لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کو پاک ترک انٹرنیشنل اسکول کے تُرک اساتذہ کو ملک بدر کرنے سے روکتے ہوئے وزارت داخلہ سے معاملے کے حوالے سے جواب طلب کرلیا۔

جسٹس شمس محمود مرزا نے عبوری حکم مِہمت علی سیکَر اور پاک ترک ایجوکیشنل فاؤنڈیشن سے وابستہ دیگر اساتذہ کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا۔

ایڈووکیٹ عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’درخواست گزار پاکستان میں ’این جی او کٹیگری‘ کے تحت جاری کیے گئے ویزوں کی بنیاد پر قانونی طور پر مقیم ہیں اور ان کے خلاف ملک کے قانون کی خلاف ورزی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وزارت داخلہ نے درخواست گزاروں کے ویزے میں بغیر کسی وجہ کے توسیع نہ کرتے ہوئے انہیں اور ترک شہریت رکھنے والے فاؤنڈیشن کے دیگر ملازمین کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’چند درخواست گزاروں اور ان کے اہلخانہ کے افراد کے ویزے کی میعاد جنوری تک ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں بھی ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔‘

عاصمہ جہانگیر نے مزید دلائل دیئے کہ ’وزارت داخلہ ترکی کی مقامی سیاست پر حکمرانی کرنے والی مختلف تنظیموں کی حمایت میں، فاؤنڈیشن پر بغیر کسی رکاوٹ کے قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’حکومت نے کمپنیز آرڈیننس 2016 نافذ کرکے فاؤنڈیشن کی رجسٹریشن بھی منسوخ کردی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کا یہ اقدام بالواسطہ طور پر بغیر کسی قانونی وجہ اور ڈائریکٹرز کی رضامندی کے فاؤنڈیشن کے وجود کو ختم کرنے مترادف ہے۔‘

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ ’پشاور ہائی کورٹ نے پہلے ہی حکم امتناع جاری کرتے ہوئے حکومت کو پاک ترک اسکولز کے غیر ملکی حکام کو ملک بدر کرنے سے روک دیا ہے۔‘

انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ درخواست گزاروں اور ان کے اہلخانہ کو، معاملے پر جواب دینے کے لیے درکار وقت دیئے جانے تک ملک سے نہ نکالا جائے، جبکہ عدالت وزارت داخلہ کو فاؤنڈیشن کے ترک ممبران کو ملک سے نکالنے سے روکے۔

جسٹس شمس محمود مرزا نے حکومت کو پاک ترک اسکولز کے غیر ملکی حکام کو ملک بدر کرنے سمیت کوئی بھی جابرانہ اقدام اٹھانے سے روکتے ہوئے وزارت داخلہ سے اس حوالے سے 17 جنوری تک تفصیلی جواب طلب کرلیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY