چائنا پاکستان اقتصادی راہداری ۔ سرگرمیوں کا آغاز ہو گیا

0
191

چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت گوادر کی بندرگاہ سے تجارتی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔

گوادر بندر گاہ سے سی پیک کے تحت پہلے تجارتی قافلے کو روانہ کرنے سے قبل پر وقار افتتاحی تقریب منعقد کی گئی جس میں وزیر اعظم نواز شریف کے علاوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف، گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی، وزیر اعلیٰ پنجاب نواب ثناء اللہ زہری اور مختلف ممالک کے سفراء بھی شریک ہوئے۔

واضح رہے کہ 100 سے زائد مال بردار ٹرکس کا قافلہ 29 اکتوبر کو چین کے شہر کاشغر سے روانہ ہوا تھا،30 اکتوبر کو پاکستان میں داخل ہوا اور سوست ڈرائی پورٹ پہنچا تھا جس کے بعد 12 نومبر کو یہ قافلہ گوادر پہنچا۔

افتتاحی تقریب میں اس قافلے کے تاریخی سفر کی جھلکیاں بھی دکھائی گئیں۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر سن وی ڈونگ نے کہا کہ پائلٹ پروجیکٹ کے لیے حکومت اور فوج کے مشکور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ پہلاموقع ہے کہ تجارتی قافلہ پاکستان کے مغربی حصےسےداخل ہوا، سی پیک کے تحت پہلے پائلٹ پروجیکٹ کے افتتاح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،آج کا دن بہت اہمیت کا حامل ہے‘۔

یاد رہے کہ سخت سیکیورٹی میں چین سے سیکڑوں ٹرکس پر مشتمل قافلہ گوادر پہنچا جہاں ان ٹرکس پر لدے کنٹینرز کو گوادر بندر گاہ پر لنگر انداز 2 بحری جہازوں میں منتقل کیا جائے گا اور پھر انہیں مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک بھیج دیا جائے گا۔

فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیو او) کے مطابق دو بحری جہاز الحسین زنزیبار اور کوسکو ویلنگٹن بنگلہ دیش، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات کا سفر کریں گے جس کے بعد وہ یورپی یونین کی جانب جائیں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے ٹوئیٹر بیان میں کہا کہ چین سے بڑا تجارتی قافلہ گوادر پہچ گیا ہے جہاں سے سامان کو جہازوں پر منتقل کیا جائے گا۔

گوادر پورٹ کے ذریعے پہلی بار چینی مصنوعات مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ممالک کو برآمد کیے جائیں گے جبکہ کنٹینر پر چاولسے لے کر کپاس تک مختلف اشیاء موجود ہیں جبکہ بعض مشینری بھی ہے جو گوادار میں جاری ترقیاتی کاموں کے لیے وہاں پہنچائی گئی۔

ایف ڈبلیو او کے چیف کا کہنا ہے کہ 2014 سے اب تک صرف بلوچستان میں سی پیک پروجیکٹس کے لیے سڑکوں کی تعمیر پر 35 ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY