مجدد الف ثانی کی وفات

حضرت مجدد الف ثانی کی تاریخ وفات 30 / نومبر 1624ء ہے

آپ کا اصل نام شیخ احمد، کنیت ابوالبرکات اور لقب بدر الدین تھا۔ آپ 26/ جون 1564ء کو سرہند شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوا ر سے اورمزید دینی تعلیم اپنے عہد کے مشہور علما سے حاصل کی پھر خواجہ باقی باللہ کے حلقہ ادارت میں داخل ہوگئے اور ان کے خلیفہ بن گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مغل بادشاہ جلال الدین اکبر نے دین الٰہی کے نام سے ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالی تھی جو مختلف مذاہب کے مختلف النوع عقائد کا مجموعہ تھا۔ آپ نے اکبر اعظم کے کفر و الحاد کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا اور جہانگیر کے عہد میں پابند سلاسل بھی ہوئے۔ علامہ اقبال نے آپ کو ہند میں سرمایہ ملت کا نگہبان کا خطاب دیا تھا۔
———————————
محمد دین تاثیر کی وفات

اردو کے ایک معروف ادیب‘ شاعر‘ نقاد اورماہر تعلیم ڈاکٹر محمد دین تاثیر کی تاریخ پیدائش 28 / فروری 1902ء ہے۔
ڈاکٹر تاثیرقصبہ اجنالہ امرتسر میں پیدا ہوئے۔ ایم اے تک تعلیم لاہور سے حاصل کی اور پھر کیمبرج سے انگریزی میں پی ایچ ڈی کیا‘ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ ڈاکٹر تاثیر ایک طویل عرصے تک درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ وفات کے وقت وہ اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل تھے۔
وہ ایک اچھے غزل گو تھے۔ ان کا ایک مشہور شعر ہے:
داور حشر! مرا نامہ اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
ڈاکٹر تاثیر اردو میں آزاد نظم کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ان کی شاعری کا مجموعہ آتش کدہ اور نثری مجموعے مقالات تاثیر اور نثر تاثیر کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔
ڈاکٹر محمد دین تاثیر نے 30 / نومبر 1950ء کو وفات پائی۔
—————————————————————–
اصغر گونڈوی کی وفات

اردو کے ایک معروف شاعر اصغر گونڈوی نے 30 / نومبر 1936ء کو وفات پائی۔
اصغر گوندوی یکم مارچ 1884ء کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام اصغر حسین تھا۔ آبائی وطن گورکھ پور تھا تاہم گونڈہ میں مستقل قیام کے باعث گوندوی کہلانے لگے۔
وہ جدید اردو غزل کے معماروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا شمار ان غزل گو شعرا میں ہوتا جنہوں نے تغزل میں تصوف کو سمو کر اپنا ایک منفرد رنگ پیدا کیا۔ان کے کلام کے دو مجموعے نشاط روح اور سرود زندگی اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔ ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
آلام روزگار کو آساں بنا دیا
جو غم ملا اسے غم جاناں بنا دیا
……٭٭٭……
وہ شورشیں نظام جہاں جن کے دم سے ہے
جب مختصر کیا انہیں انساں بنا دیا
……٭٭٭……
یہاں کوتاہی ذوق عمل ہے خود گرفتاری
جہاں بازو سمٹتے ہیں وہیں صیاد ہوتا ہے
……٭٭٭……
چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں، زندگی دشوار ہوجائے
……٭٭٭……
سو بار ترا دامن ہاتھوں میں مرے آیا
جب آنکھ کھلی، دیکھا، اپنا ہی گریباں ہے
……٭٭٭……
سنتا ہوں بڑے غور سے افسانہ ہستی
کچھ خواب ہے، کچھ اصل ہے، کچھ طرز ادا ہے
—————————————————-
شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی وفات

جدوجہد آزادی کے مشہور رہنما شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی تاریخ وفات 30 / نومبر 1920ء ہے۔
مولانا محمود الحسن 1851ء میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم تھے اور پھر بعدازاں انہیں اس عظیم درس گاہ کا صدر مدرس بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ انہوں نے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے خلافت حاصل کی تھی اور وہ خود سید انور شاہ کاشمیری، مولانا عبیداللہ سندھی، مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ، مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا مناظر احسن گیلانی جیسے جید علما کے استاد رہے تھے۔
مولانا محمود الحسن نے ہندوستان کو آزاد کروانے کے لیے ایک منظم جدوجہد چلانے کا منصوبہ تیار کیا تھا مگر اس منصوبے کا راز افشا ہونے کے بعد انہیں مالٹا میں اسیری کے ایام بسر کرنا پڑے۔ 8 / جون 1920ء کو مولانا وطن واپس آئے اور اسی برس 30 نومبر کو ان کا انتقال ہوگیا۔
—————————————————————————————
استاد شرافت علی خان کی وفات

30 / نومبر 2009ء کو شام چوراسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے مشہور موسیقار اور گلوکار استاد شرافت علی خان لاہور میں وفات پاگئے۔
استاد شرافت علی خان 1955ء میں ملتان میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نامور موسیقار استاد سلامت علی خان کے فرزند اور شفقت سلامت علی خان کے بڑے بھائی تھے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کیا تھا اور اپنے والد سے ٹھمری، کافی، خیال اور غزل گائیکی کی تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے دنیا کے متعدد ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور بیرون ملک کئی جامعات میں کلاسیکی موسیقی پر لیکچر دیئے تھے۔ انہوں نے اپنے والد استاد سلامت علی خان کے ساتھ بھی سنگت کی تھی اور اپنے بھائیوں سخاوت علی خان اور لطافت علی خان کے ساتھ گائیکی کا مظاہرہ کرتے رہے تھے۔
استاد شرافت علی خان کو حکومت افغانستان نے تمغہ ہنر اور حکومت ہندوستان نے سرسوتی کے خطاب سے سرفراز کیا تھا۔استاد شرافت علی خان لاہور میں حضرت چراغ شاہ ولی کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY