افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان سے ڈی پورٹ ہوکر 30 سال بعد اپنے وطن واپس پنچنے والی خاتون شربت گلہ اور اس کے اہل خانہ سے استقبالیہ ملاقات کی اور رہائش بھی دے دیا۔

افغان خبررساں ادارے خامہ کی رپورٹ کے مطابق صدراشرف غنی نے شربت گلہ سے ملاقات کے دوران رہائش کے لیے ایک مکان کی چابی بھی پیش کی اورجنگ سے متاثر افغانیوں کی حالت زار پر دکھ کا اظہار کیا۔

اشرف غنی نے اس موقع پر کہا کہ افغان قوم اس وقت غیرمکمل ہے کیونکہ کئی باشندے تاحال ملک سے باہر پناہ گزین ہیں۔

شربت گلہ کی کفالت کے حوالے سے افغان صدر نے وعدہ کیا کہ حکومت شربت گلہ اور اس کے اہل خانہ کی رہائش سمیت تعلیم اور صحت کے معاملات کا خیال رکھے گی جبکہ انھوں نے متعلقہ حکام کو مدد کے احکامات جاری کردیے۔

واضح رہے 1985 میں نیشنل جیوگرافک میگزین کے صفحہ اول پر شائع تصویر کے بعد مونا لیزا کے نام سے شہرت پانے والی شربت گلہ کو گزشتہ روز پاکستانی حکام کی جانب سے طورخم بارڈر پر افغان سیکیورٹی اہلکاروں کے حوالے کیا گیا تھا۔

شربت گلہ، پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں رہائش پذیر تھی جہاں ان پر غیر قانونی رہائش، جعلسازی، دھوکہ دہی، دستاویز میں چھیڑ چھاڑ اور نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) قوانین کی خلاف ورزی جیسے چھ الزامات پر عدالت میں جرم ثابت ہوگیا تھا۔

انسداد بدعنوانی اور امیگریشن کی خصوصی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر شربت گلہ کو ڈی پورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

وہ 1984 میں پشاور میں افغان پناہ گزینوں کے لیے قائم ناصرباغ کیمپ میں منتقل ہوئی تھی جہاں وہ اپنے بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔

گزشتہ ہفتے صوبائی حکومت نے انسانی بنیادوں اور افغانستان کے ساتھ جذبہ خیر سگالی کے اظہار کے لیے شربت گلہ کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ منسوخ کردیا تھا تاہم خود شربت گلہ نے پاکستان میں مزید قیام سے انکار کردیا تھا۔

پاکستانی عدالت نے شربت گلہ کو غیر قانونی طریقے سے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ حاصل کرنے کے جرم میں 15 روز قید کے علاوہ جرمانہ بھی کیا گیا تھا۔

پاکستان میں افغانستان کے سفیر حضرت عمر خیل نے شربت گلہ کی کابل آمد کی تصدیق کی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY