پاکستان موٹر وے کا افتتاح

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے 26 / نومبر 1997ء کو پاکستان موٹر وے کا افتتاح کیا اور اس شاہراہ پر اسلام آباد سے لاہور تک سفر کیا۔

اس موٹر وے کی تعمیر کے لئے پاکستان نے کوریا کی فرم ڈائیوو کارپوریشن سے 7 جنوری 1992ء کو ایک معاہدہ کیا تھا جس کے بعد 11/ جنوری 1992ء میاں محمد نواز شریف نے ملک کی پہلی ٹرانس پاکستان موٹر وے کی تعمیر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھاکہ ’’شاہراہیں محض تارکول کی لکیریں نہیں ہوتیں بلکہ یہ کسی قوم اور تہذیب کی فلاح اور فروغ کے لئے خوش بختی کی لکیریں ہوتی ہیں۔ لاہور کو اسلام آباد سے ملانے والی پاکستان موٹر وے بھی ہمارے لئے ان شاء اللہ خوش حالی کی ایسی ہی لکیر ثابت ہوگی‘‘۔ وزیرعظم نے بتایا کہ یہ ملکی تاریخ میں شاہراہوں کا پہلا منصوبہ ہے جسے وفاقی حکومت نے اپنے ہاتھوں میں لیا، وزیراعظم نے اس منصوبے کو ٹرانس پاکستان موٹر وے کا نام دیا۔

اس موقع پر بتایا گیا کہ 339 کلو میٹر طویل اس موٹر وے پر ہر چالیس کلو میٹر کے بعد ایک ایسا کمپلیکس بھی تعمیرکیا جائے گا جس میں ایک پیٹرول پمپ، ایک ہوٹل، دس بستروں کا ایک اسپتال اور ایک مسجد شامل ہوگی۔ اس کے علاوہ اس شاہراہ کے ساتھ سات مقامات پر صنعتی علاقے قائم کئے جائیں گے۔ابتدائی معاہدے کے مطابق اس شاہراہ کو اپریل 1995ء تک مکمل ہوجانا تھا مگر 1993ء میں میاں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد اس موٹر وے کی تعمیر کا کام التوا میں پڑ گیا۔ 1997ء میں جب میاں نواز شریف دوبارہ وزیراعظم بنے تو انہوں نے سب سے پہلے اس موٹر وے کی تعمیر پر توجہ دی اور چند ماہ میں اس کی تعمیر مکمل کرواکے اس کا افتتاح بھی کردیا۔

موٹر وے کے اس پہلے حصے کو ایم ون کا نام دیا گیا۔ موٹر وے کا یہ حصہ 339 کلو میٹر طویل تھا۔

——————————————————————————————————————————-
نواب آف کالا باغ کا قتل

مغربی پاکستان کے سابق گورنر نواب آف کالا باغ‘ ملک امیر محمد خان کو 26 / نومبر 1967ء کو پراسرار طور پر قتل کردیا گیا۔
نواب آف کالا باغ‘ ایوب خان کی حکومت کے ایک اہم ستون تھے۔ وہ ذاتی زندگی میں ایک ایماندار‘ کھرے اور سادہ مزاج انسان تھے‘ مگر ان کی انتظامیہ پر گرفت اتنی ہی سخت تھی‘ وہ پرانے فیوڈل لارڈز کا ایک مثالی نمونہ تھے۔

نواب آف کالا باغ‘ آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے وہ پرانے پارلیمنٹیرین تھے اور مغربی پاکستان کے گورنر بننے سے پہلے پی آئی ڈی سی اور خوراک و زراعت کمیشن کے چیئرمین رہ چکے تھے۔

یکم جون 1960ء کو انہوں نے مغربی پاکستان کے گورنر کا عہدہ سنبھالا۔ اس عہدے پر وہ 18 / ستمبر 1966ء تک فائز رہے۔ 1962ء اور 1965ء کے انتخابات میں ایوب خان کی کامیابی میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے رعب اور دبدبے کا یہ عالم تھا کہ وہ خود مسلم لیگ کے رکن نہیں تھے لیکن کسی بھی نشست کے لیے مسلم لیگ کا ٹکٹ ان کی مرضی کے بغیر جاری نہیں ہوسکتا تھا۔

گورنری سے مستعفی ہونے کے بعد وہ اپنی جاگیر پر واپس چلے گئے جہاں 26 / نومبر 1967ء کو انہیں قتل کردیا گیا۔ اس قتل کا الزام ان کے بیٹے ملک اسد پر لگایا گیا مگر اس الزام کو ثابت نہ کیا جاسکا ۔نواب آف کالا باغ کی میت کو جس کسمپرسی سے دفن کیا گیا وہ عبرت کا نشان تھا وہ شخص جس کا رعب اور دبدبہ پورے مغربی پاکستان پر چلتا تھا‘ اس کے جنازے میں گنتی کے صرف چند افراد موجود تھے۔
——————————————————————————————————————————-
ٹیسٹ کرکٹ میں عمر اکمل کی سنچری

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ڈینیڈن کے مقام پر کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے ٹیسٹ کرکٹر عمر اکمل نے 26 / نومبر 2009ء کو 129 رنز اسکور کرکے اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں سنچری اسکور کرنے والے گیارہویں ٹیسٹ کرکٹر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ عمر اکمل سے قبل یہ اعزاز حاصل کرنے والے دیگر کھلاڑیوں میں خالد عباد اللہ، جاوید میاں داد، سلیم ملک، محمد وسیم، علی نقوی، اظہر محمود، یونس خان، توفیق عمر، یاسر حمید اور فواد عالم شامل تھے۔ عمر اکمل، فواد عالم کے بعد پاکستان کے دوسرے کھلاڑی تھے جنہوں نے یہ کارنامہ بیرون ملک انجام دیا تھا۔

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY