عراق کے جنوبی صوبہ بابل میں ایک پیٹرول اسٹیشن پر شیعہ زائرین کی بسوں کے درمیان داعش نے بارود سے بھرے ایک ٹرک کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے نتیجے میں اسّی افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

حملوں کا نشانہ بننے والی بسوں پر سوار شیعہ زائرین جنوبی شہر کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور دوسرے شہدائے کربلا کے چہلم میں شرکت کے بعد واپس آ رہے تھے۔داعش نے ایک بیان میں اس ٹرک بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

عراق کی مشترکہ آپریشنز کمانڈ ( جے او سی) نے بتایا ہے کہ بم حملے کا نشانہ بننے والے شیعہ زائرین میں ایرانیوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی اور وہ بھی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔بم دھماکے کے وقت پیٹرول اسٹیشن پر سات بسیں کھڑی تھیں۔

بم دھماکا دارالحکومت بغداد سے 120 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع گاؤں الشوملی میں پیٹرول اسٹیشن پر ہوا ہے۔یہ گاؤں کربلا سے قریباً 80 کلومیٹر دور واقع ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ پیٹرول اسٹیشن بغداد اور جنوبی شہر بصرہ کے درمیان موٹروے پر واقع ہے۔

پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ ان بسوں پر ایرانی ،بحرینی اور عراقی شیعہ زائرین سوار تھے۔ان کے علاوہ عراق کے جنوبی شہروں بصرہ اور ناصریہ سے تعلق رکھنے والے بیسیوں افراد بھی سوار تھے۔
واضح رہے کہ شہدائے کربلا کے چہلم میں ہرسال بیرون ممالک سے تعلق رکھنے والے شیعوں کی بڑی تعداد بھی شرکت کرتی ہے اور عراقی حکام کے مطابق اس سال قریباً تیس لاکھ ایرانیوں نے چہلم میں شرکت کی ہے اور ان میں سے بہت سے لوگوں نے گذشتہ سوموار کو کربلا میں چہلم کی رسوم کے خاتمے کے بعد مزید چند روز تک قیام کیا ہے۔

عراقی حکومت نے اس مرتبہ چہلم کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے اور کربلا اور اس کے پاس قریباً پچیس ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔اس موقع پر تشدد کا کوئی بڑا واقعہ تو نہیں پیش آیا تھا لیکن داعش نے چار روز کے بعد شیعہ زائرین پر ایک بڑا بم حملہ کر دیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY