اب اتنی رات گئے اے دل
کیا بات ہو ڈوبے تاروں سے
سب تارے تھک کر ڈوب گئے
دل ٹوٹ گئے ۔ جی چھوٹ گئے
جو اپنے بخت کے تارے تھے …
بے چارے تھے
سو ٹوٹ گئے
جز تیرہ شبی اب کیا ہے یہاں
اب اندیشوں کا وقت کہاں
اب رات اندھیری ہے اے دل
یہ گھڑی تو تیری ہے دل
اے دل پھر تجھ کو تھام کے ہم
پڑھتے ہیں طلسم اسم وفا
گردش میں تجھے پھر لاتے ہیں
اے دل اے جام جہاں نما
ترسی ہوئ آنکھوں پر کھل جا
دکھلا ہر منظر نادیدہ
کس طور چمن کھل جاین گے
سارے بچھڑے مل جاین گے
سب طوق گلو کٹ جایں گے
خونی پہرے ہٹ جایں گے
پہنچیں گے نشیمن کو طایر
بسرام کریں گے جی بھر کر
دشنام سنے ہیں مدت تک
آرام کریں گے جی بھر کر

SHARE

LEAVE A REPLY