حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کی وفات

قطب الاقطاب حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ نے 27 / نومبر 1235ء کو وفات پائی۔
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ 1187 ء میں ترکستان کے قصبے اوش میں پیدا ہوئے تھے۔ حسینی سادات میں سے تھے۔ لڑکپن ہی میں بغداد آگئے اور خواجہ معین الدین چشتی سے بیعت کی۔ انہوں نے آپ کو اہل دہلی کی رشد و ہدایت کے لیے مامور کیا۔ چنانچہ آپ ہندوستان آگئے اور دہلی میں قیام فرما ہوئے۔آپ سے دو کتابیں بھی منسوب ہیں جن میں ایک آپ کا دیوان اور دوسری فوائد السالکین جو تصوف کے موضوع پر ہے۔ آپ کے مریدوں میں خواجہ فرید الدین شکر گنج اور سلطان شمس الدین التمش خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ آپ کا مزار دہلی میں مرجع خلائق ہے۔
دہلی کے مشہور قطب مینار کا نام بھی آپ کے نام پر رکھا گیا ہے۔
——————————————————————–
مولانا ظفر علی خان کی وفات

مولانا ظفر علی خان نے 27 / نومبر 1956ء کو وفات پائی۔
مولانا ظفر علی خان 1873ء میں ضلع سیالکوٹ کے ایک چھوٹے سے گائوں کوٹ میرتھ میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے علی گڑھ سے گریجویشن کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب علی گڑھ اہل علم سے بھرا ہوا تھا۔ سرسید، شبلی، حالی سبھی اس سے وابستہ تھے اس فضا نے ظفر علی خان کے فکری ارتقا میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔1909ء میں مولانا ظفر علی خان وطن واپس لوٹ آئے۔ اسی زمانے میں ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے اپنے وطن کرم آباد سے ایک ہفت روزہ اخبار زمیندار کے نام سے جاری کیا۔والد کی وفات کے بعد مولانا نے زمیندار کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔1911ء میں وہ زمیندار کو لے کر لاہور آگئے۔ یہاں انہیں ایک بہت بڑا ادبی حلقہ میسر آیا اور یہیں سے ظفر علی خان کی ادبی اور صحافیانہ زندگی اپنے نقطہ ٔ عروج کو پہنچی۔
مولانا ظفر علی خان آزادی تحریر و تقریر کے بہت بڑے مجاہد تھے۔ ان کے اخبار زمیندار کی ضمانت کئی مرتبہ ضبط ہوئی۔کئی مرتبہ اخبار بھی بند ہوا۔ متعدد مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں مگر مولانا کے ثبات قدم میں لغزش نہیں آئی۔ قیام پاکستان کے بعد مولانا کی سیاست میں ایک ٹہرائو پیدا ہوگیا۔
مولانا ظفر علی خان 27 نومبر 1956ء کو انتقال کر گئے۔
————————————————————–
بیگم جہاں آراء شاہنواز کی وفات

جدوجہد آزادی کی خاتون رہنما اور آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی خاتون رکن، بیگم جہاں آراء شاہنواز کی تاریخ پیدائش 7 / اپریل 1896ء ہے۔بیگم جہاں آراء شاہنواز لاہور میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد سر میاں محمد شفیع نہ صرف آل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں شامل تھے بلکہ اس تنظیم کا نام بھی انہی نے تجویز کیا تھا۔
بیگم جہاں آراء شاہنواز کو آل انڈیا مسلم لیگ کی پہلی خاتون رکن بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ انہوں نے تینوں گول میز کانفرنسوں میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 1935ء میں انہوں نے لیگ آف نیشنز کے اجلاس اور مزدوروں کی بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ 1937ء اور 1946ء میں وہ پنجاب اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں، 1946ء میں قائداعظم نے انہیں مسلم لیگ کا مؤقف بیان کرنے کے لئے مرزا ابوالحسن اصفہانی کی معیت میں امریکا روانہ کیا۔ 1947ء میں وہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں، 1955ء سے 1961ء تک وہ مغربی پاکستان اسمبلی کی رکن بھی رہیں۔
بیگم جہاں آراء شاہ نواز نے اپنے والد کے حوالے سے ایک کتاب Father And Daughter تحریر کی اس کے علاوہ ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ حسن آراء کے نام سے اشاعت پذیر ہوا۔
بیگم جہاں آراء شاہنواز 27 / نومبر 1979ء کو لاہور میں وفات پاگئیں اور لاہور ہی میں باغبان پورہ میں اپنے خاندانی قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔
———————————————————-

سلیم احمد کی پیدائش

اردو زبان میں ایسے شاعر اور ادیب کم ہی گزرے ہیں جنہوں نے خود کو ادب کے لئے اس طرح وقف کردیا ہو کہ کبھی کبھی دھوکا ہونے لگتا ہو کہ وہ گوشت پوست سے بنے ہوئے انسان نہیں بلکہ مجسمہ ٔ خیال ہوں۔ ایسے ہی ایک شاعر اور ادیب سلیم احمد بھی تھے۔
سلیم احمد27 / نومبر1927ء کو ضلع بارہ بنکی کے ایک قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ وہیں سے میٹرک کیا اور میٹرک کے بعد میرٹھ کالج میں داخل ہوئے جہاں ان کے تعلقات پروفیسر کرار حسین، محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی سے استوار ہوئے جو دم آخر تک قائم رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے، یہیں تعلیم مکمل کی اور 1950ء میں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے۔
جناب سلیم احمد نے 1944ء میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔ ان کی شاعری باوجود منفرد لب و لہجے اور نئے اسلوب و مضامین کے کڑے اعتراضات کا نشانہ بنی۔
سلیم احمد کی وجۂ شناخت ان کے بے لاگ اور کھرے تنقیدی مضامین تھے جن کی کاٹ اور جن کی صداقت اور راست بازی کے دوست ہی نہیں دشمن بھی گرویدہ تھے۔
سلیم احمد ایک بہت اچھے ڈرامہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لئے متعدد ڈرامے تحریر کئے، اخبارات میں کالم نگاری بھی کی اورپاکستان کی پہلی جاسوسی فلم ’’راز کی کہانی‘‘ بھی تحریر کی جس پرانہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔
٭یکم ستمبر 1983ء کو سلیم احمد کراچی میں وفات پاگئے اور پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
سلیم احمد کے شعری مجموعوں میں بیاض، اکائی، چراغ نیم شب اور مشرق اور تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ادبی اقدار، نئی نظم اور پورا آدمی، غالب کون؟ ادھوری جدیدیت، اقبال ایک شاعر، محمد حسن عسکری آدمی یا انسان شامل ہیں۔

ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے:

اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا
روشنی کے ساتھ رہئے روشنی بن جایئے

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY