مولویت نے اجتماعی قومی شیرازہ منتشر کیا ہے۔ صفدر ھمٰدانی

1
346

فیس بُک سوشل میڈیا ایک اہم اور طاقتور ہتھیار ہے جہاں عام لوگ اپنی فکر اور ذہنی میلان کا اظہار کسی دباو کے بغیر کھل کر کرتے ہیں۔ یہ لوگ ننانوے فیصد فیس بک پر بنے ہوئے دوست ہوتے ہیں اور عام زندگی میں بالمشافہ ایک دوسرے سے ملے بھی نہیں ہوتے۔ اکثر اوقات بعیض دوست بہت علمی اور فکری مباحث شروع کرتے ہیں اور ان پر سیر حاصل گفتگو ہوتی ہے

فیس بُک پر ہمارے دوست صولت پاشا اکثر بہت دور کی کوڑی لاتے ہیں اور بہت منفرد موضوعات کو منفرد پیرائے میں پیش کرتے ہیں۔ انکو کو تلخ سے تلخ بات کو ہلکے پھلکے انداز میں کہنے کا فن بھی آتا ہے۔ صولت پاشا نے مورخہ تئیس نومبر کو ایک بہت فکر انگیز تحریر علامہ نیاز فتح پوری کی لگائی جس پر بہت حد تک فکر انگیز گفتگو ہوئی۔ میں نے سوچا کیوں نہ عوام الناس کے لیئے اس گفتگو کو کالم کی شکل میں پیش کر دی جائے

محترم صولت پاشا نے ابتدا یوں کی

“”مولویت ایک عظیم بلا ہے جس نے ابتداء عہد اسلام سے لےکر تا ایندم بے شمار ہلاکتیں پھیلائی جن میں سب سے بڑی ہلاکت اجتماعی قومی کے شیرازہ کو منتشر کرنا ، بھائی بھائی کو لڑانا اور گوشت کو ناخن سے جدا کرنا ہے۔ چناچہ حنبلی،مالکی،شافعی، حنفی مسالک کی تفریق، اشاعرہ و معتزلہ کی تقسیم، اہل قرآن اور اہل حدیث کا باہمی اختلاف، شیعہ سنی کی جنگ اور اسی طرح کے اور بہت سے فتنے اسی’ مولویت ‘ کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور نہی کہا جاسکتا کہ آئندہ اور کتنا زہر اسے پھہلانا ھے۔” (من و یزداں ۔ ۔علامہ نیاز فتح پوری )”

Soulat Pasha
مللایّت درحقیقت ایک رویّہ کا نام ہے جو آپ کو بولنے نہیں دیتا اور تحقیق دشمنی پیدا کرتا ہے -اس رویہ کو اپنانے والا انسان اپنے سے مختلف رائے کو سننے اور برداشت کرنے کے جزبہ سے عاری ہوتا ہے

Safdar Hamadani
اسی لیئے ہم جیسوں کو برملا مولوی کافر کہتا ہے

Saahil Rajput
مولویت ہی مزاہب کو زندہ رکھے ھوئے ھے ۔ ۔ مولوی نہ ھوتا تو مزہب کو استعمال کون کرتا ۔ ۔ اور جس چیز کا استعمال بند ہو جاے وہ یا تو ناپید ہو جاتی ھے یا پھر انٹیک کے طور پر رکھ لی جاتی ھے ۔ ۔

Safdar Hamadani
راجپوت جی مذہب مولوی کا کام نہیں میرا آپکا افراد کا کام ہے۔ دین کا علم فرد پر واجب ہے مولوی پر نہیں۔ بچے کے کان میں خود اذان دیں۔ ماں باپ کا فاتحہ خود دیں، نکاح خود پڑھیں۔ نماز جنازہ پڑھانے سے کون منع کرتا ہے، یہ تو دن سے نا آشنا لوگوں کی بڑی اکثریت نے اپنا ریموٹ مولوی کے ہاتھ میں دے رکھا ہے

Saahil Rajput
یہ آئیڈیلازم ھے ۔ مزاہب کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ھوا ۔ مزہب کی سپنی نے لازمً فرقوں کے سنپولے جنے ۔ فرقوں کے اندر سے زیلی فرقے ۔ نیی کہانیاں پھر نیے نیے مکتبہ فکر ۔ جن کا غور وفکر سے دور دور کا واسطہ نہیں ۔ مزاہب اور مولویت ایسے ہی لازم و ملزوم جیسے کموڈیٹی اور مارکیٹنگ

Safdar Hamadani
مذاہب اور مولویت میں مذہب تو مظلوم ہے۔ آپکا نکتہ نظر آپکا ہے اسکی قدر کرتا ہوں لیکن اتفاق نہیں۔ اور طاۃر ہے یہان کسی طویل بحث کی ضرورت نہیں۔ ہم سب اپنے اپنے نظریات فکر اور سوچ کے ساتھ زندہ ہیں

Saahil Rajput
جن معاشروں نے مولوی کو جھنڈی دکھا دی وہاں سے مزہب بھی اپنا بوریا بسرا اٹھا کر کوچ کر گیا ۔ مولوی سے بغاوت اصل میں لادینیت سیکیولرزم کی طرف پہلا قدم ھے

Safdar Hamadani
آپکی غلط سوچ ہے اور ہمارا تجربہ بالکل الگ ہے۔ وما علنا الالبلاغ۔ اللہ نے ادیان کے لیئے انبیا بھیجے تھے مولوی نہیں

Soulat Pasha Bhai, You always extract and blend the essence of the matter. Very right..

Safdar Hamadani
میرا ایک پرانا شعر ہے اگر چ ہ سچ کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ راج پوت جی آپکی نذر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہتے ہیں اپ گر تفہیم دیں۔ مولوی سے دور رہنا چاہیئے

Jamil Khan
جن معاشروں میں مذہب کو ریاست سے علیحدہ کیا گیا ہے، ان معاشروں میں بھی مولوی موجود ہے، اور اپنا کردار اسی طرح ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے، جیسے کہ ہمارے ہاں کے مولوی کرتے ہیں بس فرق یہ ہے کہ اس کو ریاست کی سرپرستی حاصل نہیں ہے

Safdar Hamadani
عزیزان من دراصل ایک اور بڑا مسلہ بھی ہے کہ ہمارے نوے فیصد سے زیادہ لوگ ملاں مولوی ذاکر خطیب مفتی اور پھر سب کے بعد عالم دین میں فرق ہی نہیں کرتے جیسے امام اور پیش امام میں۔ یہ ہر کسی کو عالم دین کہتے اور سمجھتے ہیں۔ ملائیت اور مولویت ذہنیت ہے جو خود کُش کی طرح ہے

Raja Alam Zaib
سات سال لگتے ہیں مولوی بننے میں .اس کے بعد بندہ پوری زندگی لگالے دوبارہ انسان نہی بن سکتا

Safdar Hamadani
اب تو چھ ہفتے کے کریش کورس میں مولوی بن جاتا ہے

Safdar Hamadani
گھوڑے انسانوں سے بہتر ہیں کیونکہ ان میں کوئی گدھا پیدا نہیں ہوتا

Raja Alam Zaib
سر اس میں مولوی کا کو ئ کمال نہی ہم ٹکنالوجی اور ترقی کے جس مقام پے کھڑے ہیں یہ اسکے ثمرات میں سے ایک ثمر ہے

Safdar Hamadani
ایک فکری بات سنیں جو میں اپنی مجالس میں اکثر کہتا ہوں کہ اس دین مبین کی اس سے بڑھ کے مظلومت کیا ہو گی اس دین کا ماننے والا پی ایچ ڈی بھی تفیم دین کے لیئے میٹرک فیل مولوی کے پاس جاتا ہے اور خود پی ایچ ڈی ہونے کے باوجود دین کی پرائمری نہیں پڑھتا

Saahil Rajput
جن معاشروں نے دین اور سیاست کو الگ کر دیا وہاں مولوی عضو معطل ہو گیا ۔ دین فقط عبادت کا نام نہیں ۔ یہ تو ضابطہ حیات ھے ۔ مولوی اور مولویت سے بیزاری اصل میں مزہب کو عضو معطل بنا کر انسانی عقل ، شعور کی بنیادوں پر معاشرے کا قیام ھے ۔

Ansar Ahmed
Ansar Ahmed Moulviat Islam se shuru nahi hoti blk ye hindutva se sheru hokar yahudiat shintoism confusiousism isaeeyat ko cross kharab karti hui musalmano tak pohnchi. Mullahyat darasl Insano Mai shaitani Roop ka pakeeza naam hy. …iss Roop se guzre baghair aap achhey insan nahi ban saktey.

Saahil Rajput
ھآ ھا ھا ۔ ۔ پاشا صاحب ہم تو تحفظ مولویان پاکستان و اسلام تنظیم بنانے کا سوچ رھے ہیں ۔ مولوی سے میری مراد ہر وہ شخص ھے جو مزہب کو پھیلانے کرنے کیلیے اپنی توانائی لگاتا ھے ۔ مقصد مالی دنیاوی فواید ہوں یا عزت و مقام ۔ ان میں بھی رینکس ہیں جیسے فوج میں لانگری ، سپاہی صوبیدار ، کرنل جنرل ہوتے ہیں ۔ اسی طرح مولویوں میں چھوٹے درجے کا مولوی پھر جید علما کرام اور عالم ہوتے ہیں ۔ مزہب انہی عناصر سے پھلتا پھولتا ھے ۔ مولوی کم و بیش وہی بتاتا ھے جو مزہب میں لکھا ہوتا ھے ۔ جس کو ہم جاہل مولوی کہتے ہیں اس کے بتانے کا انداز ،بہت سخت گیر ہوتا ھے اور جس کو ہم بڑا عالم کہتے ہیں وہ ذرا اچھی پیشکش دیتا ھے۔ ملاوٹ کرکے جدید انسان کو قابل ہضم قسم کی چیزیں بتاتا ھے ۔ قافیے ملاتا ھے ۔ ہر دور میں جب انسانوں کو ماضی کے مزاہب کی باتیں اپنے دور سے ٹکراتی ہوی محسوس ہوتی ہیں تو وہ مولوی کو پنچنگ بیگ بنا دیتا ھے ۔ یہی وجہ ھے کہ ملبہ ہمیشہ مولوی پر پھینکا گیا اور مزہب خود کبھی مباحث کی میز پر نہ آ سکا ۔ ۔

Jamil Khan
محترم Safdar Hamadani
محترم Safdar Hamadani سر! میرے خیال میں تو مذہب کی کوئی بھی ایک صورت کو اٹل مان کر آگے بڑھا جائے گا تو فساد پیدا ہوگا، اس لیے کہ یہ ایک ہوہی نہیں سکتا۔ عرب کا اسلام ہمیشہ سے الگ رہا اور عجم کا الگ، جبکہ ہندوستان کا بالکل ہی مختلف…. مشرق بعید میں اسلام کی ان تینوں سے الگ صورت پائی جاتی ہے۔ اسی طرح مسیحی مذہب بھی ہر قوم میں مختلف صورتوں میں رائج ہے۔ جب سعودی عرب کا اسلام ہندوستان پر نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی تو تضادات اور فسادات کا سلسلہ شروع ہوجائے گا، یہی صورت ایران کے اسلام کو برصغیر میں لانے کی کوشش بھی پیدا کرے گی۔ چنانچہ مذہب کو اگر باقی رکھنا ہے تو پھر اس کو ریاست سے الگ کردیا جائے۔ ورنہ یہ کسی بڑی تباہی کے نتیجے میں دنیا سے نابود ہوجائے گا۔ جیسے کہ مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے۔ اگر یہ ریاست اور مذہب کو لازم و ملزوم سمجھنا چھوڑ دیں اور اسلام کی کسی ایک صورت پر اصرار نہ کریں تو باقی رہیں گے، ورنہ دنیا بھر میں جو ان پر تھو تھو ہورہی ہے، کل جوتے بھی پڑیں گے اور نسلی فسادات کا شکار بھی ہوسکتے ہیں، جنہیں سرمایہ پرست قوتیں مغرب کی نئی نسل کی فرسٹریشن دور کرنے کے لیے پیدا کرسکتی ہے اور اس کا نشانہ لامحالہ مسلمان ہی بنیں گے، اس لیے کہ ’’آبیل مجھے مار’’ ان کی دیرینہ عادت ہے جسے اقبال نے
مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
سے ملفوف کرکے بیان کیا ہے

Ansar Ahmed
Ansar Ahmed The conclusion and approach of Jamil Khan sahab appears to be pragmatic. Christinity is the best example of its survival and the peace among the sections.

Syed Raisul Hasan Rizvi
Syed Raisul Hasan Rizvi Soulat Sahib molviat kitnee bari bala hay is per to aap nay roshni daal dee, may terdeed ya tasdeeq k qabil khud ko mehsoos nahi kerta… Magar khuwahish hay kabhee dhaheriat per bhe koi khoaj karain… Alama Niaz Fatehpuri to Dhaheriat may bars muqaam rukhtay hain, Salman Rushdi aur Taslima Nasreen nay bhe inhee say istefaida kia hay…

Safdar Hamadani
راج پوت جی مجھ طالب علم کا مشورہ ہے کہ اب آپ تحفظ مولویان عالمی کی تنظیم بنا لیں اور خود اسکے بعد از حیات صدر بن جائیں
عالم دین کی جو تشریح سرکار نے فرمائی ہے اس پر آپ کی بیعت کو جی چاہتا ہے
ویسے سچ کہیں آپ نام بدل کر خود بھی ملاں مولوی تو نہیں کم از کم ذہنی طور پر

Saahil Rajput
افسوس یہ ھے میں جو کہنا چاہتا تھا وہ آپ سمجھ ہی نہیں پاے ۔ ۔ اور ذاتی حملہ کر دیا ۔ ۔ جناب میری ساری بحث کو غور سے پڑھیں ۔ ۔ مختصراً میرا رونا سارا یہ تھا کہ سیلز مینوں پر چیخنے چلانے کی بجاے سٹور کے مال کو چیک کیا جاے ۔ سیلز مین وہی بیچے گا جو مال موجود ہوگا ۔ ۔ باقی اگر ہماری باتوں کی وجہ سے کسی کی دل آزاری ہوی تو میری طرف سے کوی معزرت وغیرہ کچھ نہیں ۔ کیونکہ میں نے ایک ایشو پر بات کی ۔ کسی کی زات پر نہیں ۔

Safdar Hamadani
راج پوت جی کوئی ذاتی حملہ نہیں کیا ایک صائب اور مفت مشورہ دیا ہے
آپکی قطعی کسی قسم کی معذرت کی ضرورت نہیں اور یہی تو مولوی ذہنیت ہے
آپ کے ارشادات واقعی اگر میری سمجھ میں نہیں آئے تو اپنی کم علمی اور بے بساطی کا اعتراف ہے

Saahil Rajput
میں نے معزرت تو نہی کی ؟؟ پھر آپ نے غور سے نہی پڑھا ۔ ۔ ۔غورو فکر کریں جناب

Safdar Hamadani
یہ آپ ہی کا لکھ ہوا ہے ؟ باقی اگر ہماری باتوں کی وجہ سے کسی کی دل آزاری ہوی تو میری طرف سے کوی معزرت وغیرہ کچھ نہیں ۔

Saahil Rajput
خوش رہیں سر ۔ ۔ سلامتی ہو

Safdar Hamadani
آپ نے اب توجہ دلائی ہے تو ضرور غور و فکر کریں گے
اس نیکی کی خالق لوح و قلم جزا دے گا آپ کو

Safdar Hamadani
مولوی کے بارے میں شاعر انقلاب حضرت جوش ملیح آبادی علامہ اقبال اور بلھے شاہ کا کلام ضرور پڑھیں

ایک مولوی کی کہانی
حکیم الامت علامہ اقبال ( رح)
اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی
تیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانی
شہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کا
کرتے تھے ادب ان کا اعلالی و ادانی
کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوّف میں شریعت
جس طرح کہ الفاط میں مضمر ہوں معانی
لبریز مئے سے تھی دل کی صراحی
تھی تہ میں کہیں دُردِ خیال ھَمَہ دانی
کرتے تھی بیاں آپ کرامات کا اپنی
منظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانی
مدّت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرے
تھی رند سے زاھد کی ملاقات پرانی
حضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھا
اقبال کہ ہے قمریٔ شمشادِ معانی
پابندیٔ احکامِ شریعت میں ہے کیسا؟
گو شعر میں ہے رشکِ کلیم ھَمدَانی
سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا
ہے ایسا عقیدہ اثرِ فلسفہ دانی
ہے اس کی طبعیت میں تشیّعُ بھی ذرا سا
تفضیلِ علی(ع) ہم نے سُنی اس کی زبانی
سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخل
مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اُڑانی
کچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہیں ہے
عادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پُرانی
گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی
لیکن یہ سُنا اپنے مریدوں سے ہے میں نے
بے داغ ہے مانندِ سحر اس کی جوانی
مجموعۂ اضداد ہے اقبال نہیں ہے
دلِ دفترِ حکمت ہے، طبیعت خَفَقانی
رندی سے بھی آگاہ، شریعت سے بھی واقف
پوچھو جو تصوّف کی ، تو منصور کا ثانی
اس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کُھلتی
ہوگا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی
القصّہ بہت طول دیا وعظ کو اپنے
تادیر رہی آپ کی یہ نغز بیانی
اس شہر میں جو بات ہوِ، اڑ جاتی ہے سب میں
میں نے بھی سُنی اپنے احبّا کی زبانی
اک دن جو سرِ راہ ملے حضرتِ زاہد
پھر چھڑ گئی باتوں میں وہی بات پرانی
فرمایا، شکایت وہ محبّت کے سبب تھی
تھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانی
میں نے یہ کہا کوئی گلہ مجکو نہیں ہے
یہ آپ کا حق تھا زرہِ قربِ مکانی
خَم ہے سرِ تسلیم مرا آپ کے آگے
پیری ہے تواضع کے سبب میری جوانی
گر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقت
پیدا نہیں کچھ اس سے قصورِ ہمہ دانی
میں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناسا
گہرا ہے مرے بحرِِ خیالات کا پانی
مجھ کو بھی تمنّا ہے کہ اقبال کو دیکھوں
کی اس کی جدائی میں بہت اشک فشانی
اقبال بھی ”اقبال” سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں، واللہ نہیں ہے

صفدر ھمٰدانی

molvi1

SHARE

1 COMMENT

  1. یقین کیجئے ایسی بحثیں کئی اور صدیوں تک ہوتی رہیں گی اور لوگ مولوی اور عالم دین میں تمیز کرنا گناہ سمجھتا رہے گا ۔ لیجئے کل کی بات سنیئے۔ اپنی دوست شبانہ کی عیادت کو گئی ۔ ان کے شوہر نے انکشاف کیا مولانا ڈاکٹر شبیر نے اپنے قلعہ نما گھر کا افتتاح کرتے ہوئے خدا کے شکر کا بیان دیتے ہوئے فرمایا ہے سڈنی میں صرف تین قصاب ہیں جو حلال گوشت بیچ رہ ےہیں باقی سب جھٹکے کا ۔۔ اور جن صاحب کے نام تھے وہ ان کے بہترین دوستوں کے نام تھے ۔گذژتی بائیس برسوں سے سڈنی رہتے ہوئے اتنا انسان نہیں بدلا جتنا ہمارا دین اور مسلک ۔۔۔۔۔ ہمارے نوجوانوں میں اسلام پر بے اعتباری اور اسلام سے بیزاری دونوں کا جواب دہ یہ مولوی ہے جس کے آگے پی ایچ ڈی ” اذان ، عقیقہ ، نکاح اور جنازے ” کے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں ۔ اس طوق غلامی یعنی طوق مولوی کو اتارنے کے لیئےمسلمانوں کا ایک صدی اورچاہیئے ۔

    ڈاکٹر نگہت نسیم

LEAVE A REPLY