بچوں میں جھوٹ کارجحان ۔۔ از:۔ ڈاکٹر نگہت نسیم

0
415

میری بڑی خواہش ہے کہ میں آپ سب کے لیئے نفسیاتی مسائل کو اردو میں لکھنے کی کوشش کروں ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں اب تک یہ کام نہیں کر پائی ۔۔ پر آج کل میں جن بچوں کو اپنے اطراف میں دیکھ رہی ہوں مل رہی ہوں ان میں جھوٹ ک ارجحان اتنی تیزی سے پرورش پا رہا ہے کہ مجھے خؤف سا آنے لگا ہے ۔ شاید اسی خوف نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا ہے ۔۔

بچوں کی عمر اور جھوٹ

بچے جب پیدا ہوتے ہیں ۔ انہیں نہ اپنے دین ک اپتہ ہوتا ہے اور نہ ہی تہذیب کا اور نہ ہی اخلاقی اقدار کا ۔ انہیں یہبھی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کس معاشرے کا حصہ بننے جارے ہیں ۔ وہ امیر ہیں کہ غریب ۔ ان کے ماں باپ اچھے ہیں یا برے ، کم علم ہیں کہ عالم فاضل ۔ وہ حیرانگی سے ادھر ادھر دیکھتا ہے ۔ اسے جو جو نظر آتا ہے اس کے دماغ پر پرنٹ ہوتا جاتا ہے ۔ پہلے لمحے سے سیکھنا شروع کر دیتا ہے ۔ انہیں سچ جھوٹ میں یا اچھے برے کی کوئی تمیز نہیں ہوتی ۔ وہ جس ماحول کا حصہ ہوتے ہیں وہی انہیں نارمل اور جینے کا انداز لگنا شروع ہو جاتا ہے ۔۔

پیدائیش سے تین برس کے بجے اور جھوٹ کی عادت

پیدائیش سے تین برس کی عمر تک کے بچے اور ان کی ضرورتیں بڑوں کے مرہون منت ہوتی ہیں ۔ اپنے کھانے کا بندوبست ، سرد گرم کا خیال ، اپنی جسمانی اور جذباتی تحفظ کے لیئے وہ ماں باپ کے محتاج ہوتے ہیں یا وہ جو انہیں پال رہے ہوتے ہیں ۔ بچہ اپنی سیکورٹی کے لئے اپنے ماں باپ اور ساتھ رہنے والوں کو ان کی آوازوں اور لہجوں کو پہچانتا ہے ۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کب وہ کس بات پرخوش ہوتے ہیں اور کب خفا ۔ بچے اس عمر میں ماں باپ کے درشت لہجے اور ہلکی سی مار سے بچنے کے لیئے جھوٹ بولنا شروع کر دیتے ہیں ۔ مثال کے طور پر جیسے یہ گلاس میں نے نہیں توڑا ۔۔ یہ بسکٹ میں نے زمین پر نہیں گرایا ۔۔۔ یا میں نے پانی زمین پر نہیں پھینکا ۔۔۔ یہ بظاہربے ضرر سے جھوٹ معصوم بچوں کو سرزش اور مار سے نہ صرف بچانے میں مدد کرتے ہیں بلکہ انہیں یہ بھی باور کراتے ہیں کہ وہ اس طرح سے آگے چل کر بھی ہر طرح کی سرزش سے بچ سکتے ہیں ۔

حل
گھر میں رہنے والوں کی زمیداری ہے کہ بچے کے ارد گرد پر سکون ماحول رکھا جائے اور اس کے ساتھ جھوٹ قطعا نہ بولا جائے ۔ اور اگر ان سے غلطی ہو جائے تو مارنے کی بجائے صرف پیار اور شفقت سے سمجھایا جائے اور بتایا جائے کہ آپ کو معلوم ہے کہ ان سے غلطی ہوئی ہے ، تاکہ ان کا ڈر اور خوف آپ سے ختم ہو جائے اور انہیں یقین ہو جائے کہ سچ کہنے پر آپ انہیں چھوڑ نہیں جائیں گے اور نہ ہی کوئی ان کے ساتھ انتقامی کاروائی ( اونچی آواز میں ڈانٹنا) کریں گے۔

تین برس سے 7 برس تک کے بچے اور جھوٹ

یہ وہ عمر ہوتی جب بچے اپنی تصواراتی دنیا بنا رہے ہوتے ہیں ۔ ان کے لیئے تصور اور حقیقت میں کبھی کبھی فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ کھیل بھی وہ تصوراتی ہی کھیلتے ہیں اور ماں باپ اور دیگر گھر والے خؤش ہو ہو کر ایک دوسرے کو بتا رہیں ہوتے ہیں ۔ جیسے کوئی بچہ اپنی ساتھ والی کرسی پر اپنے تصوراتی دوست کے لیئے کرسی خالی رکھنے کی ضد کرے گا بلکہ اس کی پلیٹ بھیرکھوائے گا ۔ گھر والے اس کی ضد اور جھگڑے سے بچنے کے لیئے ویسا ہی کریں گے جیسا بچہ چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ جیسے انہیں کہے کہ پریاں آتی ہیں ۔۔ جن بھوت سے ڈرایا جاتا ہے ۔ اور انہیں خود سے جوڑ جوڑ کر کہانیاں سنائیں جاتی ہیں جس سےبچہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کرنا درست ہے ۔ لہذا وہ بڑی آسانی سے اپنی آسانی کے لیئے اپنے سے گھڑ کر کہانی سنا دیتے ہیں ۔ جیسے اسکول نہ جانے کے لیئے جھوٹ بولنا کہ سر یا پیٹ میں درد ہے یا بخار ہے یا فلاں نے مجھے مارا ہے اور فلاں نے گالی دی ۔

حل
ماں باپ کو چاہیئے کہ وہ ان کے تصواراتی کھیل کا حصہ ضرور بنیں لیکن انہیں یہ بھی بتاتے جائیں کہ یہ صرف کھیل ہے اور حقیقی دنیا میں پریاں ، بھوت نہیں ہوتے ۔ بخار کا تھرما میٹر پر آنا ضروری ہے اور سر، پیٹ درد کی وجہ معلوم ہونی چاہیئے ۔ ماں باپ اور دیگر گھر والوں کا بچے کے ساتھ دوستانہ سلوک اسے حقیقی دنیا میں لے آئے گا اور یوں تصوراتی دنیا اور جھوٹ سے نکل آئے گا ۔ بچے جن کو سچ اور جھوٹ کی پہچان تک نہیں ہوتی وہ بھی اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اگر وہ جھوٹ بولیں گے تو وہ بڑوں کی مار سے بچ جائیں گے اور انہیں کوئی کچھ نہ کہے گا۔ لہذا انہیں سزا دینے کی بجائے اچھے برے کی تمیز سکھاتے رہیئے ۔

سات برس سے 10 برس تک کے بچے اور جھوٹ

یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بچے جان چکے ہوتے ہیں کہ سچ اور جھوٹ میں کیا فرق ہے اور ان کے اثرات کیا کیا ہوتے ہیں ۔ گھر والوں اور اسکول میں ٹیچرز سے کتنا سچ بولیں گے تو چلے گا یا کتنا جھوٹ بولیں گے تو سوالات اور مار سے بچ جائیں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں ایک دم سے احساس ہوتا ہے کہ وہ بڑے ہو گئے ہیں اور زمیدار بھی سو وہ اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں اور اس کی شاباشی لینے کے لیئے کہ وہ اپنے گھر والوں سے اور ٹیچرز سے اکثر جھوٹ بولنا شروع کر دیتے ہیں ۔ مزید یہ کہ خود کو برتر ثابت کرنے کے لیئے گروپ بنا لیتے ہیں اور یوں سزا یا سرزش سے بچنے کے لئے ایک دوسرے کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیئے سب جھوٹ بولنا شروع کر دیتے ہیں ۔ مثلا کسی بچے نے ہوم ورک کیا ہی نہیں اور ٹیچر سے کہدے کہ گھر رہ گیا ہے اور گھر میں کہدے کہ کسی بچے نے کاپی پھاڑ دی ۔۔ پھر اس کی گواہی اس کے ساتھی دیتے ہیں ۔ دوسروے بچوں کا مذاق اڑانا پھر مکر جانا ۔ گھر میں کہنا کہ ٹیچر نے زیادتی کی ہے اس لیئے اسے دوسرے سیکشن میں جانا ہے جبکہ وہ کم نمبروں کے آنے کی وجہ سے اس سیکشن میں سزا کے طور پر جا رہا ہوتا ہے ۔

حل
جب بھی بچوں کے جھوٹ کا علم ہو جائے اس پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔۔ اس کے جھوٹ کی وجہ سے اپنے تعلقات کسی سے خراب مت کیجئے ۔ ان کے دوستوں سے ملیئے ۔ ان کے والدین سے ملیئے دیکھئے ان کا تعلق کس کلاس سے ہے ۔ ان کو اپنے بچے کے بارے کیا کیا معلومات ہیں ۔ آیا ان کے بچے پڑھائی میں دلچسپی رکھتے بھی ہیں کہ نہیں ۔ اسکول پابندی سے میٹنگز میں جایا کریں اور بچے کی بابت ہر شکایت کو سیریس ہو کر ڈسکس کریں ۔ بچوں سے بات چیت قطعا بند نہ کریں بلکہ اس سے پوچھیں کہ اسے جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ مار پیٹ اور سزا سے پریز کیجئے ۔ انہیں صرف یہ بتایئے کہ ان کاجھوٹ انہیں کتنا رسوا کر سکتا ہے اور انہیں مقام سے برے طریقے سے کسیے گرا سکتا ہے ۔ والدین کو اپنے بچوں سے جھوٹ نہیں بولنا چاہیئے اور نہ ہی اپنی سہولت کی خاطر بلوانا چاہیئے ۔

دس برس سے 18 برس تک کے بچے اور جھوٹ

انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اپنی خوشی سے جھوٹ بول رہے ہیں ۔ کبھی دوستوں میں شو آف کرنے کے لیئے ، کبھی اپنے سے امیر اور خوبصورت بچوں میں فٹ ہونے کے لیئے اور کبھی ماں باپ کی ڈانٹ ، غصے اور مار سے بچنےکے لیے جھوٹ بول دیتے ہیں کہ ہم نے یہ کام نہیں ‌کیا یا الزام کسی دوسرے پر لگا دیتےہیں ۔ اگر بحث کریں گے تو یہ آپکی مثالیں دینا شروع کر دیں گے کہ آپ نے بھی فلاں فلاں وقت جھوٹ بولا تھا ۔ ایسے بچے بہت جوش اور قوت سے والدین اور ٹیچرز کی نا فرمانی کرنے سے گریز نہیں کرتے اور اپنی آزادی کے لیئے گھر بھی چھوڑ دیتے ہیں ، ڈرگس لینا شروع کر دیتے ہیں ، اپنا غصہ نکالنے اور دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے خود کو ہی ازیت دینا شروع کردیتے ہیں جیسے بلیڈ سے کلائیوں پر خراشیں ڈالنا ، سگریٹ سے جسم پر نشان ڈالنا وغیرہ یا پھر ایسے بچے کلاس میں ہی نہیں آتے یوں ان کے گریڈز بھی گرنے لگتے ہیں ۔ ایسے بچوں کو اس عمر میں یہ لگتا ہے جیسے زندگی صرف دوستوں کے ساتھ موج مستی کرنا ہے اور انہیں فن کرنے کے لئے جھوٹ سچ سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ انہیں اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے لئے والدین اور ٹیچرز کے تحفظات کیا ہیں ۔ ان کے نزدیک آزادی ، دوستی اور موجیں کرنا ان کا حق ہے اور والدین کی زمیداری۔ ہے کہ انہیں آزادی دیں اور ان کی ہر جائز اور ناجائز خواہشات کوپورا کریں ۔۔ اور ان کے جھوٹ کو ہر حال میں سچ ہی مانا جائے ۔یعنی ان سے کوئی سرزش نہ کرے ۔

حل
ایسے بچوں کو ان کی غلطیاں بتانا، اخلاقی اونچ نیچ سمجھانا ، ان کو ان کی مالی اور سماجی حثیت سے آگاہ کرنا ، انہیں اسٹیٹس کے مسائل سے آزاد کروانا ، جھوٹ کی بدنامی سے آگاہ کرنا ، فیشن کی حد مقرر کرنا اور اس کی بھیڑچال سے بچانا ، ڈرگس ، سیکس کے بارے میں معلومات دینا سب کچھ والدین اور ٹیچرز کی زمیداری ہے ۔ اس اسٹیج پر بھی مار پیٹ ہر گز نہ کی جائے بلکہ انہیں اعتماد اور شفقت سے سمجھایا جائے کہ وہ ان کے لیئے کتنے اہم ہیں ۔ اور ان پڑھالکھا ہونا اور زہنی اور جسمانی صحتمند ہونا خود ان کے لیئے کتناضروری ہے ۔ سمجھانے کے دوران تقابل کے طور پر اپناکردار یا کسی اور کا کردار بلکل مثال نہ کریں اور نہ ہی اپنی ہارڈ شپ کا زکر کریں ۔ صرف بچے کو سنیں اور انہی کی بات کی جائے ۔ پھر ان کے ساتھ معاہدے کیئے جائیں کہ اگر وہ عہد توڑیں گے تو انہیں کتنا نقصان ہو گا ۔ اور ہو سکے تو دوستوں کا حلقہ بدلنے کے لئے رہائیش بدلی جاسکتی ہے یا پھر بچوں کے اسکول بدلاجا سکتا ہے ۔۔ لیکن جو بھی تبدیلی لائیں بچوں کو اعتماد میں لا کر لایئے تاکہ وہ زہنی طور پر تیار رہیں ورنہ وہ زیادہ شدت سے احتجاجی رویہ اپنا لیں گے جسے کنٹرول کرنا کبھی کبھی مشکل ہو جاتا ہے ۔

ان ساری باتوں کے باوجود بھی بچے اگر مستقل جھوٹ بولتے رہیں اور توجہ پانے کے لیئے اپنے احتجاجی رویئے اور عمل سے خود کو اور ارد گرد کے لوگوں کونقصان پہنچاتے رہیں تو سائیکاٹرسٹ سے ملاقات ضروری ہے ۔ تاکہ بچوں میں زہنی امراض کا پتہ لگایا جا سکے جن میں خاص طور پر
conduct disorder or pathological lying, Opposional Defient Disorder
کی تشخیص ہو سکے ۔ بچوں کی شخصیت 18 برس کی عمر تک سنواری جا سکتی ہے ۔ اس لیئے ان کی مدد کیجئے اور انہیں اچھا انسان بننے میں دیر مت کیجئے ۔

بچوں میں جھوٹ کارجحان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY