجاتی ہے۔

اس سے قبل ایک رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ چقندر اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ امراض کے خلاف جسمانی دفاعی امراض کے لیے بہتر اور کینسر کی روک تھام میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY