اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی انتخاب میں کامیابی پر مبارک باد دی ہے اور انھیں ”ریاست اسرائیل کا سچا دوست قرار دیا ہے”۔
نیتن یاہونے بدھ کو ایک بیان میں یقین ظاہر کیا ہے کہ ”دونوں لیڈر (وہ اور ٹرمپ) دونوں ملکوں کے درمیان منفرد اتحاد کو مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور اس کو مزید بلندیوں تک لے جائیں گے”۔
قبل ازیں نیتن یاہو کی قیادت میں حکومتی اتحاد میں شامل وزیر تعلیم نفتالی بینیٹ نے کہا:”ٹرمپ کی کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینی ریاست کا دور لد گیا”۔ فلسطینی اسرائیل کے زیر قبضہ سرزمین (غزہ کی پٹی ،مقبوضہ غرب اردن اور بیت المقدس) پر اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔
مسٹر بینیٹ نے ری پبلکن صدارتی امیدوار کی کامیابی پر خوشی کے شادیانے بجاتے ہوئے کہا ہے کہ ” یہ جیت اسرائیل کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے نعرے سے دستبردار ہوجائے کیونکہ ملک کے وسط میں یہ ریاست ہماری سکیورٹی اور نصب العین کو نقصان پہنچائے گی”۔
مسٹر بینیٹ انتہا پسند یہود کی جماعت جیوش ہوم پارٹی کے سربراہ ہیں۔ان کا اشارہ مقبوضہ مغربی کنارے کی جانب تھا اور انھوں اپنے تئیں امریکی صدر کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” نومنتخب صدر کا یہی موقف ہے، فلسطینی ریاست کا معاملہ ختم ہوچکا”۔
اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے اسرائیل کے وزیر انصاف ایلیت شیکڈ نے پہلے روز ہی ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کا انتخابی وعدہ یاد دلایا ہے اور ان سے کہا ہے کہ ”وہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشیلم (مقبوضہ بیت المقدس) میں منتقل کرنے سے متعلق اپنے وعدے کی پاسداری کریں”۔
انتہا پسند وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ سے تعلق رکھنے والی نائب وزیر خارجہ زیپی ہوتوویلی اور مقبوضہ بیت المقدس کے میئر نیر برکات نے بھی امریکی سفارت خانہ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔تاہم اس حوالے سے خود اسرائیلی وزیراعظم نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو نے 2015ء میں منعقدہ عام انتخابات سے قبل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکان کو مسترد کردیا تھا اور یوں یہ بیان دے کر ایک نیا تنازعہ چھیڑ دیا تھا۔ تاہم بعد میں انھوں نے یہ بیان واپس لے لیا تھا اور اس کے بعد سے تنازعے کے دو ریاستی حل کی حمایت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
اسرائیلی ،فلسطینی تنازعے میں بیت المقدس پر کنٹرول کے حق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔اسرائیل نے اس شہر پر 1967ء کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے کبھی اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔فلسطینی مشرقی القدس کو مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں جبکہ اسرائیلی تمام بیت المقدس کو اپنا غیرمنقسم اور دائمی دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔ٹرمپ انتخابی مہم کے دوران یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY