اہل ِ طا ئف کا اسلام لانا ، انکے بت کد ے طا غیہ کا انہدام ۔ پہلا اسلامی حج حضرت ابو بکر(رض) کے زیر ِقیادت

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا بعد میں اعلان ِ برا ءت کے لیئے آنا۔

ہم گزشتہ قسط میں یہاں تک پہنچے تھے کہ اہلِ طا ئف یعنی بنو ثقیف کے وفد کے سا تھ بات چیت کر نے کے بعد حضو ر (ص) نے انہیں صرف ایک رعا یت دی کہ بت شکنی کے لیئے مدینہ سے کسی کو بھیجنے کا وعدہ فر ما یا۔کیونکہ وہ بت شکنی سے اس قدر خو ف زدہ تھے کہ سو چتے تھے کہ اگر انہو ں نے ڈھا نے کا سوچا بھی تو طا غیہ ہمیں تبا ہ اور بر با د کر دیگا۔ مگر ان کی یہ درخوا ست کہ نماز ان کے لئے ایک سال تک ملتوی رکھی جا ئے ۔یہ فر ما کر رد کردی کہ اس دین میں کو ئی بھلا ئی نہیں ہے جس میں نماز نہیں ہے ۔اس میں ان مسلما نوں کے لیئے سبق ہے جو کہ نما ز کے بغیر خو د کو مسلما ن کہلا تے ہو ئے نہیں تھکتے ۔لیکن امام احمد (رح) نے بہت سے مستند حوالوں کے سا تھ اس میں یہ اور اضا فہ کیا ہے کہ انہوں نے یہ بھی مطا لبہ کیا تھا کہ انہیں عشر یعنی دسواں حصہ ، زرا عتی پیدا وار میں سے دینے او رجہا د میں شا مل ہونے سے بھی معا ف رکھا جا ئے اور ہم پر عا مل بھی ہمیں میں سے مقرر کیا جا ئے ۔مگر یہاں بھی امام احمد (رح) نے لکھا ہے کہ حضو ر (ص) نے یہ کہہ کر ان کا نما ز نہ پڑھنے کا مطا لبہ یہ رد کر دیا کہ ”اس دین میں کو ئی بھلا ئی نہیں جس میں رکو ع نہیں ہے “۔ اس پر ابو داؤد (رح) نے یہ اضا فہ بھی کیا ہے کہ میں نے ابو داؤد طیا سی سے یہ سنا کہ وہ کہتے تھے جب میں نے بیعت کی تو میں نے حضرت جا بر (رض) سے بنو ثقیف کی بیعت کے با رے میں معلو م کیا تو انہو ں نے کہا کہ ہم نے حضو ر (ص) کو یہ فر ما تے سنا کہ پہلے یہ مسلما ن تو ہو لیں پھر دیکھنا یہ جنگ میں بھی شا مل ہو نگے اور عشر وغیرہ بھی دیں گے ۔ابن ِ اسحاق کے مطا بق جب وہ مسلما ن ہو گئے تو حضو ر (ص) نے ان ہی میں سے حضرت عثما ن (رض) بن ابو عا ص کو ان کا امیر مقرر کیا جو اسوقت ان میں سب سے زیا دہ کم سن تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے سا تھیوں کے مقا بلہ میں سب سے زیا دہ ذہین اوراسلام سمجھنے میں حریص تھے۔اس کی شہا دت حضرت ابو بکر (رض) نے بھی دی۔ وجہ یہ تھی کہ یہ ان کا طریقہ کا ر تھا کہ وہ جیسے ہی اپنا سبق یا د کر لیتے تو اپنے خیمہ سے نکل کر حضور (ص) کی خد مت ِ اقدس میں دو با رہ حا ضر ہو جا تے ۔اور اگر حضو ر (ص) محواستراحت ہو تے تو وہ حضرت ابو بکر (رض) کے پا س چلے جا تے اور ان سے سبق لیتے۔ان کی یہ ہی کیفیت رہی جب تک کہ وہ پو ری طر ح اسلام کو سمجھ نہیں گئے ۔ان کی اس ادا کی بنا پر حضو ر (ص) بھی ان سے بے حد محبت فر ما نے لگے تھے ۔چلتے ہو ئے انہیں حضور (ص) نے نصحیت فرما ئی اور فر ما یا کہ اے عثما ن نما ز میں اختصا ر سے کا م لینا تا کہ ( لو گو ں کو ز حمت نہ ہو ) اور اس کا اندا زہ ان میں کے کمزوروں کو دیکھ کر لگا نا ،کہ اس میں چھو ٹے بڑے کمزور اور ضرورت مند (سبھی قسم کے لو گ ہو نگے )۔مزید فر ما یا کہ تو ان پر اما م ہے اور کسی ایسے شخص کو مو ذن مقر ر کر لینا جو کہ اذان پر اجرت نہ لے ۔امام احمد (رح) نے بھی اس کو نقل کیا ہے انہو ں نے لکھا ہے کہ حضور (ص) نے فر ما یا کہ جب کو ئی شخص اکیلا نما ز پڑھ رہا ہو تو اس کی مر ضی کہ وہ جتنی لمبی چا ہے قرات پڑھے۔ مگر جب اما مت کر ے تو لو گوں کی سہولت کا خیال رکھے ،یعنی مختصر تلا وت کر ے ۔

یہا ں یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ لو گ سو چینے لگیں کہ حضور (ص) نے عجلت کے سا تھ نما ز پڑھنے کا حکم دیا ہے ) جو کہ دوسری حدیث سے غلط ثابت ہو جا تا ہے کہ حضور (ص) نے فر ما یا کہ ”نما ز میں چو ری سے بچو “ تو صحا بہ کرام (رض) نے پوچھا کہ حضور (ص) نما ز کی چو ری کیا ہے؟فر ما یا ” اس کے ارکا ن کھا جا نا“(یونہیں جلدی جلدی ادا کر نا ) لہذا نما ز میں جب کو ئی اما مت کر رہا ہوتو نہ تو غیر ضروری عجلت کرے۔ اور نہ اپنا علم اور تقویٰ ظا ہر کر نے کے لیئے بہت لمبی سو ر تیں اور طو یل قیام اور رکو ع وسجو د کرے یعنی ہر فعل کی طرح اسلام میں میا نی روی ضروری ہے۔امام احمد (رح) نے ان ہی حضرت عثما ن (رض) بن عا ص سے دو احا دیث اور بیا ن کی ہیں ایک میں فر ما یا کہ ۔ حضرت عثمان (رض) نے حضو ر (ص) سے شکا یت کی ایک دن میری نما ز اور قر آت کے درمیا ن شیطا ن حا ئل ہو گیا۔ تو حضور (ص)نے فر ما یا اس شیطا ن کا نا م حنزب ہے۔پس جب تو اسے محسو س کرے تو اس سے اللہ کی پنا ہ ما نگا کراور اپنی با ئیں طر ف تین مرتبہ تھو ک دیا کر ۔اور دوسری حدیث جو کہ مسلم اور احمد دو نوں (رح) نے بیا ن کی ہے ۔اس میں بیا ن کیا گیا ہے کہ حضرت عثما ن (رض) بن عاص نے اپنے جسم کے کسی حصہ میں درد کے با رے میں شکا یت کی۔ تو حضور (ص) نے فر ما یا کہ اس جگہ پر ہا تھ رکھ کر پہلے تین مر تبہ بسم اللہ اور سا ت با ر یہ دعا پڑھو ”آعوذ بعزة اللہ و قدرتہ من شر ما اجدو احاذر “ حضرت عثما ن (رض) بن عاص سے ہی بعض روایا ت میں منسوب ہے کہ ا نہوں نے اس پر عمل کیا تو ان کا درد جا تا رہا ۔پہلی حدیث کو بہت سے محد ثین نے حضرت عثما ن (ص) بن عفا ن سے منسو ب کیا ہے ۔ واللہ عالم۔ اس کے بعد حسب ِ وعدہ حضور (ص) نے ان کے سا تھ حضرت ابو سفیا ن بن حرب اور حضرت مغیرہ (رض) کو کر دیا کہ وہ جا کر طا غیہ کو منہدم کر دیں۔ جب وہ دو نوں قریب پہنچے توحضرت مغیرہ (رض) نےابو سفیان کو آگے کر نا چا ہا، انہیں ڈر ہو ا کہ کہیں ان کے سا تھ بھی وہاں کے لو گ وہی معا ملہ نہ کر یں جو کہ پہلے حضرت عروہ (رض) بن مسعود کے سا تھ کر چکے ہیں۔مگر ابو سفیان نے آگے بڑھنے سے انکا ر کر دیا اور وہ اپنے ما ل کے سا تھ بمقا م ذو الہرم ٹہر گئے ۔اس کے بعد مغیر ہ تنہا آگے بڑھے ۔مگر ان کا قبیلہ اس خیا ل سے ان کے چا روں طر ف کھڑا ہو گیا کہ اگر ان کو بھی عروہ بن مسعود کی طر ح نقصان پہنچا نے کی کو شش ہو تو وہ مزا حمت کر یں ۔یہاں یہ با ت قابل ِذکر ہے کہ اس وفد سے بھی پہلے دو اور اشخاص مدینہ بنو ثقیف میں سے پہنچے تھے وہ تھے حضرت عروہ (رض) بن مسعود کے بھا ئی ابو ملیح اور قارب جنہو ں نے عروہ بن مسعود کی شہادت کے بعد یہ طے کر لیا تھا کہ وہ بنو ثقیف سے کو ئی تعلق نہیں رکھیں گے۔لہذا وہ خدمتِ اقدس (ص) میں حاضر ہو ئے اور انہو ں نے حضور (ص) کے ہا تھ پر بیعت کر کے اسلا م قبول کر لیا ۔ جب انہیں حضور (ص) نے یہ اختیا ر دیا کہ وہ مد ینہ میں جس سے چا ہیں اپنی مواخت کر لیں۔ تو انہو ں نے کہا کہ ہما رے لیئے اللہ اور اس کا رسول (ص)کا فی ہے ۔پھر فرمایا ”تم اپنے ما موں ابوسفیان بن حرب کو دوست بنا لو “ تو انہو ں نے اس پر رضامندی ظا ہر کی مگر حضو ر (ص) سے ایک در خواست کی کہ انکا بھا ئی اور وہ مقروض ہیں کیونکہ حضرت عروہ (رض) بن مسعود مقروض تھے لہذا ان کے قرضے کا مطا لبہ لو گ ان ہی سے کر تے ہیں۔ اگر کبھی طا غیہ کو ڈھا یا جائے اور جو ما ل وہا ں سے ملے ۔اس میں سے ان کا اور ان کے بھا ئی عروہ (رح) بن مسعود کا قر ضہ ادا کر دیا جا ئے ۔ حضور (ص) نے وعدہ فر ما لیا لہذا جب طا غیہ ڈھا یا گیا تو سب ما ل جمع کر کے حضرت مغیرہ (رض) نے حضرت ابو سفیان بن حر ب کے سپرد کر دیا اور انہوں نے اس سے حضرت عروہ (رض) بن مسعود اور ان کے بھا ئیو ں کا قرضہ ادا کر دیا ،جیسا کہ خیال تھا کہ طا غیہ کے انہدام پر اہلِ ِ قبیلہ مزا حمت کر یں گے۔ وہ غلط ثا بت ہو ا سو ائے چند بر ہنہ سر خواتین کے اس کی مدافعت کے لیئے کو ئی نہیں آیا۔کیو نکہ اب حالا ت کا ادراک بنوثقیف نے کر لیا تھا۔ جیسا کہ ہم پہلے ہی عرض کر چکے ہیں ۔کہ اب وہ اپنے اندر تما م عرب سے بہ یک وقت لڑنے کی جرا ءت نہیں پا تے تھے۔ کیونکہ یہ وہ عرب نہیں تھا جو ٹکڑیوں میں بٹا ہوا تھا اب یہ دوسرا عرب تھا جو رسول (ص) اللہ کی قیادت میں متحد ہو چکا تھا رسول (ص) اللہ سے جنگ عا لم ِ عرب سے جنگ تھی ۔

پہلا اسلامی حج:

فتح مکہ کے بعد بھی چو نکہ ابھی تک مکہ کفا ر سے خالی نہیںہوا تھا لہذا بہت سے قوانین اور حج کے شعا ئر وہی رہے اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ تھی کہ بہت سے قبا ئل سے معا ہدے تھے ،جو ابھی تک ختم نہیں ہو ئے تھے۔ دوسرے اللہ سبحانہ تعا لیٰ نے خو د کو ئی ہدا یت جا ری نہیں فر ما ئی تھی۔ کہ اس سلسلہ میں کیا کیا جائے۔ اور حضو ر کا طریقہ کا ر بھی شدت پسندی نہ تھا لہذا جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں ۔کہ گز شتہ سال حج کفا ر نے بھی اپنے طریقہ ہی سے ادا کیا مگر سن ٩ ھ میں صحیح معنو ں میں پہلا اسلامی حج ہوا ۔حضو ر نے ذیقعدہ میں حضرت ابو بکر کو امیر ِ حج بنا کر مکہ روانہ کیا، درایں اثنا سو رہ برا ءت کا نز ول ہوا ۔لہذاحضو ر نے حضرت علی کو بلا کر فو را ً ان کے پیچھے روانہ کیا تا کہ وہ وہاں جا کر برا ءت کا اعلان کر یں۔ انہو ں نے ابو بکر کو راستہ میں ہی جا لیا اور ا ن کو حضرت ابو بکر نے آتے دیکھا تو ازراہ ِ تجسس وہ ٹھہر گئے، اور پوچھا کہ قا ئد بن کر آئے ہو یا مقتدی ؟انہو ں نے فر ما یا کہ آپ بدستور امیر ِ حج رہیںگے ۔ میں صرف حضور کا پیغا م پڑھ کر سنا و¿نگا ۔لہذا پھر دو نوں حضرا ت مکہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جہاں کفا ر حسب ِ سا بق اپنے طر یقہ سے حج کی تیا ریاں کر رہے

شمس جیلانی

SHARE

LEAVE A REPLY