ٹرمپ کی جیت کوکیا معجزہ تھا۔۔۔ از۔۔شمس جیلانی

0
224

ٹرمپ کی جیت کوکیا معجزہ تھا۔۔۔ از۔۔شمس جیلانی
اس مرتبہ امریکہ کے انتخابات دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان اس کی کالونی ہے ، جس کی وجہ سے امریکہ کے ا نتخاب میں پوری قوم اتنی دلچسپی لے رہی ہے جتنی کہ اپنے انتخاب میں نہیں لیتی؟ کئی میڈیا گروپ نےاس غریب قوم کے لاکھوں ڈالر خرچ کرکے اپنے نمائندے بھیجے ہوئے تھے ان میں اکثر وہ تھے جو دہری شیریت والے ہیں کہ چلو بچوں سے مل بھی آئیں گے۔ وہ سب وہاں سے پل ، پل کی خبر دے رہے تھے۔ اس کی شایدایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس مرتبہ امریکہ ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہا تھا کیونکہ امیدوار ایک جانی پہچانی خاتون تھیں۔ اس سے پہلے وہ ایک غیر یور پین کو صدر بنا کر بہت ہی کامیابی سے یہ دنیا پر ثابت کر چکے تھا کہ ہمارے یہاں جمہورت ہے اور امریکہ تمام جمہوریت پسندوں کا ہیرو ہے ! مگر وہ یہ راز نہیں بتاتا کہ غیر ترقی یافتہ علاقوں کے لیے وہ جابر بادشاہ اور آمر کیوں پسند کرتا ہے؟ مگر اس مرتبہ اس کا صدیوں کا بنا یا ہوا بھرم بھی جاتا رہا اور خاتون صدر منتخب نہیں ہوسکیں۔ جبکہ ماہرین اعداد شمار کہتے ہیں کہ دنیا میں خواتین کی تعداد 51 فیصد سے زیادہ ہے؟ شاید ہماری طرح انہیں بھی اپنی حالت بدلنے خیال نہیں ہے؟ اگر ان میں ایکا ہو تا ،تو وہ ایک فیصد کے بل بوتے پر اپنی ہی ایک ہم جنس کو کامیاب کرا سکتی تھیں ؟ایک فیصدکی برتری تو بہت بڑی بات ہوتی دنیا میں صرف نصف فیصد اکثریت نے اپنا ملک ٹوٹنے بچا لیا اور وہ تھا کنیڈا ،کہ فرانسیسی صوبے کیوبک کے بارے میں اب سے کچھ سال پہلے ریفرنڈم ہو ا تو علاحدگی پسند صرف نصف فیصد سے ناکام ہوئے۔ مگر دنیا کا سب سے زیادہ جمہوریت پسند ملک ایسا نہیں کرسکا ۔ اور یہ ہی کام دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی نہیں کر سکی کہ کسی “ اچھوت “ کو اپنا وزیر اعظم بنا لیتی حالانکہ آخر میں بھارت میں جگ جیون رام جنگ آزادی کے واحد لیڈر رہ گئے تھے جو پہلے وزیر تو رہ چکے تھے، مگر سب کا خیال تھا کہ اب ان کی باری ہے وزیرَاعظم بننے کی اس لیے کہ وہ سب سے بزرگ ترین کانگریسی لیڈر وہ ہی بچے تھےاب ان کی باری ہے۔ لیکن ایسا اگر ہوجاتا تو پھر اونچی ذات کے ہندؤں کی باری پھر کبھی نہیں آتی جو اقلیت میں ہوتے ہوئے حکومت کر رہے ہیں۔ یہاں بھی یہ بات تھی کہ اگر ایک مرتبہ خاتون صدر ہو جاتیں تو پھر جمہوریت میں تو اکثریت کی چلتی ہے ۔

جبکہ پاکستان کے بعض اینکر تو اتنے بڑھ گئے تھے کہ انہوں نے ایک دن پہلے ہی اعلان کر دیا کہ محترمہ ہیلری کلنٹن صاحبہ کے نوے فی صد کامیابی کے امکانات ہیں ۔ان کو صرف کوئی “معجزہ “ ہی ہرا سکتا ہے اس لیئے کہ ان کا کہنا تھا کہ دوسو سے کچھ اوپر ووٹ ان کے پکے ہیں اگر ٹرمپ صاحب سارے ہی ووٹ لے جائیں تب ان کی کامیابی ممکن ہے جو کہ ایک معجزہ ہو گا اور یہ قطعی ناممکن ہے۔ بات واقعی نا ممکن تھی کیونکہ معجزے کے لیے نبی (ع)کاہونا لازمی ہے؟ گوکہ ہم اسلام پر عمل نہیں کرتے مگر اسلامی اصطلاحات کو اس بے دردی سے استعمال کر تے ہیں کہ اس کا کوئی جواب نہیں جیسے “شہادت “ اور شہید کا استعمال ! کہ ہم بلا تصدیق کہ کسی نےخالص اللہ تعالیٰ کے لیےتھی یانہیں شہید کہدیتے ہیں ؟ اس کی ایک مثال ہم نے شکار پور (سندھ) میں دیکھی کہ ہمیں ایک مزار نظر آیا ، میزبان سے پوچھا یہ کس کا مزار ہے جواب ملا کہ ایک شہید کا ہے! ہمیں چونکہ تاریخ سے بہت دلچسپی ہے اور سندھ ظلم کے خلاف تحریکوں سے بھرا ہوا ہے ۔ لہذا ہم نے پوچھا کہ یہ بزرگ کس ظالم کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے ؟ توانہوں نے بتایا کے اِن کے ایک لڑکی سے نا جائز تعلقات تھے۔ اس کے رشتہ داروں کو پتہ چل گیا اور انہوں نے انہیں قتل کردیا؟ یہ تو مثال تھی شکار پور کی؟ اسی طرح ہجرت اور اس جیسے بہت سے لفظ ہم استعمال کرتے ہوئے احتیاط نہیں برتتے۔ اگر احتیاط کرتے ہوتےتو معجزے کے بجائے صرف نامکن یا بہت ہی گاڑھی اردو بولتے تومافوق الفطرت بات کہہ سکتے تھے۔ مگر یہ تو جب ہوتا کہ ہم اپنی اسلامی اصطلاحات کے معنی جانتے ہوتے۔آجکل ٹی وی پر جو اردو بولی جارہی ہے۔ اس کے لیے ہمارے دوست پروفیسر غازی علم الدین صاحب نے جو کہ ازادکشمیر سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے اپنی ایک کتاب میں پورا باب لکھا ہے وہ وہاں پڑھ لیجئے۔ بہر حال لفظ “معجزہ “کا غلط استعمال کرنے والے خوش قسمتی سے جیساکہ ان کے نام سے ہم پر ظاہر ہوا کہ الحمدا للہ وہ بھی مسلمان گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کے بقول معجزہ ہو گیا ؟ اور ٹرمپ صاحب جیت گئے۔ جنہوں نے معجزہ کہا انہیں شاید پتہ نہ ہو کہ معجزہ جسے کہتے ہیں وہ بغیر نبی (ع) کے ممکن نہیں ہے اور اسلامی عقیدہ کے مطابق حضور (ص) کے بعد کوئی نبی (ع) نہیں ہے۔ ہاں ولایت باقی ہے اور ان کے ہاتھ سے اگر کوئی بات خلاف معمول ہوجائے تو اسے کرامت کہتے ہیں ۔مگر کرامت کا معاملہ بھی وہی ہے جو معجزے کا ہے! وہ بھی اللہ سبحانہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے اور ان دونوں کاکرنے والا ہمیشہ سے ایک ہی ہے اور ہرجگہ موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا ۔ اسکے لیے وسا ئل کا ہونا اور نہ ہونا ضروری نہیں ہے وہ جب چاہے اور جو چاہے کرسکتا ہے۔ اسے صرف کہنا ہو تا ہے کہ ہو جا اور وہ کام فوراً ہوجاتا ہے۔ مگر مسلمان اب اس پر یقین کرنے کے بجائےوسائل پر یقین کرتے ہیں اور اس کو چونکے بھولے ہو ئے ہیں اس لیے بات کہتے ہوئے بھی بھول جا تے ہیں ۔ ور یہ بھی کہ اس کے لیے کسی فرد کا ہونا یا نہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ وہ دنیا کے ٹھیکیداروں کو صرف یہ جتانا چاہتا تھا۔ کہ ا س سے زیادہ بد امنی برداشت نہیں کی جاسکتی لہذا سدھر جا ؤ ورنہ میں وہی کرونگا جو کرتا آیاہوں؟

میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ آپ اس سے سمجھ لیجئے کہ ہمارے ایک مرحوم دوست ابراہیم جلیس نے ایک کالم لکھا تھا۔کچھوؤں کے انڈوں کے بارے میں جو اس دور میں کراچی میں لوگ سمندر کے کنارے سے چن لاتے تھے اور بازار میں لاکر بیچ دیتے تھے۔ ایک روز وہ پیر الہیٰ بخش کالونی سے بس میں جنگ کے دفتر جانے کے لیے روانہ ہو ئے تو دیکھا کہ ایک کچھوا ان سے پہلے بس سے اتر رہا ہے اور جب وہ زینہ چڑھنے لگا ،اس فلیٹ میں میں جانے کے لیے جہاں جنگ کا کبھی دفتر تھا۔ تب انہوں نے روک کر اس سے پوچھا کہ بھائی ہمارا پیچھا کیوں کر رہے ہو تواس نے کہا کہ تمہارے مونھ سے میرے انڈے کی خوشبو آرہی ہے ۔ میں نے اسے یقین دلا یا کہ یہ میںنے فلاں حاجی صاحب کی دکان سے خریدا تھا۔ تو کہیں جا کر اس نے جان چھوڑی، اور اس نے جوڑیا بازار کی راہ لی۔ جب ایک کچھوا اپنا انڈا نہیں بھول سکتا تو انسان ساری دنیا کے وسائل اپنے قبضہ میں کر نے والے ملک یاملکوں کو کیسے بھول سکتا ہے۔ پھر وہ یہ بھی چاہیں کہ لوگ ان کاپیچھا بھی نہ کریں یہ کیسے ممکن ہے؟

اس کا حل بہت پہلے ایک ماہر معاشیات جناب عزیز احمد صاحب مرحوم نے پیش کیا تھا جب وہ اقوام متحدہ میں مشیر تھے۔وہ مشورہ یہ تھا کہ آپ لو گ اگرامیگیریشن کو روکنا چا ہتے ہیں تو اس کابہترین طریقہ یہ ہے کہ جو ساری دنیا سے دولت سمیٹ کر لائے ہیں اس میں سے تھوڑی سی اس علاقہ میں سر مایہ کاری کر کے چھوڑ دیں تو انہیں وہیں روزگار مل جا ئے گا اور یہ یورپ اور امریکہ کا رخ نہیں کریں گے، کیونکہ ترک وطن آسان کام نہیں ہے یہ ان سے مجبوری ہی کراتی ہے۔ مگر وہ روکنا بھی نہیں چاہتے اس لیے کہ جب سے ان کی نئی نسل نے یہ طے کیا کہ ان کی اول ترجیح عیش کرنا ہے اور اس کے “ بعد“ بچے پیدا کرنا؟ لہذا اب انکی “ بعد “ ہمارے “ کل “ کی طرح کم ہی آتی ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ پیدائش گھٹتی جارہی، بوڑھوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ لہذا تارکین وطن ان کی مجبوری ہیں ۔ دوسرے یاتوان کے دانشوروں نے الٹا سمجھا یا پھر مسائل کا حل انہیں یہ نظر آیااور بجا ئے اس مشورے کو اپنانے کے ، انہوں نے یہ طے کیا کہ انہیں آپس میں لڑادو تاکہ ہمارے کارخانے بھی چلتے رہیں اور ہم بدستور اسلحہ کے سب سے بڑے بیو پاری بھی بنے رہیں ۔ اس پالیسی سے دنیا کا توازن اتناخراب ہو گیا کہ غریب غریب تر ہوتا چلا گیا اور امیر امیر تر بن گیا۔ آخر کار مالک ِ کائینات کو خود حرکت میں آنا پڑا اور وہ کچھ ہو گیا جو ان کے خیال اور خواب میں نہ تھا۔ آگے کیا ہو گا یہ اسی کو پتہ ہے؟ جیسا کہ میں نے پہلے بار بار کہا کہ ہماری جگہ کوئی اور لے لے گا۔ کیونکہ سورہ مجادلہ کی آیت نمبر پانچ کہہ رہی ہے کہ دین اور نبی (ص) کے مخالف ناکام رہیں گے، جیسے کہ ہمیشہ ناکام ہوتے رہے ہیں ۔ اور منکریں کے حصے میں ذلت آئیگی۔ لہذا جب تک ہم نہیں سمبھلیں گے انہونیوں پر ان ہونیاں ہوتی رہینگی یا ہماری جگہ کوئی اور لے لیگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY